قومی اسمبلی، کورونا نجکاری، چینی آٹا سکینڈل، پٹرول بحران پر اپوزیشن حکومت پر برس پڑی

قومی اسمبلی، کورونا نجکاری، چینی آٹا سکینڈل، پٹرول بحران پر اپوزیشن حکومت ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے حکومت کے ریلیف پیکیج سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، لوگوں کی جانوں کیساتھ سیاست مت کی جائے، ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، ملک میں گورننس کا شدید بحران ہے، اپوزیشن قیادت کو گرفتار کر کے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو حکومت ہمیں قید کرے، حکومت نے لاک ڈاؤن میں سیفٹی کی شرائط پوری ہونے کے بغیر ہی کھول دیا، خدشہ ہے خزاں کے پتوں کی طرح عوام کی لاشیں نہ گر جائیں، لاہور میں 3 ملین لوگ کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں، اسٹیبلشمنٹ اور فوج ایک پیج پر ہیں لیکن ملک آگے نہیں جا رہا، سندھ حکومت کے اقدامات کو سبوتاژ کیا گیا، مسلم لیگ (ن) سٹیل ملز کی نجکاری کیخلاف نہیں لیکن یہ عمل شفاف ہونا چاہیے، زلفی بخاری کا نجکاری کے عمل میں شامل ہونا سوالیہ نشان ہے، دنیا میں آئل کمپنیاں خریدار ڈھونڈ رہی ہیں، ہمارے ملک میں خریدار پٹر و ل ڈھونڈ رہا ہے، لگتا ہے پٹرول کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو ہے وہ آئسولیشن میں چلا گیا ہے،وزیراعظم کویڈ19 کی صورتحال میں ایک مرتبہ بھی پارلیمنٹ نہیں آئے،حکومت خصوصی پیکیج کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو سہارا دے، تاکہ وہ سکول چل سکیں،پاکستان کرپشن میں ترقی کر چکا ہے یہ اس دورحکومت میں ہواہے،اسٹیل مل کے ملازمین کو واپس ملازمت پر رکھا جائے،اوورسیز پاکستانی کو واپس لایا جائے، پالیسی پارلیمنٹ میں بننی چاہیے،حکومت کس بنیاد پر آئندہ سال کیلئے گروتھ کا ہدف 2.1فیصد رکھ رہی ہے، بجٹ سازی کو تماشہ نہ بنایا جائے، ادویات 400گنا مہنگی ہو چکی ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی،ادویات سے لیکر اشیاء تک عوام لائن میں لگے ہوئے ہیں، جہانگیر ترین کے جہاز نے ابھی اور کمالات دکھانے ہیں، آٹا اور چینی بحران میں کمیشن نے وزیراعظم کو ذمہ دار ٹھہرایا لیکن کارروائی نہیں ہو رہی،بجٹ میں سگریٹ سستے کر کے سگریٹ مافیا کو فائدہ دیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف، عائشہ غوث پاشا، عبدالقادر پٹیل، راجہ پرویز اشرف، شازیہ مری، عباداللہ خان، مفتی عبدالشکور، مولانا عبدالاکبر چترالی اور محسن داوڑ و دیگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا۔ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی کورونا وائرس پر رپورٹ نے تشویش میں ڈال دیا ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی کی گروتھ منفی دکھائی ہے، آخری 6ماہ میں منفی 6فیصد گروتھ، 30لاکھ لوگ بیروزگار ہونیوالے ہیں،10کروڑ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے ہیں، حکومت نے معاشی پیکج میں 6 سکیمیں شروع کی ہیں، کیا ریلیف پیکج غریبوں میں زندگی میں بہتری لا رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی سکیم سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت کوکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آئندہ سال 2.1فیصد گروتھ کی بنیاد پر بجٹ غیر حقیقت پسندانہ اور مذاق ہو گا، یہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ کشور زہرا نے کہا وزیراعظم کراچی کے حالات پر توجہ دیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کرونا وائرس پر وزیراعظم نے پہلے کہا کہ یہ عام فلو ہے، اب کہہ رہے ہیں یہ سنگین بیماری ہے، چینی کے حوالے سے ایک کمیشن بنایا گیا، کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں تھی، چینی چور اور آٹا چور حکومت کے دائیں بائیں موجود ہیں، کمیشن نے بھی یہی لکھ کر دیا، ادویات سے لے کر آٹا تک لوگ لائنوں میں لگے ہیں، اشیاء کی لائنوں سے باقی جو بچے ہیں وہ ہسپتالوں کی لائنوں میں لگے ہیں۔حکومت ہر بات کا بہانہ گزشتہ حکومتوں پر ڈالتی ہے، کرونا کا بھی نواز شریف اور آصف زرداری پر ڈال دیں کہ ان کی وجہ سے آیا۔ پارلیمانی سیکرٹری تجارت عالیہ حمزہ ملک نے کہا مسلم لیگ (ن) 508ملین ڈالر کی چینی ایکسپورٹ کی پھر اس دوران چینی امپورٹ کی گئی، اس طرح پی پی کے دور میں بھی ہوا، ان کے دور میں چینی ایکسپورٹ کی پھر اس دوران چینی امپورٹ کی گئی، ان کے دور میں چینی ایکسپورٹ ہو تو حلال ہے، وزیراعظم عمران خان میں یہ ہمت ہے کہ انہوں نے انکوائری کی اور کارروائی کا کہا، سٹیل ملز عمران خان کی ترجیح تھی،نجکاری لسٹ سے ان کی ہدایت سے

