پٹرول بحران پر 4 کروڑ روپے جرمانہ عائد لیکن یہ جرمانہ کسے کیا گیا؟ بڑی خبرآگئی

پٹرول بحران پر 4 کروڑ روپے جرمانہ عائد لیکن یہ جرمانہ کسے کیا گیا؟ بڑی خبرآگئی
پٹرول بحران پر 4 کروڑ روپے جرمانہ عائد لیکن یہ جرمانہ کسے کیا گیا؟ بڑی خبرآگئی

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان میں تیل اور گیس کی ترسیل کے ذمہ دار ادارے اوگرا نے نے پٹرول بحران کے ذمہ دار 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیز پرمجموعی طور پر4 کروڑ روپے کے جرمانہ عائد کردیے ہیں۔اوگرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آئل کمپنیز30 دن میں جرمانہ ادا کرنے کی پابند ہوں گی۔ 50 فیصد جرمانہ ادا کرنے پرآئل کمپنیزنظرثانی کی اپیل کرسکتے ہیں۔

اوگرا بیان کے مطابق اٹک پٹرولیم لمیٹڈ، پوما گیس اینڈ آئل لمیٹڈا ور ہیسکول پٹرولیم لمیٹڈ پر 5، 5 ملین کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔اوگرا کے مطابق شیل پاکستان لمیٹڈ اور ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ پر10،10 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔اوگرا نے آئل کمپنیزکوسپلائی بہتربنانے کی ہدایات بھی جاری کردی ہے۔ ہدایات پرعمل نہ کرنے پرمزید جرمانے بھی عائد کیے جاسکتے ہیں۔اوگرا کے مطابق تمام شوکازنوٹسزکونمٹا دیا گیا۔ اوگرا، ڈی سی اوز، ایف آئی اے، ایچ ڈی آئی پی تمام ڈیپوزکا معائنہ جاری رکھیں گے۔

ہم نیوز کے ذرائع کے مطابق شیل پاکستان، ہیسکول پٹرولیم اور گولمیٹڈ کے ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وفاق کی انکوائری کمیٹی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے سی ای اوز کو نوٹسز جاری کرکے طلب کرلیا ہے۔چینل ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاق کی انکوائری کمیٹی نے مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے ڈپوز پر بھی چھاپے مارے تھے۔وفاقی حکومت نے آئل کمپنیزکی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے حقائق جاننے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شیل پاکستان لمیٹڈ کے سی ای او ہارون راشد کو وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی کمیٹی نے جمعرات کی دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا ہے۔حکومتی کمیٹی کی جانب سے ہیسکول پٹرولیم لمیٹڈ کے سی ای او کو جمعرات ساڑھے گیارہ بجے اور گیس اینڈ آئل کمپنی لمیٹڈ کے سی ای او خالد ریاض کو دوپہر ایک بجے طلب کیاتھا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -