کراچی، ضلع وسطی کے تھانے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں میں سبقت لے گئے

کراچی، ضلع وسطی کے تھانے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں میں سبقت لے گئے

  

کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)ضلع وسطی کے مختلف تھانے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی ریس میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے لگے،چند تھانوں کو اپنی حدود میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے خود ٹریننگ کی ضرورت ہے،ایس ایچ اوز اپنی اپنی حدود میں رات گئے تک کاروبار کرنے کی اجازت دے کر خود چین کی بانسری بجانے لگے۔جو تھانے اپنے علاقے میں سختی سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرارہے ہیں انہیں بھی ان تھانوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا،شہریوں کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل کرنا جہاں ہمارا فرض ہے وہیں پولیس اور انتظامیہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ رات گئے تک کھلنے والے کاروبار کے ماکلان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے،تفصیلات کے مطابق حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے تمام کاروباری حضرات کو صبح 8 بجے سے شام 7 بجے تک کاروبار کھولنے کی اجازت دی تھی جبکہ فاسٹ فوڈ اور ہوٹلز کو صبح 8 سے رات 10 بجے تک صرف ڈلیوری کی اجازت دی ہے مگر ضلع وسطی میں نیو کراچیتھانہ،بلال کالونی تھانہ،،آسرسیدتھانہاور لیاقت آباد تھانے نے اپنی ایس او پیز بناتے ہوئے تمام کاروباری حضرات کو خود ساختہ اجازت نامے دے دیے ہیں کہ وہ جب تک چاہیں اپنی دکانیں کھول سکتے ہیں،اسی طرح تمام ٹھیلے اور پتھاروں کو بھی رات دیر تک کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی،نیو کراچی تھانے کی حدود میں ڈبو،فٹ بال،چائے کے ہوٹل،کھانے کے ہوٹلز،باربی کیو جیسے کاروبار رات دیر تک جاری رہتے ہیں،لیاقت آباد پولیس نے خود ساختہ ایس او پیز بناتے ہوئے مین شاہراہ پر دکانداروں سے کہا ہے کہ دکان میں صرف ایک سیور جلاکر کام کرو اور جب پولیس موبائل آئے تو سیور بند کرکے شٹر گرادو موبائل گزرجانے کے بعد دوبارہ شٹر اٹھاکر کام کرو رات دس کے بعد دکانداروں کے لیے اور زیادہ نرمی کردی جاتی ہے جبکہ علاقے کے اندر تمام دکاندار بلا خوف خطر اپنا کروبار رات گئے تک جاری رکھتے ییں،روزنامہ پاکستان میں ڈبو اور فٹبال گیم کے حوالے سے خبر شائع ہونے کے بعد لیاقت آباد پولیس نے فٹبال گیم کی دکانیں شام ہوتے ہی بند کروادی مگر ڈبو کی دکانیں ابھی بھی کھلی رہتی ییں،بلال کالونی اور سرسید تھانے نے بھی اپنی ایس او پیز بناتے ہوئیتمام کاروبار رات دیر تک کھلا رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہے،شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر پولیس اور انتظامیہ ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے تو عام شہری کس طرح سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرے گا اگر تمام کاروبار شام 7 بجے بند کروادیا جائیتو شہری اپنے گھر سے باہر نکلنے کے لیے ایک بار یو سوچے گا کہ باہر جاکر کرے گا کیا جب کوئی دکان ہی نہیں کھلی ہوگی،اس معاملے کو اعلی حکام کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے کیوں کہ اب تک کے ناقص اقدامات کی وجہ سے کورونا مریضوں کی تعداد روزآنہ ہزاروں میں آگئی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -