تفہیمِ اقبال: حضرت داتا گنج بخش اور ایک ایرانی نوجوان

تفہیمِ اقبال: حضرت داتا گنج بخش اور ایک ایرانی نوجوان
تفہیمِ اقبال: حضرت داتا گنج بخش اور ایک ایرانی نوجوان

  

اقبال کی سب سے پہلی کتاب جو اشاعت پذیر ہوئی وہ فارسی زبان میں تھی اور عنوان تھا ”اسرارِ خودی“۔ یہ 1915میں شائع ہوئی۔ اس وقت اقبال کی عمر 38برس ہو چکی تھی اور وہ مغربی ممالک (برطانیہ، جرمنی) سے بیرسٹری اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کر چکے تھے۔ پھر اس کے چار برس بعد 1919ء میں رموزِ بے خودی مکمل ہوئی۔ یہ دونوں تصانیف بعد میں یکجا کرکے ”اسرار و رموز“ کے نام سے شائع کی گئیں۔ اسرارِ خودی میں ایک کہانی بیان کی گئی ہے جس کا عنوان ہے: ”ایک نوجوان کی حکایت جو مرو سے آکر سید مخدوم علی ہجویریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فریاد کی“

سطور ذیل میں اس نوجوان کی فریاد اور حضرت گنج بخش کا جواب نذرِ قارئین ہے، پہلے اس حکایت کا سلیس اردو میں ترجمہ دیکھئے:

فرمودۂ اقبال

سید ہجویر حضرت داتا گنج بخشؒ جن کے مزار مبارک پر خواجہ معین الدین چشتیؒ نے چلہ کھینچا تھا اور جن کی گودڑی آج بھی مزار سید ہجویر کے پہلو میں مرجع خاص و عام ہے، وہ جب تقریباً ایک ہزار برس پہلے بتکدہ ہند میں تشریف لائے تو یہاں کی سرزمین میں خدائے واحد کی عبادت کے بیج بوئے۔ ان کی ذات بابرکات کے طفیل برصغیر میں حضرت عمر فاروقؓ کا عہد تازہ ہوا اور ان کے وعظ و تبلیغ کی وجہ سے توحید باری کا آوازہ بلند ہوا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی پاسبانی کی اور کذب و باطل کے سارے بت مسمار کر دیئے۔ خاک پنجاب کہ جہاں حرف حق مردہ ہو چکا تھا ان کے درود مسعود کے طفیل از سر نو زندہ ہوئی اور ہماری صبحیں اسی آفتاب درخشندہ کے باعث جگمگا اٹھیں۔ وہ عاشق رسولؐ تھے اور عشق و مستی میں ان کا ثانی نہ تھا۔ ان کی جبین مبارک سے عشق کے آثار ہویدا تھے۔

میں یہاں ان کے ایک کمال کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ گویا معانی کا پورا ایک گلشن ہوگا جو اس کہانی کے غنچے میں پوشیدہ ہے۔

کہانی یوں ہے کہ ایک بار ایک خوبصورت سمارٹ نوجوان جو ایران کے شہر مرو (Marv) کا رہنے والا تھا، ہندوستان آیا۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اکتساب فیض کر سکے اور اپنے اعمال کی تاریکیوں کو اس آفتاب ہدایت کے نور سے روشن کر لے۔ اس نے آکر عرض کی کہ ”میں دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا ہوں اور میری مثال اس کانچ کی بوتل کی سی ہے جس کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے نوکیلے پتھروں کی دیواریں کھڑی کر دی گئی ہوں۔ میں آپ کے پاس اس غرض سے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے دشمنوں میں رہ کر زندگی گزارنے کے آداب سے آگاہ فرمائیں“…… حضرت داتا گنج بخشؒ کہ جن کی ذات میں جلال و جمال کی دونوں صفات گھل مل کر ایک ہو گئی تھیں، یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا: ”اے نوجوان“ تو شاید زندگی کی راہوں کے پیچ و خم سے بے خبر ہے اور اس کے انجام و آغاز سے غافل ہے۔ اپنی فکر کو دشمنوں کے خوف سے آزاد کر! اور اپنی سوئی ہوئی قوتوں کو ایک بار پھر بیدار کر کہ جب پتھر اپنے آپ کو کانچ سمجھنے لگتا ہے تو وہ سچ مچ کانچ بن جاتا ہے اور ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ اگر کوئی مسافر اپنے آپ کو کمزور اور ناتواں سمجھ لے تو بہت جلد ڈاکو اور رہزن اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔

تو کب تک اپنے آپ کو محض پانی اور مٹی کا مرکب خیال کرتا رہے گا؟ ارے نادان اپنی مٹی اور گارے سے شعلہ طور تخلیق کر! اپنے دوستوں کا شکوہ کیوں کرتا ہے کہ وہ تیری مدد کو نہیں آتے اور دشمنوں کی دشمنی کا واویلا کیوں کرتا ہے کہ وہ تمہیں تنگ کرتے ہیں؟ او بے وقوف، اس حقیقت کو ذہن نشین کر کہ تمہارا دشمن ہی تمہارا حقیقی دوست ہے۔ تمہاری زندگی کی تمام رونقیں اسی دشمن کے دم قدم ہی سے تو ہیں۔ اللہ کریم نے جس کسی کو بھی خود داری اور خود شناسی کے مقامات سے آگاہ کر رکھا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ اس کے دشمن کا طاقتور ہونا، گویا فضل ایزدی ہے۔ دشمن ایک ایسا بادل ہے جو انسان کی کھیتی پر کھل کر برستا ہے اور اس کے اندر سوئی ہوئی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو اگا کر سرسبز و شاداب کر دیتا ہے۔ یہ تمہارے راستے میں پڑے پتھر دراصل وہ کسوٹی ہیں جن پر تمہارے عزائم کی تلوار تیز کی جاتی ہے۔ اگر تمہاری ہمت مضبوط اور عزم جوان ہو تو پھر تو ایک سیلاب بن جاتا ہے اور سیلاب کے آگے یہ بلند و پست راہیں بھلا کیا حقیقت اور کیا وقعت رکھتی ہیں؟ حیوانوں کی طرح چرنے چگنے اور سو جانے سے کیا فائدہ؟ اگر تو اپنا آپ منوا نہیں سکتا اور تمہارے پاس خود اعتمادی کا فقدان ہے تو پھر تمہارا نہ ہونا تمہارے ہونے سے بہتر ہے۔

اگر تو اپنی صلاحیتوں کی حقیقت جان جائے تو اس جہان رنگ و بو کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ اپنی ممکنات کا احساس نہ کرنا فنا ہو جانے کے مترادف ہے اور ان ممکنات کا احساس کرنا، اپنے آپ میں آباد ہونے کے برابر ہے۔ اپنی قوتوں سے بے خبر ہونے کا نام ہی تو موت ہے! ارے غافل تو جسم و روح کے فراق سے آگاہ نہیں!! اگر تمہاری خودی بیدار ہو جائے تو تو اس میں حضرت یوسف کی طرح بسیرا کر سکتا ہے اور پھر اسیری سے نکل کر شہنشاہی تک جا پہنچتا ہے جیسا کہ حضرت یوسف کنویں کی قید سے نکل کر عزیز مصر ہو گئے تھے۔ اپنے آپ کو پہچان، سراپا عمل بن اور حقیقت کے اسرار و رموز کی گتھیاں سلجھا! میں تمہیں بعض ایسی کہانیاں سناتا ہوں جو میری بات کی مزید وضاحت کریں گی۔ اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ محبوبوں کے راز دوسروں کی مثالیں دے دے کر بیان کرنے زیادہ پُرلطف ہوتے ہیں“

اس کے بعد راقم السطور کا تبصرہ دیکھئے

تبصرہ

اس کہانی کا ماخذ کیا ہے؟ کیا واقعی مرو سے کوئی نوجوان حضرت علی ہجویریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا؟ اور کیا واقعی اس نے آکر اپنی وہی مشکل بیان کی تھی جو اس قصے میں بیان کی گئی ہے؟ ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنا شاید مورخوں کا کام ہے۔ شاید بعض محققین اس کہانی کی صحت ہی سے انکار کر دیں کہ اس قسم کا کوئی واقعہ حضرت داتا گنج بخشؒ کی زندگی میں پیش آیا تھا۔ لیکن اگر اقبال نے اس کہانی کو موضوع سخن بنایا ہے تو یہ ان کے ذاتی ذہن کی اختراع ہرگز نہیں ہو سکتی۔ اقبال اولیاء کرام کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور اہل دل کے احوال و مقامات سے بے خبر نہ تھے۔ وہ کسی من گھڑت قصے کو حضرت داتا گنج بخشؒ کی ذات سے ہرگز منسوب نہیں کر سکتے تھے۔ ان کی افتاد طبع، ان کی پرورش اور ان کی تعلیم و تہذیب جس ماحول میں ہوئی تھی اس کے پیش نظر یہ گمان کرنا کہ یہ حکایت محض افسانہ ہے، درست نہ ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ متداول تواریخ و تصانیف میں اس قسم کی کہانی یا واقعے کا ذکر موجود نہ ہو اور پھر یہ بھی ہے کہ اس دور میں لوگ اہل اللہ سے آکر مختلف قسم کی ذاتی مشکلات بیان کیا کرتے تھے۔ مرو (Marv) کے اس نوجوان نے جس مشکل کا ذکر کیا تھا اور حضرت داتا گنج بخشؒ سے اس مشکل کا جو علاج دریافت کیا تھا تو یہ کوئی ایسی ان ہونی بات نہ تھی۔ آج بھی لوگ پیروں فقیروں کے ہاں جا کر اس قسم کی عام درخواستیں کرتے ہیں کہ میرے دشمن اور حاسد زیادہ ہو گئے ہیں ان سے بچنے کی کوئی ترکیب عنایت فرمایئے اور میرے حق میں دعا کیجئے۔ اور اگر آج یہ درخواست عام ہے تو عہد گنج بخش میں اس کے وقوع ہونے پر شک و شبہ کی کیا گنجائش ہے؟

پاک فوج کا کسی بھی سطح کا کوئی کمانڈر اگر آج کسی صاحب دل ولی اللہ کے پاس جائے اور جا کر وہی کچھ بیان کرے جو اس حکایت میں مرو کے نوجوان نے داتا گنج بخشؒ کے حضور حاضر ہو کر کہا تھا تو یہ عین معمولات و ممکنات میں سے ہوگا۔ اللہ کے نیک بندوں سے دعا کی درخواست کرنا اسلام کے ارباب لشکر کی روایت رہی ہے۔ سلطان محمود غزنوی سے لے کر فیلڈ مارشل ایوب خان تک برصغیر کے سپہ سالار اولیاء اللہ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔ وہ یقینا فتح و نصرت کی دعاؤں کے طالب بھی رہے ہوں گے۔

پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں دیکھیں تو آج بھی یہی صورت حال ہے۔ دراصل ازل سے امروز تک شرارِبولہبی چراغ مصطفویﷺ سے ستیزہ کار رہا ہے۔ سید ہجویرؒ نے مشکلات و مصائب میں گھر جانے کی صورت حال کا جو مداوا بیان فرمایا ہے اس کی صحت سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟ بھارت ہم سے رقبے اور عسکری وسائل کے اعتبار سے پانچ گنا زیادہ بڑا ہے۔ دشمن کے پاس اگر تعداد کی اکثریت ہو اور وسائل کی بھی افراط ہو تو اس کا حل کیا ہے؟ ایک حل تو یہی ہے کہ تعداد اور وسائل کو برابر کر لیا جائے۔ لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر مقدار کو معیار سے ہی مات دی جا سکتی ہے۔ پاک فوج دشمن کے مقابلے میں ہمیشہ کمتر (Out Numbered) رہے گی۔ پھر پاکستان کی جغرافیائی محدودیت بھی ہے۔ تو کیا ہم دشمن کے حجم اور وسائل کی بہتات کے آگے سرتسلیم خم کر دیں؟ ظاہر ہے مسلم فوج نے آج تک ایسا نہیں کیا اور نہ آئندہ کرے گی۔ اقبال نے مرو کے نوجوان کی مشکل کی صورت میں گویا پاکستان کی مشکل بیان کی ہے اور حضرت مخدوم امم نے اس کا جو حل تجویز فرمایا ہے وہ گویا پاکستان کی مشکلات کا حل بھی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -