کورونا تو کورونا، بات گڈ گورننس کی!

کورونا تو کورونا، بات گڈ گورننس کی!
کورونا تو کورونا، بات گڈ گورننس کی!

  

گھر میں رہتے ہوئے یوں محسوس ہونے لگا جیسے گھٹنے کام نہیں کر رہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو شاید چلنا پھرنا تکلیف دہ ہو جائے۔کورونا کی وبا کے حوالے سے احتیاط کے لئے جو پروپیگنڈہ ہوا، اس نے ہم جیسے بوڑھے حضرات (اگرچہ بظاہر نظر نہیں آتا ہوں) کو مجبور کر دیا کہ وہ خود ساختہ قرنطینہ اختیار کرلیں۔ دفتر کی طرف سے بھی یہی ہدایت کی گئی کہ بہتر ہو گا اگر گھر پررہ کر کام کر لیا جائے، خصوصاً محترم مجیب الرحمن شامی زیادہ فکر مند تھے اور ہیں ان کا کہنا ہے کہ بعد میں پریشان ہونے سے بہتر عمل یہی ہے کہ احتیاط کر لی جائے۔چنانچہ ہم بھی اسی نصیحت پر عمل پیرا ہوئے اور گھر ہی کو دفتر بنا لیا، اس وجہ سے معمول بھی تبدیل کرنا پڑا، اب ہم صبح ناشتہ کے بعد کام شروع کر دیتے ہیں اور اس مشکل میں ہمارے لئے برکت یہ ہے کہ ہم لیپ ٹاپ کے استعمال سے بھی واقف ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے ہمارے صاحبزادے عاصم چودھری کا تعاون ہے جو آئی ٹی میں ہی گریجوایشن کئے ہوئے ہے جبکہ ان کے صاحبزادے اور ہمارے پوتے محمد اشعر چودھری کی وجہ سے معمولات کچھ کے کچھ ہیں کہ صاحبزادہ جاگتے ہی ہمارے کمرے کی طرف بھاگتا اور ہمارے بال پوائنٹ اٹھا کر لے جاتا ہے۔

جب یہ واپس لیں تو لیپ ٹاپ کو چھیڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اس لئے ہم نے بھی تمام معمولات کو اسی حوالے سے ترتیب دے لیا ہے لیکن کیا کریں اس سب کے باوجود مستقل گھر کے اندر رہنا اب پریشان کرنے لگا ہے، چنانچہ تھوڑی تبدیلی کے لئے آج صبح نماز کے بعد ماسک لگا اور سینی ٹائزر سے اچھی طرح ہاتھ بازو صاف کرکے نکل ہی پڑے کہ عرصہ سے سیر صبح کا سلسلہ متروک ہے حالانکہ ہم اتنے عادی ہو چکے تھے کہ ناغہ کرنا دشوار تھا، صبح دم موسم بھی قدرے مہربان ہی تھا اس لئے چکر لگاتے ہوئے پریشانی نہ ہوئی۔ باہر نکلے تو اندازہ ہوا کہ بہت کم لوگ سیر کے لئے آئے ہیں اور ان میں سے 98فیصد حضرات ماسک والے تھے، زیادہ چہل پہل نہ ہونے کی ایک وجہ شائد مساجد میں رونق کی کمی بھی ہے کہ پہلے لوگ نماز فجر کی ادائیگی کے لئے آتے تو بعد میں سیر بھی کر لیتے تھے، بہرحال گھوم پھر کر پارک میں آئے تو رانا حنیف اور کنور عبدالماجد بھی موجود تھے، کچھ لمحوں بعد منور بیگ مرزا بھی آ گئے اور ایک ننھی سی محفل بن گئی۔ ماسک لگائے ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بات چیت کچھ عجیب محسوس ہو رہی تھی، بہرحال موضوع سخن کورونا سے ہوتا ہوا، گو رننس کی طرف آ گیا، ابتدا ہی میں یہ طے پا گیا کہ دنیا والے پکے دنیا دار ہو گئے اور اس وبا کی طرف سے پوری دنیا کے نظام کو الٹ پلٹ کر دینے کے باوجود کوئی تو بہ کرنے کے لئے تیار نہیں، بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے بھی کہا ہے کہ کورونا سے نہیں،

