جس صوبے میں ایس او پیز پر عمل نہیں ہو گا، اسے بند کر دینگے: عمران خان، کورونا سے مزید 93افراد جاں بحق، 24گھنٹوں میں 6289نئے کیسز رپورٹ

جس صوبے میں ایس او پیز پر عمل نہیں ہو گا، اسے بند کر دینگے: عمران خان، کورونا ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث آئندہ چند روز کے دوران پاکستان میں اموات بڑھیں گی جبکہ ایس او پیز کی خود نگرانی کروں گا، جس صوبے میں ایس اوپیزپرعملدرآمد نہیں ہوگا ایکشن لیں گے اور مکمل بند کردیا جائے گا،عوام ڈیوٹی سمجھ کر ایس او پیز پر عمل کریں اور دوسروں کی جانیں بچائیں،طبی عملے کے لئے خصوصی پیکیج لارہے ہیں،کورونا کے آغاز میں ٹیسٹنگ کی صرف2لیبارٹریز تھیں اور صرف500ٹیسٹوں کی روزانہ کی بنیاد پر گنجائش تھی جو اب 107 لیبارٹریز ہیں۔وینٹی لیٹرز2800سے4800،آئی سی یو بیڈز600 سے1300 جبکہ آکسیجن بیڈز کی تعداد میں بھی دو ہزار بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ایس او پیز پر عملدرآمد کی براہ راست نگرانی کروں گا،عمل نہ کرنے والے علاقے اور کاروبار بند کردیں گے۔جمعرات کے روز سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرارعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس پھیلتا جارہا ہے چند مخصوص لوگ چاہتے ہیں کہ ملک میں اموات زیادہ سے زیادہ ہوں اور ملک لاک ڈاؤن کی طرف جائے۔اپوزیشن کے ایک بڑے لیڈر بھاگے بھاگے لندن سے پاکستان واپس آئے اور ماسک لگا کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئے جیسے سارے فیصلے انہوں نے ہی کرنے ہیں۔اپوزیشن چاہتی ہے کہ ملکی معیشت بیٹھ جائے،کورونا کے باعث اموات میں اضافے کا اندازہ تھا،گزشتہ تین ماہ میں میری ٹیم نے بہت اچھا کام کیا۔اللہ تعالی کا شکر ہے ہم نے بھارت جیسالاک ڈان نہیں کیا۔ لاک ڈان کے دوران بھارت کے 84 فیصد گھرانوں کی آمدن کم ہوئی۔ ہمسایہ ملک میں تین کروڑ نوجوان بیروز گار ہو گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں امیرطبقے کولاک ڈان سے فرق نہیں پڑا، پہلے دن سے کہہ رہا تھا غریب لوگوں کا سوچنا ہو گا، ہم اس لیے بچے کیونکہ ہم نے پوری طرح لاک ڈان نہیں کیا۔ احساس کیش پروگرام میں 120ارب روپیہ تقسیم کیا، اس وجہ سے ہمارے بھارت جیسے حالات نہیں۔ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں لوگوں کو غربت سے بچانا ہے۔ اپوزیشن نے پہلے 4ہفتے بہت تنقیدکی۔ لاک ڈان کے اثرات غریب پرپڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وائرس اوپرجارہا ہے، میں بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ چند روز کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دنیا بھر کے حالات کو دیکھنے کے بعد سمارٹ لاک ڈان کو ترجیح بنایا۔وزیراعظم نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگ ایس اوپیزپرسب عمل کریں۔ اگرہم احتیاط نہیں کریں گے تو ہسپتالوں پرپریشربڑھتا جائے گا۔ نیویارک کے ہسپتالوں میں بھی وینٹی لیٹرزکی کمی ہوگئی ہے۔ اگر ایک محلے میں وائرس پھیلے گا تواس پورے محلے کوبند کردیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے ملک کے ایس اوپیز کا جائزہ لوں گا، وزیراعظم ہاس سے صورتحال کو مانیٹرکرونگا۔ میرے پاس روزانہ کی بنیاد پررپورٹ آئے گی، حکومت اب ایس اوپیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لے گی۔جن صنعتوں، مقامات یا علاقوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہوگا اسے بند کردیا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے عوام بڑی لاپرواہی کر رہے ہیں، خطرناک سوچ ہے، اگلے ماہ کورونا کی صورتحال عروج پرجاسکتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،اللہ کا شکرہے ہمارے مغرب سے بہترحالات ہے۔عمران خان نے کہا کہ 70 سالوں میں پاکستان میں ہیلتھ سسٹم پرخرچ نہیں کیا گیا۔ صاحب اقتدار کو کھانسی آتی تھی توبیرون ملک علاج کے لیے جاتے تھے، صاحبِ اقتدارکوہیلتھ سسٹم کی فکرہی نہیں تھی۔ ان کے پریشر کا مقصد اپنی کرپشن بچانا ہے، لوگ مشکل میں ہیں لیکن اپوزیشن حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جیسے جیسے اموات بڑھ رہی ہے، کہا جا رہاہے حکومت کی پالیسیاں ٹھیک نہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی مشکلات کا اندازہ ہے، آپ اللہ کے لیے کام کر رہے ہیں، اسے جہاد سمجھ کرانجام دیں۔ حکومت آئی سی یو کیلئے اسٹاف کی تیار کر رہی ہے جس کے لیے کریش کورسز کرائے جائیں گے،کورونا کے آغاز میں ٹیسٹنگ کی صرف2لیبارٹریز تھیں اور صرف500ٹیسٹوں کی روزانہ کی بنیاد پر گنجائش تھی جو اب 107 لیبارٹریز میں 12لاکھ ماہانہ ہے۔وینیٹی لیٹرز2800سے4800،آئی سی یو بیڈز600 سے1300 جبکہ آکسیجن بیڈز کی تعداد میں بھی دو ہزار بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر قسم کے دباو کو برداشت کیا اور سخت لاک ڈاون کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاون کیا جس سے مزدور طبقے کا بھی زیادہ نقصان نہیں ہوتا اور کورونا کو بھی کنٹرول کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو مکمل آزادی دی کہ وہ اجناس پر کام جاری رکھے، ہم نے غریب خاندانوں میں نقد رقم تقسیم کی جس کی وجہ سے بڑی مشکلات پر قابو پایا گیا۔ریلوے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز کو خسارے سے نکال کر منافع بخش ادارہ بنانا موجودہ حکومت کی ترجیح ہے، ریلوے کی بدولت عوام کو بہترین، محفوظ اور کم خرچ ذرائع نقل و حرکت میسر آتے ہیں لہذا ان امور پر خصوصی توجہ دی جائے،وزیرِ اعظم نے نجی شعبے کے تحت ٹرینوں کے انتظام کے اقدام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ مزید پندرہ ٹرینوں کے انتظام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے، ایم ایل ون سی پیک کا اہم منصوبہ، ریلوے کی تنظیم نو کو ایم ایل ون منصوبے کے تناظر میں مکمل کیا جائے تاکہ اس عمل سے ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور نجی شعبے کے لیے شراکت داری کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جا سکیں،جہاں تک ممکن ہو مسافروں کو انکی دہلیز تک ٹکٹیں پہنچانے کا انتظام یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، معاون خصوصی برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، سیکرٹری ریلویز و دیگر سینیئر افسران شریک ہوئے۔ سیکرٹری ریلویز نے وزیرِ اعظم کو پاکستان ریلویز کی تنظیم نو، ادارے میں آٹومیشن و ڈیجیٹائزیشن، پاکستان ریلویز کے اثاثوں کا بہتر انتظام، ایم ایل - ون منصوبے میں پیش رفت، ریلوے میں نجی شعبے کی شمولیت اورخصوصاً نجی شعبے کی شراکت سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پلس) کو عملی جامہ پہنانے کے ضمن میں ریلویز کی جانب سے مجوزہ منصوبوں کے بارے میں بریف کیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کورونا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان ریلویز کی جانب سے ٹرین ہسپتال متعارف کرائے گئے ہیں اور ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنز اور ٹرینوں میں کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل درآمد پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان اقدامات کو ملکی و غیر ملکی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ ریلویز کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے انتظامی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے نے مسافروں کی سہولت کے لئے ای-ٹکٹنگ کے نظام پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس وقت ساٹھ فیصد بکنگ آن لائن نظام کے تحت کی جا رہی ہے جس سے نہ صرف مسافروں کو سہولت میسرآتی ہے بلکہ بدعنوانی اور خرودبرد کے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ ٹرینیں چلانے میں نجی شعبے کی شراکت کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس وقت دو مسافر ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے کی گئی ہیں اور پندرہ مزید نجی شعبے کے ذریعے چلائی جائیں گی۔اسی طرح دو مال بردار ٹرینیں بھی نجی شعبے کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں۔ مزید دو مال بردار ٹرینوں کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔ ریلوے کے اثاثوں کا بہترین انتظام یقینی بنانے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس ضمن میں ریلوے کے تمام اثاثوں کا ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ ریلوے کی آمدن میں اضافے کے لئے پچیس مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے جن کو جوائنٹ وینچر کے تحت برؤے کار لایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ریلوے کی زمینوں کو ناجائز قبضوں سے واگذار کرانے میں پیش رفت کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ نجی شعبے کی شراکت سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی پلس) کے ضمن میں پچیس منصوبوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے جن پر نجی شعبے کی مدد سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے ریلوے کی تنظیم نو کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ریلوے کے بہتر انتظام کو یقینی بنانے کے لئے سی ای او کی تعیناتی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس حوالے سے ملکی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی افرادی قوت کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کواپنے کامیاب ’کیش ٹرانسفرپروگرام‘ کا طریقہ کار فراہم کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔سماجی رابطی کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے متعلق ایک رپورٹ شیئر کرائی جس کے مطابق بھارت کے 34 فیصد گھرانے حکومتی مدد کے بغیر ایک ہفتے سے زیادہ نہیں گزارسکیں گے۔وزیراعظم نے بھارت کواپنے کامیاب ’کیش ٹرانسفرپروگرام‘ کا طریقہ کارفراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کامیاب کیش ٹرانسفر پروگرام بھارت سے شیئر کرنا چاہتا ہوں جس پروگرام کے فائدے اور شفافیت کو عالمی سطح پر بھی پزیرائی ملی۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے غریب خاندانوں کو کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے شفاف طریقے اورکامیابی سے 9 ہفتوں میں ایک کروڑسے زائد خاندانوں میں 120 ارب روپے تقسیم کئے

عمران خان+

لاہور، کراچی، ممبئی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)ملک میں کورونا سے مزید 93 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 6289 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعداموات کی مجموعی تعداد 2410 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 123505 تک پہنچ گئی ہیاب تک پنجاب میں کورونا سے 841 اور سندھ میں 776 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 632 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 75، اسلام آباد 62، گلگت بلتستان میں 15 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 9 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بروز جمعرات ملک بھر سے کورونا کے مزید 6289 کیسز اور 93 اموات سامنے ا?ئی ہیں جن میں پنجاب سے 2003 کیسز اور 34 اموات، سندھ سے 3038 کیسز اور 38 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا سے 581 کیسز اور 13 ہلاکتیں، بلوچستان سے 338 کیسز اور دو اموات، اسلام آباد 273 کیسز 5 اموات، گلگت بلتستان سے 12 کیسز اور ایک ہلاکت اور آزاد کشمیر سے 44 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پنجاب سے کورونا کے مزید 2003 کیسز اور 34 اموات سامنے ا?ئی ہیں جس کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی کل تعداد 45463 اور اموات 841 ہوگئی ہیں۔اس کے علاوہ صوبے میں اب تک کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 9005 ہے۔وفاقی دارالحکومت سیکورونا کے مزید 273 کیسز اور 5 اموات سامنےٓئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 6236 ہوگئی ہے جب کہ 62 افراد انتقال بھی کر چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے کورونا کے مزید 44 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 488 ہوگئی ہے اور اموات کی تعداد 9 ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 219 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔سندھ سے جمعرات کو کورونا کے مزید 3038 کیسز اور 38 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ نے کی۔سندھ میں کورونا سے متاثر مریضوں کی مجموعی تعداد 46828 ہوگئی ہے جبکہ 776 افراد اب تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔سندھ میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 22047 ہے۔جمعرات کو خیبر پختونخوا میں کورونا کے باعث مزید 13 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 632 ہوگئی۔دوسری طرف بھارت میں کورونا وائرس قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے اور ممبئی شہر میں کیسز چینی شہر ووہان سے بھی تجاوز کرگئے، جمعرات کی صبح تک ملک میں ایک روز میں 9996 ریکارڈ کیسز سامنے آئے اور 357 افراد جان سے چلے گئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت کے تجارتی حب ممبئی میں کورونا کے کیسز کی تعداد 51 ہزار سے تجاوز کرگئی جو وائرس کے مرکز چینی شہر ووہان سے بھی زیادہ ہے۔بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 90 ہزار سے زائد ہے جن میں نصف سے زائد کیسز ریاستی دارالخلافہ ممبئی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 86 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 8 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔بھارتی وزارت صحت کا بتانا ہے کہ جمعرات کی صبح تک ملک میں ایک روز میں 9996 ریکارڈ کیسز سامنے آئے اور 357 افراد جان سے چلے گئے۔بھارتی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا سے ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جس کے بعد ایکٹو کیسز کی تعداد ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد ہے اور اس طرح ملک میں اب تک 49 فیصد کے قریب مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔بھارتی وزارت صحت کے مطابق جمعرات کی صبح 8 بجے تک 357 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جن میں مہاراشٹرا سے 149، دہلی 79، گجرات 20، اتر پردیش 19، تامل ناڈو 19، مغربی بنگال 17، تلنگانا 8 جب کہ مدھیا پردیش اور ہریانہ سے 7،7، ہلاکتیں سامنے آئیں۔بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ ملک میں ہونے والی 8 ہزار سے زائد ہلاکتوں میں سب سے زیادہ اموات ریاست مہاراشٹرا سے رپورٹ ہوئی ہیں جن کی تعداد 4300 سے زائد ہے جس کے بعد گجرات میں سب سے زیادہ 1347 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی بھی بری طرح کورونا سے متاثر ہے جہاں اب تک 984 افراد جان سے جاچکے ہیں اور اس طرح دہلی ہلاکتوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد جولائی کے آخر تک صرف نئی دہلی میں کیسز کی تعداد تقریبا 5 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے بھی کورونا کی روک تھام کے لیے دنیا کا طویل ترین لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا جس میں اب بتدریج نرمی کردی گئی ہے اور 8 جون سے شاپنگ مالز، عبادت گاہیں، مارکیٹیں، ٹرانسپورٹ اور دفتر کھولنے کی اجازت دی گئی۔

کورونا ہلاکتیں

کراچی (آئی این پی) سندھ حکومت نے کورونا کیسز اور اموات کی شرح میں مسلسل اضافے کے باعث ایک بار پھر صوبے میں سخت لاک ڈاؤن پر غور شروع کردیا۔ذرائع کے مطابق کورونا کیسز اور اموات کی شرح میں مسلسل اضافے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ روشنی میں سندھ حکومت 2 ہفتوں کے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں پرغور کررہی ہے۔ اس سلسلے میں وِزیراعلی سندھ مراد علی شاہ پارٹی قیادت سے مشاورت بھی ہوئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے معاملے پر وفاقی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا اور چاروں صوبائی حکومتوں سے بھی رابطے کیے جائیں گے۔سندھ حکومت کا موقف ہے کہ کورونا وائرس کی حالیہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔کابینہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ اراکین کی تجویز کے مطابق سخت لاک ڈاؤن کرکے مقررہ دنوں میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جاسکتی ہے، اس سے وائرس کا پھیلاؤ نہیں روک سکتے تاہم کورونا مریضوں کا سراغ لگا کر انہیں آئسولیٹ ضرور کرسکتے ہیں۔اس ضمن میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کابینہ کے سینیئر ارکان سے بھی مشاورت کی ہے۔

سندھ حکومت

مزید :

صفحہ اول -