حالات مزید خراب ہونے سے پہلے

حالات مزید خراب ہونے سے پہلے

  

وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ عالمی ادارہئ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجاویز پر عمل ضروری نہیں دو ہفتے لاک ڈاؤن اور دو ہفتے نرمی کی تجاویز زیر غور نہیں حالات خراب ہوئے تو مکمل لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے۔ عوام کے لئے جو بہتر ہے وہ فیصلے کرتے ہیں کورونا کے ساتھ زندگی کو بھی چلانا ہے، ہم نے سوچی سمجھی حکمتِ عملی اپنائی ڈبلیو ایچ او کے وبا کے خلاف اقدامات کو سراہتے ہیں لیکن حکومتوں کو جامع تصویر کو سامنے رکھنا ہوتا ہے خطروں کی تشخیص کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں پاکستان میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے این سی او سی میں روزانہ ماہرین کے ساتھ مل کر کورونا کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتِ حال کا جائزہ لیا جاتا ہے صوبوں کے ساتھ مل کر سفارشات تیار کی جاتی ہیں عوام کو وبا سے بچانے کے لئے ہر ممکن فیصلے کئے ہم لاک ڈاؤن نرمی کے ساتھ ایس او پیز پر عمل پیرا ہیں کورونا کے ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی کے لئے ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور قرنطینہ کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے نام جو خط 7 جون کو لکھا گیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے جب یکم مئی کو لاک ڈاؤن نرم کیا تو وہ ان چھ شرائط میں سے ایک بھی پوری نہیں کرتا تھا جو نرمی کے لئے ضروری ہیں 22 مئی کو تو لاک ڈاؤن تقریباً ختم ہی کر دیا گیا ڈاکٹر ظفر مرزا نے یہ بھی کہا کہ ایس او پیز کے ساتھ لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطلب غلط سمجھا گیا اور عوام لاپروائی کے انداز میں باہر نکل آئے پنجاب کے گورنر تو آج تک کہہ رہے ہیں کہ لوگ اس انداز میں باہر نکلے جیسے کورونا ختم ہو گیا ہو اور وہ اس کے خاتمے کا جشن منا رہے ہوں اس سے یہ اندازہ لگانا تو مشکل نہیں کہ عوام نے ضابطوں کی پروا نہیں کی وجہ اس کی کچھ بھی رہی ہو لیکن آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کی جو اپیلیں کی جاتی ہیں ان کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا، شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اب شرح اموات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ہر گھنٹے میں چار اموات ہو رہی ہیں، فی ملین ہلاکتیں بھی خطے میں سب سے زیادہ ہو گئی ہیں بدھ کو ایک ہی دن میں 6365 نئے مریض رجسٹر ہوئے جو ریکارڈ ہے ویسے گزشتہ دس دن سے اوسطاً روزانہ پانچ ہزار نئے مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی کہا تھا کہ روزانہ پچاس ہزار لوگوں کا ٹیسٹ ہونا چاہئے لیکن پنجاب میں زیادہ سے زیادہ نو ہزار ٹیسٹ ہو رہے ہیں پازیٹو نتیجے کی شرح واضح کرتی ہے کہ اگر پچاس ہزار ٹیسٹ ہوں تو یہ تعداد بہت بڑھ جائے گی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ اس وقت کورونا وائرس کی وبا بڑی تشویشناک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ 30 فیصد لوگوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں جس سے کیرئر کو وائرس کا پتہ ہی نہیں چلتا انہوں نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ وینٹی لیٹر سے کورونا وائرس کے 99 فیصد مریضوں کی اموات ہو رہی ہیں طبی عملے کی 65 فیصد خواتین پر ان کے خاندان کی طرف سے کام نہ کرنے کا پریشر ہے۔ آئی سی یو میں ایک شخص کا انتقال ہوتا ہے تو پورے وارڈ والے پریشان ہو جاتے ہیں۔

پنجاب کا صوبائی دارالحکومت لاہور اس وقت کورونا کا مرکز بن چکا ہے ایک ہی دن میں 1408 نئے کیس سامنے آئے اور 7 مریض جاں بحق ہو گئے، مریضوں کی مجموعی تعداد ساڑھے اکیس ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے لاہور میں اموات کی مجموعی تعداد بھی 290 ہے اس سے معاملات کی سنگینی تو ظاہر ہے لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حکام نے اپنی ساری امیدیں اس بات سے وابستہ کرلی ہیں کہ عوام ایس او پیز پر عمل کریں گے لیکن یہ توقعات پوری نہیں ہو رہیں اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور یہ خام خیالی ترک کر دی جائے کہ عوام از خود احتیاط کریں گے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں ہوتا تو پھر مسئلے کا حل کیا ہے؟ ڈبلیو ایچ او نے دو ہفتے مکمل لاک ڈاؤن اور دو ہفتے نرمی کی جو تجویز دی ہے حکومت فی الحال اس پر غور کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی اور معاونِ خصوصی اعلان کر رہے ہیں کہ حالات خراب ہوئے تو لاک ڈاؤن سخت کر دیا جائے گا اوپر کی سطور میں ہم نے جو اعداد و شمار ماہرین کے حوالے سے پیش کئے ہیں کیا وہ سخت اقدام کے متقاضی نہیں ہیں؟ اور سخت لاک ڈاؤن کا آپشن استعمال کرنے کے لئے اگر حالات کے مزید خراب ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے تو خدشہ ہے اس وقت تک حالات بالکل ہی قابو سے باہر نہ ہو جائیں اس لئے یہ ضروری ہے کہ اگر ڈبلیو ایچ او کی تجاویز لائق اعتنا نہیں ہیں تو اپنے ڈاکٹروں کی رائے پر توجہ فرمالی جائے جو خود بھی بڑی تعداد میں وائرس کا شکار ہو رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ ابھی سے زیادہ سخت اقدامات نہ کئے گئے تو وائرس کا پھیلاؤ قابو سے باہر ہو جائے گا اور مریضوں کو سنبھالنے والا کوئی نہ ہوگا ہسپتال تو پہلے ہی بھر چکے ہیں اور اب تو ایسی شکایات بھی منظرِ عام پر آنے لگی ہیں کہ ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے والوں کی بات ہی توجہ سے نہیں سنی جاتی اور ہسپتالوں سے رجوع کرنے والے بھی اظہار مایوسی کرتے پائے گئے ہیں پریشانی کے عالم میں متاثرین سے مبالغہ آرائی کی توقع تو ہوتی ہے لیکن تواتر سے ایسی اطلاعات ملنے لگیں تو یہ صداقت سے بالکل خالی نہیں ہو سکتیں۔ اس لئے درست طرزِ عمل یہی ہے کہ حالات کو مزید خرابی سے پہلے سنبھالنے کی کوشش کی جائے۔

ان تشویشناک حالات میں بعض طبقات کو اپنے مطالبات منوانے کے لئے مظاہروں کی سوجھی ہے شاید یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جو کاروبار کھلے وہ دباؤ کے تحت کھلے، اس لئے مظاہروں میں کیا مضائقہ ہے۔ کراچی میں پرائیویٹ سکول کھولنے کے لئے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جہاں سماجی فاصلے کا کوئی لحاظ نہیں تھا حکومت اگر کسی دباؤ میں آکر سکول کھولنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس کے منفی اثرات کہاں کہاں تک پھیل جائیں گے معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنا کسی طرح بھی روا نہیں برطانیہ میں سکول کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن والدین کے احتجاج پر واپس لینا پڑا، برطانیہ میں اب نئے کیسز اور اموات بہت کم ہو گئی ہیں اور تدریجاً کاروبار بھی کھولے جا رہے ہیں سکول کھولنے کا وقت شاید وہاں بھی نہیں آیا لیکن ہم نہ جانے کیوں اس ضمن میں جلدی کے خواہاں ہیں دعویٰ تو یہی ہے کہ بچوں کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے لیکن پس پردہ کاروباری مقاصد کار فرما نظر آتے ہیں گویا بچوں کی زندگیوں سے زیادہ کاروبار اور وقتی معاشی مفاد عزیز ہے یہ تجارتی طرزِ فکر لائق تحسین نہیں، ساری توجہ کورونا کی وبا کے آگے بند باندھنے پر مرکوز رہنی چاہئے لاپروائی سست روی یا جذباتی سوچ کے مظاہرے خطرناک ہو سکتے ہیں حالات مزید خراب ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے بہتر ہے یہ جتنے خراب ہو چکے ہیں انہی کی اصلاح پر توجہ کی جائے مزید خرابی کا انتظار نہ کیا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -