عوام کواسپتالوں میں بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا ہے،مولانا راشد محمود

عوام کواسپتالوں میں بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا ہے،مولانا راشد محمود

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جمعیت علما اسلام صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد خالد محمود سومرو نے کورونا وبا کے مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے عوام کواسپتالوں میں بے یار ومددگار چھوڑ دیا گیا، علاج کی کوئی سہولت میسر نہیں، مگر حکومتی دعوے آسمان کو چھو رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پیپلز پارٹی کے زیراہتمام کثیر الجماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا راشد سومرو کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ وفاق سے صوبوں کو حقوق مل رہے ہیں اور صوبہ اگر اسے نچلی سطح پر عوام کو منتقل نہیں کر پارہا تو ان حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کا کیا فائدہ ہے پھر اپنی ناکامیوں کی تلاش کی ضرورت ہے، انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کتنی شرم کی بات ہیکہ گلی کوچوں میں بچوں اور بڑوں کو سانپ اور کتے کاٹ رہے ہیں لیکن ہمارے شہری و دیہی ہسپتالوں میں ان تکلیف کو رفع کرنے کیلئے حفاظی ٹیکہ جات تک موجود نہیں ہیں، اگر ہم عوام کو یہ ٹیکہ جات مہیا نہیں کرسکتے تو مزید اختیارات کی تگ و دو کس لئے کی جارہی ہے۔جے یو آئی کے صوبائی سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ مسائل کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے، صوبائی حکومت تمام شعبوں میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، بے روزگاری کے باعث چوری راہزنی کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں، تعلیمی بحران کے خاتمے کیلئے حکومت کوئی قدم اٹھاتی نظر نہیں آرہی، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کورونا کو بہانہ بناکر مذہب کو بری طرح نشانہ بنایا اسی پاداش میں سندھ بھر میں علما کرام کی تضحیک کی گئی، مساجد کو تالے لگائے گئے جو کہ ہمارے لئے انتہائی تشویشناک مرحلہ تھا مگر ہم نے صبر کا مظاہرہ کرکے حالات کو کنٹرول میں رکھا،انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل کے مزدوروں کو کسی صورت بے روزگار نہیں ہونے دیں گے،جمعیت علما اسلام 18 ویں ترمیم کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے گی، این ایف سی ایوارڈ گزشتہ 15 سالوں سے ایک ہی ہے 18 ویں ترمیم کے بعد 15 اہم محکمے صوبوں کے حوالے ہوئے مگر رقم وہی رکھی گئی اور صوبوں پر بوجھ 15 اداروں کا ڈالا گیا۔ انہوں مطالبہ کہا کہ وفاق اگر صوبہ سندھ کو اضافی رقم نہیں دیتا تو صوبوں کو ملنے والی موجودہ رقم کٹوتی کی بھر پور مخالفت کی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ دینی مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں کیلئے پالیسی بنائی جائے اور ایس اوپیز کے

مزید :

صفحہ آخر -