اللہ سے ڈرو توبہ کرو کہ اللہ غفور الرحیم اور معاف کر دینے والا ہے۔ چودھری صاحب کی اس بات کی تائید تو بھرپور کی گئی تاہم ساتھ ہی دکھ کا اظہار کیا گیا کہ ہمارے ملک میں جو اسلامی جمہوریہ ہے نہ تو لوگ کورونا سے ڈرے اور نہ ہی ان کو اللہ کا خوف محسوس ہوا کہ لچھن وہی پرانے ہیں، مہنگائی میں کمی نہیں، ملاوٹ اور چور بازاری جاری ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے کوئی نصیحت نہیں پکڑی، بدستور سیاسی لڑائی، محاذ آرائی اور کشمکش میں مصروف ہیں، کسی کو پروا نہیں کہ ”گڈ گورننس“ تو دور کی بات یہاں دور دور گورننس ہی نہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری رٹ اپنا آپ خود کھو چکی ہے۔ مرزا منور بیگ نے یاد دلایا کہ انہوں نے مئی کے اوئل ہی میں نشاندہی کی تھی کہ پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے حکومتی پالیسی درست نہیں اور یہاں پریشانی ہو گی۔ انہوں نے حالیہ قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ وزیراعظم صاحب نے کارروائی کا حکم دیا تو یہ کس کے خلاف اور ذمہ دار کو تلاش کرنے کی بات بھی عجیب ہے کہ یہ تو کھلا راز ہے کہ اس ساری پریشانی کے ذمہ دار وہ صاحب ہیں، جنہوں نے اپریل کے آخری عشرے سے پٹرولیم کی درآمد بند کرائی کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے استعمال میں دوتہائی سے زیادہ کمی آ گئی ہے۔ یہ صاحب بغل میں موجود ہیں اس کے باوجود ذمہ دار کی تلاش ہے اور پکڑ دھکڑ ایسے حضرات کی شروع ہے جنہوں نے اپنا نقصان کم کرنے کی کوشش کی حاضرین صرف اس ایک مسئلہ پر ہی نہیں، چینی، آٹے اور اشیاء ضرورت و خوردنی کی بات بھی کررہے تھے کہ ہر روز حکم دیا جاتا ہے پکڑ لو، جانے نہ پائے، مہنگائی کم کرو، رپورٹ پیش کرو، اور ہوتا ہواتا کچھ بھی نہیں، یہ کیسی گورننس ہے کہ ہر روز وزیراعظم اور وزیراعلیٰ حکم دیں اور یہ حکم کٹی پتنگ کی طرح ہوا میں اڑتا نظر آئے۔

ہمارے اپنے خیال میں اگر حکومت اس کا نام ہے کہ آپ ہر روز دس دس میٹنگیں کریں اور حکم جاری کرتے چلے جائیں اور ان احکام پر عمل نہ ہو تو پھر اتنی محنت اور تگ و دو کا کیا فائدہ، آپ نے لاک ڈاؤن غریبوں کا ”درد“ محسوس کرتے ہوئے نرم کیا اور لوگوں نے اسے ختم کر دیا، لیکن اس امر کا جواب کون دے گا کہ سرکاری عملہ اپنے فرائض کیوں سر انجام نہیں دے رہا، کیا کوئی ان سے پوچھے گا کہ جراثیم سپرے کہاں کیا؟ کیا لاہور جیسے شہر میں مال روڈ کے بعد صرف جیل روڈ رہ جاتی ہے، جہاں کبھی کبھار سپرے کیا جائے، حالانکہ اصل ضرورت تو ان بستیوں اور علاقوں میں ہے۔ جو بقول وزیراعظم ”غریبوں“ اور دیہاڑی داروں کی ہیں۔ سب حاضرین کا خیال یہ تھا ”عمل سے زندگی بنتی ہے“ باتوں اور ہدائتوں سے نہیں؟

قارئین سے معذرت کہ آج سوئی ادھر گھوم گئی اور اس موضوع سے بھی پورا انصاف نہیں ہوا، حالانکہ ارادہ تھا کہ کورونا سے متاثرین میں سیاستدانوں اور اشرافیہ کے بعض افراد کے متاثر ہونے پر بات کریں گے۔ خصوصاً شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگ زیب کے بعد احسن اقبال کے قرنطینہ ہونے کی اطلاع کے بعد سوشل میڈیا پر اظہار خیال کے حوالے سے کچھ لکھیں گے، لیکن ایسا نہ ہوا، بلکہ ہم نے تو فرزند راولپنڈی کے خود ساختہ قرنطینہ پر بھی بات نہیں کی، انشاء اللہ اگلی نشست میں اسی پر بات کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -