سندھ میں اگر کوئی ترقی ہو رہی ہے تو پیپلز پارٹی کو تکلیف پہنچتی ہے: فردوس شمیم

سندھ میں اگر کوئی ترقی ہو رہی ہے تو پیپلز پارٹی کو تکلیف پہنچتی ہے: فردوس شمیم

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی، پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہاہے کہ سندھ میں اگر کوئی ترقی ہورہی ہے تو پیپلزپارٹی کو تکلیف پہنچتی ہے ایس آئی ڈی ایل پر اعتراض سمجھ سے بالاتر ہے کیا سندھ کی ترقی ان سے نہیں دیکھی جاتی۔جمعرات کو سندھ اسمبلی کمیٹی روم نمبر 2 میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ انفرا اسٹریکچر کمپنی بنانے پر اعتراض کیا گیا سندھ میں صرف ایک اومنی کمپنی ہے جس نے ترقی کی۔آج جب ہم سندھ کی ترقی کی بات کرتے ہیں تو پیپلزپارٹی کو تکلیف پہنچتی ہے کل وزیر اعلیٰ نے ایک بارہ بھی سندھ کارڈ کھیلتے ہوئے گھٹیا حرکت کی بینظیر بھٹو چاروں صوبوں کی رنجیر تھیں 18ترمین کا غلط استعمال کرنے سے چاروں صوبوں کی زنجیر کو توڑ دیا گیا پیپلزپارٹی نے ہمیشہ وفاق کو کمزور کرنے کی سازش کی ہے پاکستان کی معیشیت تباہ کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ نے لاک ڈاؤن لگایا۔ تھر کی عوام کو دو ارب کا انشورنس ہیلتھ کور دیا ہے گیا ہیلتھ کارڈ کے ذریعے پئسے دیے جارہے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے لاڑکانہ کی نالیاں تک نہیں بنائی۔ گرین لائن کو نواز شریف نے افتتاح کیا تھا کراچی انفرااسٹریکچر ڈیویپمنٹ کمپنی تھی تب وزیر اعلیٰ ساتھ بیٹھے تھے تب ان کو کوئی اعتراض نہیں تھا اگر اس کمپنی کا نام سچل انفرا اسٹریکچر رکھ دیتے ہیں کیا آپ کو اعتراض ہوگا؟اومنی کی کمپنی ان کو منظور تھی جس کے ذریعے کرپشن کی گئی لیکن سندھ کی ترقی دیکھنا نہیں چاہتے۔ سندھ حکومت نے کہا وینٹیلیٹر نہیں ملے 76 وینٹیلیٹر وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو مل چکے ہیں پھر بھی جھوٹ بول رہے ہیں وینٹیلیٹر مریضوں کو نہیں مل رہے ہیں تو جا کہاں رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو چیلینج کرتا ہوں کہ ان کو وزیر اعظم ہاؤس میں کسی نے آنے سے منع نہیں کیا اگر کسی چپڑاسی نے ان کو روکا ہے تو اس کا پتہ نہیں وزیر اعظم ہاؤس سے کسی نے بھی ان کو آں ے سے منع نہیں کیا وزیر اعلیٰ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ایئرپورٹ پر تھے آں ے سے منع کیا گیا کل کی این سی اے کی میٹنگ میں جو بات چیت ہوئی سامنے لائی جائے بیس منٹ کی میٹنگ میں پتا چل جائے گا کا ان کو کتنا سندھ کی عوام کا درد تھا کسی پارٹی کو اعتراض نہیں ہوتا ہے ان کو باہر نکلے کے باہر اعتراض ہوتا ہے وزیر اعلیٰ صاحب سندھ کارڈ کھیلنا چھوڑ دیں سندھ کارڈ کھیل کر آپ اپنے گناہوں سے چھپ نہیں چھپ سکتے ہیں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کہتی ہے آپ نے 957 بلین کی کرپشن کی ہے آپ لوگوں نے گزشتہ دو سال کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ رکوا دی ہے آپ لوگوں نے سندھ کی تعلیم، اسپتالوں کو تباہ کیا ہے تھر پیاسا ہے بچے مر رہے ہیں آپ لوگوں نے کچھ نہیں دیا تھر میں میرے کپتان نے 2 لاکھ 75 ھزار ہیلتھ کارڈ دیئے پوری سندھ میں کارڈ دیئے جاسکتے ہیں لیکن سندھ حکومت اپنا شیئر نہیں دیتی کراچی سے تھر تک عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ کے فور کے منصوبہ سندھ حکومت کی کرپشن کی نذر ہوگیا اب ہمارے کپتان کراچی کی عوام کو پانی دینا چاہتے ہیں تو آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔ سکھرکورنٹائن میں میرے اوپر فسادکرانے کاالزام لگایا گیا سکھرمیں کل پندرہ وینٹیلیٹرز ہیں دعوے بڑے کئے گئے کروڑوں روپے رلیزکئے گئے وینٹلیٹر موجود نہیں ہیں اربوں روپے کہاں خرچ کئے گئے کہاں گئے پرائیوٹ اسپتال لوٹ رہے ہیں لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹے جارہے ہیں لوگ کہاں جائیں۔ اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ حکومت نے سندھ کی عوام کا برا حال کیا ہے جناح اسپتال کے پاس عوام کا حال دیکھ لیں عوام سراپا احتجاج ہیں علاج نہیں ہورہا وزیر اعلیٰ سندھ کرونا کا رونا روتے تھے گزشتہ روز نینشنل اکانومی کاؤنسل کا رونا روئے وزیراعلی سندھ نفرت کی آگ پھیلا رہے ہیں کہا توتھا کہ پاکستان کھپے پر عملا اس کے برعکس ہے ایس ڈی سی ایل کوئی ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں ہے جواعتراض کیا گیا گرین لائین گرومندتک تعمیرہونا تھا پھراس کو صابری نہاری تک بڑھایا گیا جائیکا رپورٹ کے بعد پہلے بلیولائن اورریڈ لائن پرپرلائین اورریڈ لائن کی بات کی گئی گرین لائین منصوبہ وفاق نے لیا اورنج لائین بھی پلان کی گئی3.9کلومیٹران سے بنانہیں۔ بیس مئی کو سندھ حکومت نے ایم اویوسائین کیا ہے بیس مئی تک ایس آئی ڈی سی ایل بہتر اداراتھا اب خراب ہوگیا آج اسیمبلی بجٹ پر اجلاس ہواکسی کوآرٹر کی رپورٹ میمبران کونہیں دی ہے گرین لائین پر تعمیرتیزی سے جاری ہے کراچی کی کئی سڑکوں کی تعمیرایس آئی ڈی سی ایل نے کی ہے جس سے عوام کوفائدہ ہواہے جن پانی کی لائینوں پر اعتراض کیا گیا بتایا جائے کہ واٹربورڈ سویا ہواتھا یہ لائینیں پہلے کی طرح ڈالی جارہی ہے منگھوپیر سے بنارس کی سڑک پربھی اعتراض کیا گیا جناح ایونیو کے منصوبے کوبھی وفاق نے ترقیاتی اسکیموں میں شامل کیا ہے صوبے نے اسکیمزنہیں جمع کروائیں کیا ان کوپتہ نہیں تھا کہ بجٹ کب پیش ہوتا ہے۔ صوبے میں فائینانشل ایمرجنسی کی ضرورت ہے لوکٹس کے لئے گاڑیاں ابھی خریدی ہیں۔ پندرہ کروڑ خرچ کئے گئے ہیں۔ وزیراعلی بتائیں کسی سے سوکروڑ کا کام کروؤاگے تو پیسے بھی دینے پڑتے ہیں سیہون روڈ کے پیسے ٹھیکیدارکودے دیئے گئے ہیں وفاق کوکہیں گے کہ آئیندہ جوبھی منصوبا مکمل کرے اس میں شراکت نہ کریں کے فورمیں صوبے نے پیسے نہیں دیئے شاید آج کچھ دیئے ہیں ایس تھری آٹھ ملین روپے کا تھا ففٹی ففٹی پیسے دینے تھے اب اس کی لاگت بڑھ گئی ہے کراچی واٹربورڈ دوہزارچار سے بیس تک اس کومکمل نہیں کرسکا ہے لیاری ندی میں کچھ نظرآتا ہے باقی کہیں نہیں بڑے صاحب نے اپنے محبوب پاک اوسس کمپنی کوآٹھ سو آراوپلانٹ کے ٹھیکے دیئے آراوپلانٹ نہیں چل رہے ہیں پاک اوسز ملک ریاض اورمراد علی شاہ کی کہانیاں جے آئی ٹی میں بھری پڑی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -