کورونا سے 3ہزار ارب روپے کا نقصان، جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4فیصد رہی، معیشت کا حجم 283ارب سے کم ہو کر 263ارب 54کروڑ ڈالر پر آگیا فی کس سالانہ آمدنی میں 148ڈالر کمی ہوئی: حفیظ شیخ

    کورونا سے 3ہزار ارب روپے کا نقصان، جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4فیصد رہی، ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کورونا سے مجموعی ملکی پیداوارکو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا، نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا۔وزیراعظم عمران خان کو اقتصادی سروے رپورٹ پیش کرنے کے بعد اکنامک سروے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے 5 سال میں برآمدات صفر فیصد بڑھیں، سابق حکومت نے ڈالر کو مصنوعی طریقے سے سستا رکھا جس کی وجہ سے درآمدات، برآمدات سے دوگنا ہوگئیں، ماضی میں شرح نمو قرض لے کر حاصل کی گئی۔اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 283 ارب ڈالر سے کم ہوکر 263 ارب 54 کروڑ ڈالر پرآجائے گا، رواں مالی سال فی کس سالانہ آمدنی 1358 ڈالرتک رہے گی،گذشتہ سال فی کس سالانہ آمدنی 1516 ڈالر تھی،۔اقتصادی جائزے کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا، گدھوں کی تعداد 54لاکھ سے بڑھ کر 55لاکھ ہوگئی۔ حفیظ شیخ نے بتایا کہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کارلائے گئے، اخراجات میں زبردست کمی کی گئی، خسارے میں 73 فیصد کمی کی گئی، پورا سال اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا، ماضی کے لیے گئے قرضوں کی مد میں 5 ہزار ارب روپے واپس بھی کیے، آئندہ سال 3 ہزار ارب روپے واپس کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پرانے قرضوں کی واپسی کیلئے قرض اٹھانے پڑے، سال کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ رواں مالی سال معاشی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی جب کہ خدمات کے شعبے کی گروتھ بھی منفی رہی، صنعتی شعبے کی گروتھ منفی 2.64 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کی گروتھ منفی 7.1 فیصد رہی۔انہوں نے مزید بتایا کہ زرعی شعبے کی گروتھ 2.67 فیصد رہی، 280 ارب روپے سے کسانوں سیگندم خریدی گئی، حکومت کی جانب سے چھوٹے کاروباروں کو تحفظ کے لیے 3 ماہ تک بجلی بلوں میں ریلیف دیا گیا، کورونا وائرس کے باعث 50 ارب روپے کا بجٹ زراعت کے شعبے کے لیے مختص کیا گیا اور کسانوں کو کھاد پر سبسڈی فراہم کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے تاکہ عوام کو بنیادی اشیاء سستی ملے، کم آمدنی والوں کو گھر فراہم کرنے کے لیے 30 ارب روپیمختص کیے گئے، کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے بھی مراعاتی پیکج دیا گیا۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ مواصلات کے شعبے میں کورونا وائرس کے باعث منفی گروتھ رہی، سروسز کے شعبے میں رواں مالی سال منفی گروتھ ریکارڈ ہوئی، چاول کی پیداوار 2.9 فیصد بڑھی جب کہ کپاس کی پیداوار میں 6.9 فیصد کمی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے جی ڈی پی کو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا، کورونا وائرس کے اثرات کا اندازہ لگانا آسان نہیں، ابھی اعتماد سے نہیں کہہ سکتے کہ کورونا کے نقصانات کتنے ہیں، اگلے 30 روز میں بہتر اندازہ ہوگا۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس وصولی کا ہدف زیادہ رکھا گیا تھا، ہم پْر اعتماد تھے کہ ٹیکس وصولی 4700 ارب روپے تک کرلیں گے مگر کورونا نے نہیں کرنے دیا۔چیئرپرسن ایف بی آر نے بتایا کہ ہمارامقصد ہے کہ صاحب حیثیت لوگ ٹیکس دیں، ایف بی آر ٹیکس وصولی گزشتہ سال سے 17 فیصد زیادہ ہے، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی پر آئی ایم ایف نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اقتصادی سروے رپورٹ میں کورونا کا خصوصی باب شامل کرلیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی 56.6 فیصد آبادی سماجی، معاشی لحاظ سے غیرمحفوظ ہوسکتی ہے، خواتین اور بچوں کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سروے رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑگیا، جزوی لاک ڈاؤن پرزرعی، غیر زرعی شعبے میں 1 کروڑ 55 لاکھ افراد کے بے روزگار ہونیکاخدشہ ہے، مکمل لاک ڈاؤن پر ایک کروڑ 91 لاکھ افراد کی بیروزگاری کا خدشہ ہے، ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں زیادہ افراد کے بیروزگار ہونیکاخدشہ ہے۔اقتصادی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے قبل اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ 3.3 فیصدتھا، کوروناکے بعداقتصادی ترقی منفی 0.4 فیصد رہ گئی۔ کوروناوائرس سے اوورسیزپاکستانیز کے مستقل بیروزگارہونیکاخدشہ ہے، کوروناسے تعلیمی اداروں کے4کروڑ20 لاکھ طلبہ وطالبات براہ راست متاثر ہوئے، اسکولوں،کالجزکی بندش سے خوااتین کے بیروزگارہونیکاخدشہ ہے، کورونا وائرس کے باعث ملک میں خواتین لیبر فورس کم ہوجائے گی۔اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق کورونا سے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کو دھچکا لگا، کورونا کے باعث بجٹ خسارہ 9.4 فیصد تک پہنچنے کاخدشہ ہے، کورونا وائرس سے ملکی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق حاملہ خواتین بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوں گی، اس وقت ملک میں 47 لاکھ خواتین حاملہ ہیں، کورونا سے نئے پیداہونے والے بچوں پر بھی منفی اثرات پڑیں گے، کووروناوائرس سے تولیدی صحت پراثرات مرتب ہوں گے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو بحران ورثے میں ملا، ہمارے اخراجات آمدن سے کافی زیادہ تھے۔ برآمدات کی شرح صفر رہی جبکہ گزشتہ حکومت کے آخری 2 سالوں میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16-17 سے گر کر 9 کے قریب پہنچ گئے تھے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر سستا رکھا گیا جس کے باعث درآمدات، برآمدات سے دگنی ہوگئیں اور ان تمام چیزوں کا اثر یہ ہوا کہ ہمارے پاس ڈالر ختم ہو گئے کہ ہم اپنی معیشت کو اچھے انداز میں چلا سکتے اور اس وقت میں ہمارے قرضے بڑھ کر 25ہزار ارب روپے ہو چکے تھے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر قرض اور واجبات کو بھی ملایا جائے تو ہمارے قرضے تقریباً 30 کھرب روپے بن چکے تھے۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس میں ہم بیرونی اکاؤنٹ میں ڈیفالٹ کی جانب دیکھ رہے تھے، ہمارے اخراجات آمدن سے کافی زیادہ تھے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہم اپنی حکومت میں جو شرح نمو حاصل کررہے تھے و

ہ باہر سے قرض لے کر ملک کے اندر خرچ کررہے تھے تو ایسی صورتحال میں سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ ہم مزید وسائل یعنی ڈالرز کو متحرک کریں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت نے کافی کوششں کی اور کچھ ممالک سے قرض اور موخر شدہ ادائیگیوں پر تیل حاصل کیا اور اس کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 6 ارب ڈالر کا پروگرام طے کیا۔ حکومت نے ٹیکسز کو بہتر کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے اپنے کاروباروں کو مراعات دینے کے لیے کاروباری شعبے کے لیے گیس، بجلی، قرضے یہ تمام چیزیں حکومت نے اپنی جیب سے پیسے دے کر سستے کیے۔انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر ہم نے اپنے بیرونی طور پر معیشت کو درپیش خطرات سے نمٹا اور ورثے میں ملنے والے 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرکے ہم 3 ارب ڈالر تک لے آئے۔ یہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ پہلے سال اور خصوصی طور پر اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73فیصد کمی کی گئی۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ دوسری اہم چیز ہے کہ رواں سال اور پچھلے سال مجموعی طور پر کہ 5 ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں واپس کیے گئے۔ یہ ایک بہت اہم چیز ہے کہ ایک ملک ماضی میں لیے گئے قرضے چاہے وہ کتنے ہی بڑی تعداد میں کیوں نا ہوں، وہ واپس کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت نے ماضی کے قرضوں کے بوجھ کوواپس کرنے کے لیے قرضے لیے اور ماضی کے قرضوں کی مد میں 5 ہزار ارب روپے واپس کیے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ تیسری بہت اہم چیز جو اس سال ہوئی ہے وہ یہ کہ ہم نے اس سال بہت سخت انداز میں حکومت کو اخراجات کو کنٹرول کیا اور یہ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ہوا ہو کہ ہم نے اس انداز میں کنٹرول کیا کہ پرائمری بیلنس قائم ہوگیا ہے یعنی ہمارے اخراجات، آمدن سے کم ہوگئے جس سے پرائمری بیلنس سرپلس ہوگیا یہ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کبھی ہوا ہو۔مشیر خزانہ نے کہا کہ میں اس کے لیے فنانس سیکریٹری اور وزارت خزانہ کی پوری یم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وزیر اعظم نے اس شعبے میں قیادت دکھائی اور جنرل باجوہ کا بھی شکر گزار ہوں کہ ہم نے فوج کے بجٹ کو منجمد کیا۔انہوں نے کہا کہ ایک فلسفہ یہ تھا کہ ہم حکومت کے اخراجات کم کر کے عوام کے لیے جتنے زیادہ پیسے ہوں وہ دیں لہذا ہم نے پورا سال اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک ٹکا بھی قرض نہیں لیا۔ پوراسال کسی بھی ادارے کو کسی بھی حکومتی وزارت کو ٹکا بھی اضافی گرانٹ نہیں دی کیونکہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے عوام کے پیسے کو بہت احتیاط سے خرچ کیا جائے اور اس کا اثر آپ نے دیکھا کہ کورونا وائرس آنے سے پہلے ہم پرائمری سرپلس کے ایریا میں چلے گئے تھے۔انہوں نے کہا ک حکومتی آمدنی بڑھانے کے لیے جو نان ٹیکس ریونیو ہیں جو بجٹ میں ایک ہزار ایک سو ارب تھے، اس کو ہم نے سرپاس کیا اور وہ بڑھ ایک ہزار 600 ارب کی سطح تک پہنچے، ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا، یہ سب چیزیں ہم نے کوروناوائرس کے آنے سے پہلے حاصل کیں، پھر کورونا وائرس آیا اور سا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کورونا کی وبا سے ملک کو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی پیش گوئی ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا کی آمدن میں 3 سے 4 فیصد کمی آئے گی، اس سے خصوصی طور پر ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی برآمدات بھی متاثر ہوں گی۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ اس سے پاکستان کی ترسیلات زر بھی متاثر ہوں گی کیونکہ جو لوگ خلیجی ممالک، امریکا اور برطانیہ میں کام کرتے ہیں، ان کی آمدنی کم ہو گی، یا وہ بیروزگار ہوں گے تو ہمارے پاس کم پیسے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کی طلب کم ہوتی ہے تو ہماری برآمدات بھی منفی طور پر متاثر ہوں گی او ایسا ہوا بھی ہے۔ ہم نے جو ملک میں اقصادی طور پر استحکام پیدا کیا تھا، اس کے نتیجے میں وہ بھی متاثر ہوا اور پاکستان کی جی ڈی پی کا اندازہ لگایا گیا کہ اس کی وجہ سے کوئی تین ہزار ارب کا نقصان پہنچا۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ کوروناکے بارے مں کوئی بھی چیز یقین سے کہنا مشکل ہے کیونکہ مختلف لوگ مختلف طریقوں سے اندازے لگارہے ہیں کہ کس چیز پر کتنا اثر ہوا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پورے ملک کی آمدنی 0.4 کم ہوگئی حالانکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ آمدنی تین فیصد بڑھے گی، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں قومی آمدن میں 3 سے ساڑھے 3 فیصد نقصان دیکھنا پڑا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اس کے ساتھ ہماری برآمدات بھی متاثر ہوئیں، ترسیلات زر زیادہ متاثر نہیں ہوئی لیکن اب متاثر ہونے جا رہی ہیں۔ ہمیں امید تھی کہ ایف بی آر کی ٹیکس محصولات اگر اسی رفتار سے چلتے رہے تو 4ہزار 700ارب تک پہنچ سکتی تھی لیکن وہ اب 3ہزار 900 تک بمشکل پہنچ رہی ہے اس طرح ایف بی آر کوٹیکس محصولات کی مد میں 850 سے 900 ارب کا نقصان ہوا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدرتی امر ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ اس مشکل وقت میں اپنی کاروباری برادری پھر ٹیکسز کی گرفت مضبوط کریں کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ان کی مدد کریں اور ان تک قرضے یا نقدرقم پہنچائیں تاکہ ملک میں جو کورونا کی وجہ سے سکڑتی ہوئی معیشت بن رہی ہے اس سے اچھی طرح نبردآزما ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے معیشت کو کورونا وائرس سے اچھے انداز میں بچانا ہے اور اپنے لوگوں کوبچانا ہے اور اس کے لیے لیے دوطرح کے پیکج دیے گئے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ایک ہزار 240ارب روپے کا ایک پیکج دیا گیا اور دوسری جانب سٹیٹ بینک کو سبسڈیز بھی دی گئیں، ان کے ذریعے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد کرایا گیا تاکہ لوگوں خصوصاً چھوٹی کاروباری کمپنیوں کو پیسے میسر ہوں تاکہ وہ اپنے لوگوں کو کمپنی کے پے رول پر برقرار رکھ سکیں۔مشیر خزانہ نے کہ ان پیکجز کے تحت ایک کروڑ 60لاکھ خاندانوں کو رقم دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ان کا کروبار زندگی بھی چلے ور ان کی حالت معاشی طور پر بالکل تباہ نہ ہو۔۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ زراعت کے شعبے میں 50 ارب روپے کی اسکیمیں لائے تاکہ ویاں کھاد کی قیمتیں کم ہوں ور ٹڈی دل کا مقابلہ کیا جا سکے اور کسانوں کومراعات دی جا سکیں۔مشیر خزانہ نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو یہ سہولت دی گئی کہ وہ 50 لاکھ کے بجائے ایک کروڑ دکانوں تک اور یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وزیراعظم کا وڑن ہے کہ کم آمدن والے افراد کو گھر بنانے میں مدد کی جائے اور اس کے لیے 30ارب روپے رکھے گئے ہیں۔قومی اقتصادی سروے رپورٹ میں کورونا وائرس سے متعلق خصوصی باب بھی شامل کر لیا گیا، سروے کے مطابق وباء کے باعث ملک کی 56.6 فیصد آبادی سماجی اورمعاشی لحاظ سے غیرمحفوظ ہوگئی جبکہ ملک میں خواتین لیبر فورس کم ہوجائے گی۔ وائرس کے باعث دوکروڑ 71 لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔قومی اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق جزوی لاک ڈاؤن میں زرعی اورغیر زرعی شعبے میں 1 کروڑ 55 لاکھ افراد بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں ایک کروڑ 91 لاکھ افراد کی بیروزگار ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں زیادہ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے، وائرس سے اوورسیز پاکستانیز کے بیروزگاری سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، سکولوں کالجزکی بندش سے خواتین کے بیروزگارہونے کا خدشہ ہے

اقرصٓدی سروے

مزید :

صفحہ اول -