جماعت اسلامی کا سرکاری ونجی تعلیمی ادارے کھولنے کیساتھ بلا سودقرضے دینے کا مطالبہ

جماعت اسلامی کا سرکاری ونجی تعلیمی ادارے کھولنے کیساتھ بلا سودقرضے دینے کا ...

  

چارسدہ (بیو رو رپورٹ) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے تعلیمی ادارے کھولنے اور نجی تعلیمی اداروں کو حصوصی ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ بلا سود قرضے فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ معماران قوم کے مسقبل کے ساتھ مزید کھلواڑ کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ایس او پیز کے تحت صنعتوں کو اجازت دی گئی تو تعلیمی ادارے کیوں بند ہیں۔ان خیالا ت کا اظہار امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پرائیوٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے ہوئے کیا۔و فد میں پین کی صوبائی نائب صدر جاوید خان، ھارون خان اور دیگر ذمہ داران بھی شامل تھے۔ سراج الحق نے کہا کہ حکومت پاکستان تعلیمی اداروں کے ذمہ داران و مالکان سے بیٹھ کر تعلیمی اداروں کو SOPS کے تحت جلد از جلد کھولنے کے لئے احکامات جاری کریں۔کروڑوں بچوں کے تعلیمی سال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں اساتذہ کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے۔ہزاروں کی تعداد مالکان مکان اور دیگر افراد بھی رقم کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔حکومت پاکستان تعلیمی اداروں کے مالکان کو ریلیف کے طور پر جلد از جلد رقم ریلیز کریں اور ساتھ ہی بلا سود قرضے دینے کے لئے منصوبہ بندی کریں۔جماعت اسلامی پاکستان تعلیمی اداروں کے حالیہ مسائل حل کرنے کے لئے ان کے شانہ بشانہ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 97%تمام ادارے، بازاریں کھُل گئے لیکن صرف اور صرف تعلیمی ادارے بند ہیں جن سے کروڑوں بچوں اور بچیوں کا مستقبل تباہ ہونے کا اندیشہ ہے اور تعلیمی اداروں نے حکومت کے ساتھ 50%تعلیمی میدان میں حصہ لیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں اساتذہ کو روزگار فراہم کیا ہے۔ لیکن حالیہ تعلیمی اداروں کی بندش سے لاکھوں کی تعداد میں اساتذہ فارغ ہو جائینگے۔ ہزاروں کی تعداد میں عمارات خالی ہو جائینگے جس کی وجہ سے پاکستان دلدل میں پھنس جائیگا۔حکومت پاکستان کو پہلی ہی فرصت میں تعلیمی اداروں کے مسائل و مشکلات حل کرنے کے لئے احکامات صادر کرنی چاہئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -