ایسی ہے تنہائی....!!

ایسی ہے تنہائی....!!
ایسی ہے تنہائی....!!

  

تحریر: علی احمد چوہدری

حال ہی میں ایک مشہور ٹی وی چینل کے ڈرامہ سیریل "ایسی ہے تنہائی" کے او-ایس-ٹی سونگ "سایہ بھی ساتھ جب چھوڑ جاۓ, ایسی ہے تنہائی..... " نے بہت سے افراد کو اپنا مداح بنایا. یقین جانیں حالیہ دنوں میں بھی المیہ یہی ہے کہ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں,اگر ہمیں اپنی ذات,قوم اور وطن کی بقاء عزیز ہے تو ہمیں اپنے ساۓ سے بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے. اگر ہم اس تنہائی کے سبب کی طرف جائیں تو اسکی وجہ ایک جان لیوا وباء بنی ہوئی ہے جسے آجکل بچہ بچہ "کرونا وائرس" کے نام سے جانتا ہے. اس میں کوئی دوبر راۓ نہیں ہے کہ یہ ایک انتہائی دکھی اور سنجیدہ المیہ ہے کہ اس مہلک وباء نے قریباً کرّہِ ارض کے ہر کونے کو گھیر رکھا ہے. اس صدی میں اگر کسی نے انسانیت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو وہ یہ "کرونا وائرس" نامی جان لیوا وباء ہے. مگر صد افسوس کہ ہم آج بھی اس معّمے کو سنجیدہ لینے سے قاصر ہیں. سوشل میڈیا فورمز میں سے کسی بھی چاہےفیس بُک ہو یا انسٹاگرام, واٹس ایپ ہو یا ٹویٹر کو اٹھا کر دیکھ لیں, جہاں ایک طرف کچھ intellectual approach رکھنے والے افراد COVID-19 کے خلاف آگاہی مہم چلانے میں مصروف ہیں, وہیں ایک طبقہ اس مہلک وباء کے متعلق مضحکہ خیز مواد بنانے اور پھیلانے سے بھی باز نہیں ہیں. ابھی کل ہی میں فیس بُک سکرول کرنے میں مصروف تھا کہ میری نظر ایک میم (meme) پر پڑی, جسے پڑھے بغیر میں گُزر نہ سکا. کسی نے لکھا ہوا تھا کہ"پہلے چائنہ نے ٹچ موبائل کڈیا سی تے ہُن ٹچ بیماری کڈ دَتی." جبکہ اس وباء کے متعلق کسی نے کیا خوب کہا ہے:

وہ تعفن ہے کہ اس بار زمین کے باسی

اپنے سجدے سے گئے, رزق کمانے سے گئے

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو!

کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

اس وائرس کی سنجیدگی کا اندازہ اس اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے ماہ گُزر جانے کے باوجود ابھی تک اس کی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی اور امریکہ جیسی سُپر پاور بھی اس کے سامنے گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے. تاریخ میں پہلی بار ایسے حالات پیش آئے ہیں کہ اگر آپ اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اکٹھے ہو کر نہیں بلکہ تنہائی اختیار کر کے اور الگ الگ ہو کر انفرادی طور پر اس جان لیوا وباء سے نمٹنے کی جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں. ہمارے یہاں شرح خواندگی میں کمی کے سبب ہمیں آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہےتاکہ لوگوں کو اس وائرس کی نوعیت, اثرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کا صحیح معنوں میں علم ہو سکے. ہمارے یہاں "کرونا وائرس" کے خلاف آگاہی کا فقدان ہونے کیساتھ ساتھ لوگوں نے اس کے متعلق مختلف من گھڑت نظریات قائم کر رکھے ہیں. کچھ لوگ تو اس وائرس کو سراسر ماننے سے ہی باغی ہیں. چند افراد کی راۓ تو یہ ہے کہ موت تو برحق ہے تو کرونا سے کیوں ڈرنا؟ کچھ نیم حکیم طبعیت والے افراد اپنے ہی تیار کردہ گھریلو ٹوٹکے استعمال کرکے اپنے اپنے آپ کو اس وباء سے بری الذمہ سمجھتے ہیں اور کسی قسم کے ہجوم میں جانے سے بالکل نہیں کتراتے. مزید نِہلے پہ دِہلا کہ چند افراد سے تو یہ بھی سُننے کو ملتا ہے کہ "جی مسلماناں نوں تے کرونا ہو ای نئی سکدا." چند روز قبل میں اپنے رُوم میٹ کیساتھ واٹس-ایپ پہ خوش گپیوں میں مصروف تھا, میں نے یونیورسٹی میں گُزارے ہوۓ دنوں کو یاد کرتے ہوۓ ایک سرد آہ بھری اور افسردہ لہجے میں کہا کہ یار اب تو گھر رہ رہ کر بور ہو گئے ہیں تو مُرشد نے اس پر نہایت پیاری بات کہی کہ " بور ہونا, مرحوم ہونے سے بہتر ہے." اپنے وطنِ عزیز کی بقاء اور اپنے پیاروں کی جانوں کی خفاظت کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے سماجی روابط کو فزیکلی انتہائی محدود کر دیں اور اگر انتہائی مجبوری کے عالم میں کہیں جانے کی ضرورت پیش آۓ تو SOP's پر عمل کو یقینی بنائیں. ذرا ٹھہرئیے! ذرا سوچئے! اور ذرا غور فرمائیے کہ جہاں دُنیا بھر کے ڈاکٹرز دن رات مریضوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اِس مہلک مرض کا علاج ڈھونڈنے کی تگ و دو میں ہیں,جہاں پولیس اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ہماری خفاظت میں مصروف ہے اور جہاں حکومت اس وباء سے بچاؤ کیلئے اقدامات اٹھانے کیساتھ ساتھ اپنی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے جدوجہد کر رہی ہے, وہاں کیا ہم اپنے فرض کو احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟ یہاں بقیہ ذمہ داری ہمارے کندھوں پر عائد ہوتی ہے کہ ہم سوشل ڈِسٹنس کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ اس وباء کے خلاف لڑائی میں اپنی حکومت, پولیس اور پیرامیڈیکل سٹاف کا ساتھ دیں. اس کے علاوہ ضروری ہے کہ ہم اپنے روٹھے ہوۓ خدا کو اپنی دعاؤں اور آنسوؤں سے منانے کی کوشش کریں تاکہ اس آفت سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل ہو. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو. آمین

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -