صدر ٹرمپ کیساتھ چرچ کا دورہ، جنرل مائلی کی قوم سے معذرت

  صدر ٹرمپ کیساتھ چرچ کا دورہ، جنرل مائلی کی قوم سے معذرت

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر امریکہ میں احتجاجی مظاہروں جاری سلسلہ اب پولیس کو ڈی فنڈ کرنے اور نسلی منافرت کے خاتمے کی تحریک میں بدل گیاہے۔ اس کے نتیجے میں عوامی دباؤ اتنا بڑھ گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس بھی پولیس اصلاحات کیلئے آمادہ ہو گیا ہے، ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک ارکان بھی محکمہ پولیس کی تطہیر کیلئے ایک مشترکہ بل لیکر آنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ ملک گیر مظاہروں پر قابو پانے کیلئے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر پولیس کی مدد کیلئے فوج اور نیم فوجی دستے نیشنل گارڈز کو طلب کیا گیا تھا لیکن فوج نے مظاہرین کیخلاف پرتشدد رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا،واشنگٹن ڈی سی کی سیاہ فام میئر مورئیل باؤسر کے شدید احتجاج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے نیشنل گارڈز کو دارالحکومت سے نکلنے کا حکم دیدیا تھا۔ یکم جون کو صدر ٹرمپ ایک چرچ میں گئے اور وہاں پادریوں کیساتھ تصاویر کو میڈیا کے لئے جاری کیا گیا۔ جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مار ک مائیلی جو اس سے قبل صدر ٹرمپ کے ہمراہ تھے وہ بھی چرچ کی وزٹ میں شامل ہو گئے جو صدر کی اس مو قعہ کی تصویر میں ان کیساتھ کھڑے نظر آئے۔جنرل مائیلی نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کیلئے پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام میں جو جمعرات کے روز جاری کیا صدر ٹرمپ کے ہمراہ چرچ کے دورہ کے موقع پر قوم سے معافی مانگی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ”مجھے وہاں موجود نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ اس سے تاثر ابھرا کہ فوج ملک کی داخلی سیاست میں ملوث ہے۔“ جنرل مائیلی نے واضح کیا امریکی فوج کو داخلی سیاست سے الگ تھلگ رہنا چاہئے۔ میں آئندہ اس سلسلے میں احتیاط کروں گا اور فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے فوج کے ملکی سیاست میں ملوث ہونے کا تاثر پیدا ہو۔ قبل ازیں کیپٹل ہل میں کانگریس کے ڈیمو کریٹک ارکان نے پیر کے روز پولیس اصلاحات کا بل ایوان نمائندگان میں پیش کیا تھا جس میں پولیس کو حاصل استثنیٰ کو محدود کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ اس بل میں ملزما ن کی گردن گھٹنے سے دبانے پابندی لگا دی گئی ہے جس کارروائی سے جارج فلائیڈ کی موت واقع ہوئی تھی۔ بل میں پولیس افسروں کے قابل اعتراض رویئے کا ریکارڈ رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ہفتے جب اس بل پر ووٹنگ ہوگی تو ریپبلکن پارٹی سمجھوتے کے تحت اس کی مخالفت نہیں کریگی۔ اسوقت ایوا ن نمائندگان میں ڈیمو کریٹک پارٹی کو واضح اکثریت جبکہ سینیٹ میں ریپبلکن کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔

جنرل مائلی معذرت

مزید :

صفحہ اول -