ہٹائی گئی اور اس کی بحالی کا پلان تشکیل دینے کی ہدایت کی، وہ اپنے وعدے پر قائم تھے،آٹھ ماہ کے کام کے بعد یہ سفارش کی گئی کہ اس کی نجکاری کی گئی۔عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ اپوزیشن اپنی عینک بدلے تو ان کو حکومت کا امدادی ریلیف پروگرام نظر آئے۔ماضی میں جتنے بھی بحران آئے کسی پر کوئی کمیشن نہیں بنا، رپورٹس بنی وہ منظر عام پر نہ آ سکیں۔ مشترکہ مفادات کونسل بھی سٹیل ملز کی نجکاری کا دو مرتبہ کہہ چکی ہے۔(ن) لیگ کے وزیر نے بیان دیا تھا پی آئی اے کیساتھ سٹیل ملز مفت لے لیں، وزیراعظم سٹیل ملز کو پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت چلانا چاہتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا 17مارچ سے 4جون تک وزیراعظم کے بیانات تضادات کا تسلسل ہیں،خداراہ لوگوں کی جانوں کیساتھ سیاست مت کی جائے،ووٹوں کی سیاست ہمیں لے بیٹھی ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ پوری قوم حکومت نہیں اللہ کے رحم و کرم پر ہے۔حکومت بتائے دو سال میں کیا کارکردگی دکھائی، نجکاری کا عمل اس وقت کریں جب حالات ٹھیک ہوں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں زلفی بخاری کس طرح سمندر پارپاکستانی بنے، زلفی بخاری کو جس نجکاری کمیٹی میں ڈالیں گے اس پر سوالیہ نشان اٹھیں گے۔جے یو آئی ف کے رکن اسمبلی مفتی عبدالشکور نے کہا کورونا سے بہت سے ادارے متاثر ہوئے ہیں،25 سے 30 لاکھ اساتذہ نجی سکولوں میں پڑھاتے ہیں ان خاندانوں کا کیا بنے گا،حکومت خصوصی پیکج کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کو سہارا دے۔ علماء انتہا پسند نہیں، امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے،پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ کوویڈ19 بہت سنگین مسئلہ ہے، سندھ نے تعلیمی ادارے بند کئے تو آن لائن کا آپشن دیا،مگرملک کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ سر و س نہیں پہنچ رہی، آن لائن کلاسز نہیں ہو پا رہیں، وفاق کی جانب سے ہر بات پر تنقید ہوئی،ہم لڑنا نہیں چاہ رہے، آج بھی آپ ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن غلط تھا، اس وقت لوگ ہماری سنجیدگی کی توقع کر رہے ہیں، صوبہ سندھ کی دنیا تعریف کرہی ہے،اسٹیل مل ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا نوٹیفیکیشن کو واپس لیا جائے، مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی عباداللہ خان نے کہا خیبرپختونخوا میں ٹیسٹ سب سے کم شرح اموات سب سے زیادہ ہے،یہ کاکردگی ہے پی ٹی آئی کی جو سات سالوں سے ہمارے اوپر مسلط ہے۔ جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا نظام وہی ہے جو پہلے تھا، سودی کاروبار انگریزوں کا کاروبار ہے، ہم نجکاری کو کسی صورت ماننے کو تیار نہیں، رکن اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہسپتالوں میں حالات ابتر ہیں،سابقہ فاٹا کے حقوق پر دن دھاڑے ڈاکہ مارا جا رہا ہے، عارف وزیر کے قتل کی تحقیقات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، پالیسی پارلیمنٹ میں بننی چاہیے۔

اپوزیشن

مزید :

صفحہ آخر -