پیارے کپتان جی ضد چھوڑ دیں

پیارے کپتان جی ضد چھوڑ دیں
پیارے کپتان جی ضد چھوڑ دیں

  

ہمارے محبوب کپتان کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ جب بھوک سے لوگ مرنے لگیں گے تو اردگرد سے انہیں بچانے والے پہنچ جائیں گے، لیکن کورونا سے مرنے والوں کے تو کوئی نزدیک بھی نہیں جا سکتا، یہ تھیوری اب بڑی فرسودہ لگنے لگی ہے کہ لاک ڈاؤن کیا تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ اسی تھیوری کو بنیاد بنا کر جو غلطیاں کی گئیں ان کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ روزانہ پانچ چھ ہزار کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایک سو سے زائد اموات روزانہ کا معمول بن گئی ہیں۔ لوگ لٹ رہے ہیں، تڑپ رہے ہیں، دھکے کھا رہے ہیں، انہیں کہیں جگہ مل رہی ہے اور نہ علاج معالجہ ہو رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے پہلے چار ممالک میں آ گیا ہے، جہاں کورونا سے نمٹنے کے لئے بدترین انتظامات کئے گئے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو کورونا کے حوالے سے خطرناک ترین ملک قرار دے دیا ہے۔ یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ پاکستان میں دو ہفتے کے لئے سخت لاک ڈاؤن کیا جائے، مگر اس تجویر کو ہمارے کپتان نے رد کر دیا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں دیکھا گیا کہ حکومت نے ہتھیار پھینک دیئے ہوں اور سب کچھ عوام پر چھوڑ دیا ہو کہ وہ اس وبا سے بچنے کا انتظام خود کریں۔

کیا پوری قوم کو خوف میں دھکیل کر ملک چلایا جا سکتا ہے؟ کیا نفسیاتی مریض بن جانے والی قوم بحران سے نکل سکتی ہے۔ آج حالات کی سنگینی کو دیکھ کر خود عوام یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں اس بلا سے بچانے کے لئے لاک ڈاؤن کیا جائے، جن کے پیارے ان کے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہیں، ان کے لئے تو اس سے بڑی آفت کوئی نہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک ایک واضح پالیسی اختیار کرکے کورونا کو شکست دے چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں جشن منایا جا رہا ہے کہ وہاں کورونا کا ایک مریض بھی نہیں رہا۔ ہم جس ضرب تقسیم میں الجھ گئے ہیں، اس سے تو شاید ساری زندگی نہ نکل سکیں۔ اب تو لوگ یہ سوال بھی کرنے لگے ہیں کہ آخر حکومت کا کورونا کے پھیلاؤ سے کیا مفاد وابستہ ہے۔ کیوں یہ بیانیہ اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مریض اور اموات اب بھی دنیا کے مقابلے میں کم ہیں۔ کیوں ایسے ڈھیلے ڈھالے ایس او پیز نافذ کئے گئے ہیں، جن کا زمین پر کوئی اثر ہے نہ گزر۔ کہیں سے کوئی ایسا شائبہ نہیں ابھرتا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں کورونا وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔

عجیب مخمصہ ہے کہ جب عوام کورونا کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھے تو حکومت نے سنجیدہ فیصلے کئے، لاک ڈاؤن بھی کیا اور پابندیاں بھی لگائیں۔ اب جبکہ لوگوں کے اردگرد، گلی محلوں سے لاشیں اٹھ رہی ہیں تو انہیں یقین آ گیا ہے کہ کورونا ایک ہلاکت خیز وبا ہے۔ پھر مرے کو مار ے شاہ مدار والی صورت حال ہسپتالوں نے پیدا کر دی ہے، مظفر گڑھ میں طیب اردگان ہسپتال کورونا مریضوں کے لئے ایک بہت بڑی علاج گاہ تھا۔ ملتان، ڈی جی خان،حتیٰ کہ بہاولپور کے کورونا مریض بھی وہاں بھیجے جاتے تھے۔ کل وہاں بھی انتظامیہ نے بورڈ پر لکھ کر لگا دیا کہ ہسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے مزید جگہ موجود نہیں۔ ملتان کے سب سے بڑے ہسپتال نشتر میں بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں، سفارش پر وارڈ اور آئی سی یو میں داخلہ ملتا ہے۔

کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے بھی ایسی ہی خبریں آ رہی ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کا بھی یہی حال ہے۔ جھوٹ اتنا بولا جا رہا ہے کہ جتنا بولا جا سکتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کی وزارئے صحت کی باتیں سنو تو لگتا ہے ابھی ہسپتالوں میں مریض آنا ہی شروع نہیں ہوئے اور وارڈ خالی پڑے ہیں، حالانکہ زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔ سب سے زیادہ جھوٹ وینٹی لیٹرز کی دستیابی کے بارے میں بولا جا رہا ہے۔ اوپر سے لے کر نیجے تک جس ذمہ دار شخصیت کی بات سنو وہ ایسے سبز باغ دکھاتا ہے کہ دل باغ باغ ہو جاتا ہے، لیکن اس کی باتوں میں رتی بھر سچائی نہیں ہوتی۔ وینٹی لیٹرز تو بالکل نایاب ہیں۔ روزانہ ایسی خبریں اور سوشل میڈیا پر اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ مریض کو وینٹی لیٹر کے لئے مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا کہیں بھی جگہ نہ ملی اور بالآخر زندگی کی باری ہار گیا۔

سوال یہ ہے کہ دنیا میں کورونا خود بخود کہاں ختم ہوا ہے۔ ہر جگہ کوئی نہ کوئی سخت قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے بعد کورونا وائرس کی پسپائی ہوئی ہے۔ چین کے صوبے ووہان ہی کو لیں، وہاں چینی حکومت سخت لاک ڈاؤن نافذ نہ کرتی تو کیا یہ وبا وہاں سے ختم ہوتی۔ سوڈان جیسے چھوٹے سے ملک نے بھی کورونا سے نجات اس لئے حاصل کی کہ سخت اقدامات کے ذریعے لوگوں کی نقل و حمل روک کر اس وبا کو پھیلنے سے روکا گیا۔ ہم تو اتنا بھی نہیں کر سکے کہ کورونا کو ختم توکیا مزید پھیلنے ہی سے روک سکیں۔ یہ اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ دنیا تشویش میں مبتلا ہو گئی ہے تشویش میں مبتلا نہیں ہوئے تو اپنے پیارے کپتان ہیں، جن کا بیانیہ اسی بات کی گردان کر رہا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے، لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔

بھوک سے مرنا ایک اندازہ ہے جبکہ کورونا سے مرنا تو سامنے کی حقیقت ہے۔ کسے پہلے روکنا ہے، اتنی تو سمجھ بوجھ ہونی چاہیے۔ چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن مناسب نہیں، مگر وہاں تو ہونا چاہیے جہاں کورونا نے تباہی مچا رکھی ہے۔ مثلاً کراچی میں کورونا بے قابو ہو چکا ہے۔ کورونا کیسز اور اموات کی تعداد کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، خود وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں کر سکتے بقول ان کے وزیراعظم ناراض ہو جاتے ہیں، اپنے لاہور کی صورت حال کون سی تسلی بخش ہے، کورونا گلی محلے تک پھیل گیا اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے دو ہفتے کے فوری لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر دیا ہے، مگر کپتان ایسے حالات سے قائل ہونے والے نہیں، ان کی سوئی اسی نکتے پر اڑی ہوئی ہے، جس نے ملک کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔

پلازما دیں جانیں بچائیں

میو ہسپتال لاہور میں داخل مجھے اپنی ایک عزیزہ کے لئے AB+ بلڈ گروپ کے پلازما کی ضرورت پڑی تو اس نے اور سب عزیز و اقارب نے بہتیری کوشش کی کہ کسی طرح پلازما مل جائے، تاکہ مریضہ کی جان بچائی جا سکے۔ میں نے جناب مجیب الرحمن شامی کو بھی اس سلسلے میں فون کیا۔ انہوں نے مجھے ڈاکٹر طاہر شمسی کا نمبر دیا اور اپنے حوالے سے بات کرنے کو کہا، میں نے فون کیا، مگر ان کا موبائل نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ پھر شامی صاحب کا فون آیا کہ میوہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر اسد اسلم سے رابطہ کریں۔ رابطہ ہوا، مگر مطلوبہ گروپ کا پلازما دستیاب نہ تھا۔ دو ڈونرز سے بات ہوئی، وہ مان گئے لیکن مقررہ وقت پر انہوں نے اپنا فون نمبر ہی بند کر دیا۔ یہ ساری داستان سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک پلازما دینے کے بارے میں اعتماد پیدا نہیں ہو سکا۔ مجیب الرحمن شامی صاحب اپنے ٹی وی پروگرام میں کئی بار اس حوالے سے آگاہی دے چکے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر شمسی بھی کوشاں ہیں، لیکن یہ کام آگے نہیں بڑھ رہا، حالانکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پلازما کے ذریعے کورونا مریضوں کو دوبارہ زندگی مل سکتی ہے، جبکہ دینے والے پر بھی اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوتا، جیسے خون دینے سے انسان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس وقت تقریبا 32ہزار کورونا مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ایک پلازما سے دو مریض صحت یاب ہو سکتے ہیں، اسی طرح ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کو شکرانے کے طور پر بھی پلازما عطیہ کرنا چاہیے، ویسے بھی کسی کی جان بچانا بہت بڑی نیکی ہے، جس کا اجر اللہ کے ہاں بہت زیادہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -