شہروں کی بندش فطرت انسانی کے خلاف جنگ

شہروں کی بندش فطرت انسانی کے خلاف جنگ
شہروں کی بندش فطرت انسانی کے خلاف جنگ

  

"ھاں ھاں! چین میں کرونا مولوی لے کر گئے تھے,اٹلی کے قبرستان مولوی نے بھرے ہیں۔ اور امریکہ میں لاکھوں اموات کا سبب امام مسجد ہے کہ لوگ مساجد سے کرو نا لا کر یہودیوں کو اس سے تباہ کریں۔ ارے مودی کی اولاد! کیوں نہیں کہتے کہ کرونا کی افزائش مساجد میں ہوتی ہے لہذا بابری مسجد کی طرح ہر مسجد ہی ڈھا دی جائے۔" یہ وہ ٹکڑا ہے جو میں نے فیس بک میں سے دو مناظر افراد میں سے ایک کی تحریر سے لیا ہے. آپ سب نے بھی سماجی رابطوں پر یہ انداز جگہ جگہ دیکھا ہوگا. مجھے تو کرونے سے جتنا خوف آتا ہے (اور واقعی آتا ہے, احتیاط کرنا چاہیے, خودکو بچانا چاہیے) اس سے کہیں زیادہ مسرت اور آسودگی ہوتی ہے کہ اس نے بہت سے اسلام پسندوں کے چہرے پر سجا غازہ، روڑ اور مشاطہ کی تمام محنت کو ایک لمحاتی کرشمے سے تحلیل کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ لوگ جو فریضہ اقامت دین کے نعرے پر زندگی گزارتے تھے، جو حب رسول کو زندگی کا مقصد قرار دیتے تھے اور جن کے نزدیک اسلام زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے، وہ اور دیگر متعدد اسلام پسندوں کا سرخی, دنداسہ آن واحد میں غائب ہو چکا ہے۔

اسلامیات کے متجدد پروفیسروں، اپنے شعبے میں ناکام لیکن اسلام کو تختہ مشق بنانے والوں اور جنہوں نے آج تو بندش مساجد کو مقصد حیات بنایا ہوا ہے لیکن جو کل تک اسلام کو ہر معاملے میں رہنما دین قرار دیتے تھے، ان سے پوچھئے کہ کراچی میں کرونا کے شکار ڈاکٹر فرقان کی بوڑھی بیوہ نے ناتواں ہاتھوں سے اپنے شوہر کو کس مشقت سے ایمبولینس میں روتے ہوئے ڈالا اور لوگ تھے کہ کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔کیوں؟ آپ معالجین اور متجدد دین کے پھیلائے خوف اور ہیجان کے منحوس سائے کی یہ ہلکی سی ایک جھلک ہے۔

معالجین کا کام علاج کرنا اور مریضوں کو حوصلہ دینا ہوتا ہے۔ یہی ہم نے زندگی بھر دیکھا سنا پڑھا ہے۔ موجودہ بحران میں ان لوگوں نے ہیجان اورخوف و ہراس پھیلانے میں جو کردار ادا کیا ہے، مجھے تو وہ طبی راہنمائی کی بجائے دشمن ملک کے پراپیگنڈے کے زیادہ قریب نظر آیا۔حد تو یہ ہے کہ اسلام پسند معالجین کی تنظیم پیما (PIMA) نے خوف پھیلانے اور مساجد کی بندش کی تحریک میں دوسروں سے ایک قدم آگے کردار ادا کیا.ان لوگوں نے خاموشی سے حکام کو سفارشات اور مثبت اقدامات تجویز کرنے کی بجائے کیمرے کی آنکھ اوراخباری بیانات کے ذریعے لوگوں کو وہمی اور ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو اب بھی اس کا احساس تک نہیں ہے۔

بیوی کے ایثار اور قربانی کا امتحان تب شروع ہوتا ہے جب شوہر تنگ دستی اور غربت کا شکار ہوجائے۔ سپا ہی کی جواں مردی اور شجاعت کا کمرہ امتحان میدان جنگ ہوا کرتا ہے۔ اب یہ زمرہ بھی بے نقاب ہوگیا ہے۔ وہ جس کی کئی شکلیں اور مختلف رنگ ویسے تو اسلام اسلام کا ورد کرتے ہیں لیکن کرونے نے انہیں بے نقاب کرکے بتا دیا ہے کہ یہ اسلام اسلام کا ورد نہیں، یہ تو آب حیات، آب حیات کی مالا جپ رہے ہیں۔ وہ لوگ تو مساجد کی بندش اور شعائر اسلام کے بارے میں قدرے احتیاط سے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں جن کی عمومی شناخت دین بیزار اور بے دین کی سی ہے لیکن یہ متجدد پروفیسر اور کچا پکا دینی علم رکھنے والے لوگ کتب فقہ سے اپنی پسند کے دلائل یوں نکال لا رہے ہیں گویا زندگی ہی ان کا مقصد اول ہے، 'وہ جی! مقاصد شریعت میں حفظ نفس بھی شامل ہے'۔ میں شاید یہ بھی مان لوں لیکن میں نے کسی ایک بدبخت کی تحریر میں توبہ، رجوع الی اللہ، استغفار،صدقہ کی ترغیب اورانفاق فی سبیل اللہ کا کوئی ہلکا سا اشارہ تک نہیں دیکھا۔تو یہ کون لوگ ہیں؟آئیے دیکھتے ہیں:

مسلمانوں نے کالج کی بری کیا راہ پکڑی ہے

وہی تو اک ٹھکانا ہے وہی اندھے کی لکڑی ہے

کالج یامغربی نظام تعلیم کو اکبر الہ آبادی اندھے کی لکڑی قرار دیتے ہیں۔ لکڑی کی لاٹھی جو رواں شاہراہ حیات پر تو کچھ رہنمائی کر دیتی ہے لیکن کسی درندے، گزند ے، مضر چوپائے اور دیگر بلاؤں سے یہ لاٹھی ایک معمولی حد تک ہی بچا سکتی ہے۔ یہ جدید تعلیم یافتہ لوگ، یہ اعلی تعلیم یافتہ متجدد پروفیسر، یہ پیما کے ڈاکٹر آج تک اندھے کی لاٹھی یعنی کالج کے سہارے ٹھک ٹھک کر کے بس چل ہی رہے تھے۔ ادھر کرو نا نامی درندے کا سامنا کیا ہوا، بچاؤ بچاؤ کا ورد ان کی زبان سے جاری ہو گیا۔ لاٹھی نے بھی اندھے کو کبھی کسی درندے سے بچایا ہے؟ دوسری طرف ہمارے اپنے ایک ہی ادارے,مقدس ادارے یعنی دینی مدارس اور مساجد کے ادارے کے سو فیصد افراد آپ کو ہر جگہ سینہ تانے کھڑے مل جائیں گے. کیوں؟ کالج کے تعلیم یافتہ معززین کے طعنے سننے کے لیے! طعنہ زن افراد سے گزارش ہے کہ کالج سے حاصل تعلیم سے سر پر جمے جھاڑ جھنگاڑ کو صاف کرکے ذرا سوچ لیں کہ جن علماء اور مساجد پر آپ لوگ حملے کر رہے ہیں، وہ انبیاء کے وارث اور اللہ کا گھر ہیں۔

ضمنا یاد آیا، ہمارے عالمی سطح کے نمبر ون ادارے کا کوئی اتا پتا؟ میں نے تو اس کے کسی ایک فرد کو ذاتی یا اجتماعی حیثیت میں کسی کی مدد امداد کرتے نہیں دیکھا سنا پڑھا۔ تلاش گمشدہ! صاحبو! ٹھٹھیرے کو سنار نہ سمجھ لیا کرو۔ اب آپ عالمی ادارہ صحت اور دیگر قومی طبی اداروں کے کرونا سے متعلق اصولوں کو لاگو کرنے کے لئے اداروں کی فہرست بنائیں۔ یہ اصول ان اداروں پر لاگو کرتے جائیں نتائج خود نکال لیں۔ میرا چیلنج ہے کہ تمام سرکاری اداروں، تمام نجی کمپنیوں، تمام تجارتی اداروں منڈیوں بازاروں اور ہجوم والی تمام جگہوں کے مقابلے میں ہماری مساجد اور مدارس بڑے فرق کے ساتھ بہتر انداز میں ان عالمی اصولوں پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف وزیراعظم بھی کر چکے ہیں۔ مساجد اور علماء کے خلاف اب بھی کمربستہ متجدد دین، استبدادی حکومتوں کے وکیل،یوٹیوب پر لائک کے بھکاری مولوی آخر چاہتے کیا ہیں؟

اس کا جواب بڑا ہی دلچسپ اور مختصر ہے۔ اپنے باطن کا اظہار! جو انسان چھپانا چاہے بھی تو نہیں چھپا سکتا۔ سید مودودی رحمہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ مجھے کسی کی مختصر سی تحریر مل جائے تو میں اس کی تمام شخصیت کا ظاہر و باطن بیان کرسکتا ہوں۔ اسٹیٹسٹکس کے کسی کہنہ مشق ماہر (جو فنی باریکیاں سمجھتا ہو محض پروفیسر ڈاکٹر نہ ہو) کے سامنے کوئی دو تحریریں دس دیگر تحریروں میں چپکے سے گڈ مڈ کر کے اسے کہیں کہ وہ وہی دو تحریر نکالے۔ وہ ماہر وہی دو تحریریں چھانٹ کر الگ کر دے گا۔ قارئین کرام ماہرینِ نفسیات کا فن تحلیل نفسی(Psycho analysis) بھی اس سے کچھ بڑھ کر نہیں ہے۔ آپ بھی تحریک بندش مساجد کے ان عہدے داروں کا ذہن ان کی باتوں اور تحریروں سے پڑھ سکتے ہیں۔ کالج کی تعلیم نے لوگوں کی مت مار کر رکھ دی ہے۔عقل پر پردے ڈال دیے ہیں۔تو کیا یہ کالج اور جامعات ہماری خانقاہیں ہیں جہاں تصوف اور تعلق باللہ کی تعلیم دی جاتی ہے؟ نتائج آپ خود نکالئے۔ کالج اور جامعات کی تعلیم سے ہمیں وہی کچھ حاصل ہوا ہے جو ان اداروں کی جڑوں میں استعمار نے رکھا ہوا ہے۔ اس برصغیر پاک و ہند میں ہم مسلمانوں کا صرف ایک ادارہ اپنا ہے: مساجد اور دینی مدارس کا نظام اور بس!

آپ ذرا شہروں کی بندش کی بات! ذرائع ابلاغ میں قد کاٹھ کے لوگ لیکن عوام کے مسائل سے مطلقا لاتعلق افراد اسے 'بندش بمقابلہ بھوک' اور 'بندش بمقابلہ زندگی' قرار دیتے ہیں. آٹھ جون کے جنگ میں ایک معزز کالم نگار اور اینکر پرسن نے لکھا: "پچھلے دو تین ماہ میں مجھے اپنے ارد گرد کوئی ایک غریب بھی بھوک سے مرتے دکھائی نہیں دیا" جب آدمی کا ارد گرد گھر سے جیو کا دفتر، وہاں سے اسلام آباد کلب اور پھر پارلیمانی راہداریاں اقتدار کی غلام گردشیں ہوں تو ان جگہوں پر غریب کہاں مرتے دکھائی دیں گے؟ گویا موصوف اخباری رپورٹیں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر بھی نظر نہیں رکھتے۔ صاحب! امیر ترین ترقی یافتہ ممالک بھی شہروں کی بندش برداشت نہیں کر پائے۔ اور نہ یہ بندش انسانی فطرت میں جگہ بنا سکتی ہے۔بھلا بتائیے، گھروں میں مقید اور موت کے خوف سے دوچار امریکی اور یورپی لوگ ایک سیاہ فام کی غیر انسانی ہلاکت پر کرونے کے خوف کو نظر انداز کرکے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کیوں دیوانہ وار گھروں سے نکل آئے؟ کہاں گیا کرونے کا خوف؟ ان کے تو لاکھوں افراد مر چکے ہیں۔ ان کے قبرستان تو لاشوں سے اٹے پڑے ہیں۔ وہ لوگ کیوں جان ہتھیلی پر رکھ کر ہجوم کی شکل میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کیا ان کے ہاں کروناختم ہوگیا ہے؟ احتیاطی تدابیر اپنی جگہ،لیکن مان لیجئے کہ سماجی فاصلہ اور مکمل شہری بندش انسانی فطرت سے کھلی جنگ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ شہروں کی بندش تو قارون کا خزانہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ سرکاری افسران اور لاکھوں میں تنخواہیں لینے والے نجی شعبے کے یہ لوگ ذرا اپنی تنخواہیں چھوڑ کر بے روزگار یومیہ مزدوروں کے ساتھ آ کھڑے ہوں تو 'مکمل بندش بمقابلہ زندگی' پر سوچا جا سکتا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے ریاستی حکام نے سویڈن کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس اسلوب میں ہمارا جسمانی دفاعی نظام باہمی میل جول سے کرونا کا مقابلہ خود بخود کرتا رہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گلیوں بازاروں میں گھومنے پھرنے والے عام لوگوں میں کرونا سے اموات کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ سروے کرا لیں، گھروں میں چھپے، انسانوں سے لاتعلق اور ہر شے کو سینیٹائز کرنے والے دراصل فطرت سے جنگ کرکے اپنے جسمانی دفاعی نظام کو تباہ کر چکے ہوتے ہیں۔ اموات کا بہت بڑا تناسب انہی لوگوں پر مشتمل ہے۔ کرونا کا شکار زیادہ تر افراد یہی لوگ ہیں۔ یہی بات جنوبی افریقہ کے ایک انتہائی سینئر ڈاکٹر نثار برکی نے کرونے کے شروع ہی میں مجھے بتا دی تھی۔" شہزاد بھائی! حج کے موقع پر مجھے اس پر سوچنے اور پڑھنے کا موقع ملاکہ معلوم نہیں کن کن امراض کے شکار افراد کا سانس ہمارے پھیپھڑوں میں جاتا ہے اور ہمیں کچھ نہیں ہوتا، پاکستان کو بالآخر سویڈن کا اسلوب اپنانا پڑے گا۔" یہ نکتہ سویڈن تو سمجھ چکا ہے۔ پتا نہیں،تحریک بندش مساجد والے کیوں نہیں سمجھتے۔ بس مساجد بند ہونا چاہئیں۔

مزید :

رائے -کالم -