نیب پر لاک ڈاؤن؟

نیب پر لاک ڈاؤن؟
نیب پر لاک ڈاؤن؟

  

شہباز شریف کے گھر پر چھاپہ ایک ایسے ماحول میں جب کورونا کا عفریت منہ کھولے بچوں، جوانوں،بوڑھوں کو نگل رہا ہے، غربت کی سیاہ چادر لوگوں کے سانس روک رہی ہے۔ ملک کے عوام نے ایسا ماحول اور ایسے منظر کبھی نہ دیکھے تھے، کرپشن نے بلاشبہ اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے،لیکن کرپشن کے بغیر دُنیا میں کسی بھی جمہوریت کا تصور مشکل ہے، خاص طور پر تیسری دُنیا کے ممالک جاپان اور کوریا جیسے صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی جمہوریت بھی اس الزام سے پاک نہیں رہی ہے،کرپشن کے خاتمے کا جذبہ اپنی جگہ قابل ِ تحسین،لیکن گزشتہ دو سال میں اس کے منفی نتائج پر بھی غور ضروری ہے۔ریاست کا وہ کون سا ادارہ ہے،جو اس وبا سے پاک ہے، تیسری دُنیا کے ممالک میں کرپشن سب سے بڑا المیہ ہے، جس کے خاتمے کی خواہش تو موجود ہے،لیکن اس کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ دُنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں ملیریا،ٹائیفائیڈ، ہیضہ، طاعون، ٹی بی اور پولیو ختم کر دیئے گئے ہیں،لیکن ان ممالک میں کرپشن کی وبا ختم نہیں ہو سکی۔برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں سیاسی منظر نامے پر اگرچہ یہ کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے، لیکن اس کا مکمل خاتمہ وہاں بھی ابھی خواب ہے تو کیا پاکستان جیسے ملک میں اس وبا کے خاتمے کے لئے ایسی جدوجہد کی ضرورت ہے کہ پورا معاشرہ معطل کر دیا جائے۔ حالیہ چینی اور آٹا سکینڈل نے گزشتہ دو برس کی تحریک کو کس قدر کُہر آلود کیا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔شہباز شریف، نواز شریف، حمزہ شہباز، آصف علی زرداری، خورشید شاہ اور فریال تالپور تو پس منظر میں چلے گئے اور اُن کی جگہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار نے لے لی ہے۔

وجہ صاف ظاہر ہے، منی لانڈرنگ، آشیانہ ہاؤسنگ اور بجلی کے منصوبوں کی جگہ ہر غریب گھر کی زندگی، چینی اور آٹے نے لے لی ہے۔ آپ خود سوچیں چینی اور آٹا عوام کی زندگی کے قریب ہے یا آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور لندن کے بنکوں میں پڑی منی لانڈرنگ کی دولت، غریب عوام نے لندن کے کسی بنک کا تو نام ہی نہ سنا ہو گا، لیکن بھوک کے لئے اور بچے کے دودھ کے لئے آٹے اور چینی کی ضرورت ہر وقت موجود ہے۔ چیز وہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے جو زندگی کے لئے بروقت ضرورت کی ہو، جو جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کی ضمانت بنتی ہے۔ابتدائی لاک ڈاؤن نے کورونا کی تباہ کاری میں آہستہ روی قائم کی اور اب نرم لاک ڈاؤن نے تیزی سے پاکستانی عوام کو زمین بوس کرنا شروع کر دیا ہے۔ایک طرف بازار کھل رہے، رونق بحال ہو رہی اور دوسری طرف قبرستان میں گرمی ئ بازار کا سماں ہے۔ہر قریہ اور کونے سے چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔ بڑھتے ہوئے اور کم ہوتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نیب کو بھی اگر شامل کر لیا جاتا تو کیا حرج تھا۔ وزیراعظم کی اتحادی جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور اُن کے عم زاد سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی بھی نیب کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں داد رسی کے لئے پہنچ گئے اور ان کا موقف بھی یہ تھا کہ نیب کئی عشرے قبل کے معاملات پر سیاست دانوں کو خوفزدہ کرنے میں مصروف ہے۔ یہ صورت حال ملک میں موجود انتہائی پریشان کن حالات کے لئے مزید پریشانیاں پیدا کر سکتی ہے۔نیب کو جو اختیارات حاصل ہیں انہیں کسی ڈھنگ سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔نیب کا تعلق کرپشن کے معاملات سے ہے،

نہ کہ اسے محض سیاست دانوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے اپنا وجود منوانا۔ یہی تو وہ الزام ہے جو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں بشمول حکمران جماعت کے چند حلقے دہرا رہے ہیں۔ کورونا ایمرجنسی میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے باہم عمل سے ممکن ہے، جنگ صرف بیرونی ہی نہیں، بعض اوقات ملک کی اندرونی صورت حال قومی زندگی کے لئے جنگ سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے،جس طرح جنگ کے دِنوں میں کی سیاسی قوتیں اپنے اُدھار کسی آنے والے پُرامن وقت کے لئے بچا رکھتی ہیں۔ا س وقت پاکستان کے بیس کروڑ عوام کی زندگی خطرات کا شکار ہے اور یہ وقت ملک کی حکمران اور مخالف سیاسی قوتوں کے لئے ایک سا ہے،دونوں عوام سے اپنی قوت حاصل کرتی ہیں۔ اگر قوت کمزور ہو گی تو سیاسی قوتیں نڈھال ہو جائیں گی اس قوت کو تقسیم کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دینی چاہئے۔ اگر ملک میں ہر ادارے پر لاک ڈاؤن ہے تو براہِ کرم وزیراعظم کو نیب کو بھی لاک ڈاؤن میں لانا چاہئے۔ یہ وقت کا تقاضہ ہے اس سے حکومت مضبوط ہو گی اور کورونا سے لڑائی بھی ہر طرف سے قوت اور حمایت کے حصول کے بعد سرخرو ہو گی، ماڈل ٹاؤن میں ہونے والا کھیل حکومت کے حق میں نہیں جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -