خیبر پختونخوا کے نجی تعلیمی اداروں کا 19جون کو صوبائی اسمبلی کے باہر تاریخی دھرنے کا اعلان

خیبر پختونخوا کے نجی تعلیمی اداروں کا 19جون کو صوبائی اسمبلی کے باہر تاریخی ...

  

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخواکے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان نے مطالبہ کیاہے کہ کوروناکے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے مالی بحران کے شکارنجی تعلیمی اداروں کیلئے فوری طور پر گرانٹ اورآسان اقساط پرقرضوں کااعلان سمیت عائدٹیکسزمعاف کئے جائیں بصورت دیگر 19 جون کو بجٹ اجلاس کے دوران صوبائی اسمبلی کے باہر تاریخی دھرنادیاجائے گا۔ان خیالات کا اظہار پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورکPENکے صوبائی سینئرنائب صدر فضل اللہ داؤدزئی نے پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر نائب صدرجاویدخان،ضلعی صدرطارق متین،ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمودشاہ اورضلع صدرمہمندعالم خان بھی موجود تھے۔فضل اللہ داؤدزئی نے کہاکہ صوبے میں قائم 80فیصدادارے دوہزارسروپے سے کم فیس لیکر معیاری تعلیم دے رہے ہیں اور کم فیس کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ لاکھ اساتذہ کو دیگر نان ٹیچنگ سٹاف کو بے روزگاری سے عارضی نجات بھی دی ہے۔ حکومت نے ان ا ساتذہ کو کسی قسم کا ریلیف دینے کا تا حال کوئی اعلان نہیں کیا۔ ہم نے حکومت پر واضح کیا کہ اس وقت حکومتی ادارے FEF اور EEF کے دونوں اداروں جن کا قیام نجی اداروں کو سپورٹ کرنا تھا۔ صرف FEF کے پاس 25 ارب روپے موجود ہیں۔اِن میں سے 10 ارب بصورت گرانٹ یا بلا سود قرضہ نجی اداروں کو دیا گیا تو 6 ماہ کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال سے اس سیکٹر کو نکال سکتے ہیں اگر ان اداروں کو گرانٹ فراہم کر دی گئی تو ہم اسی تناسب سے فیس معاف کر دیں گے اور اگر بلا سود قرضے فراہم کیے گئے تو ہم ایک سال کے اندر اندر آسان اقساط میں یہ قرضہ واپس کر دیں گے۔

فضل اللہ داؤدزئی

مزید :

صفحہ آخر -