میں کون ہوں؟

میں کون ہوں؟
میں کون ہوں؟

  

تحریر: محمد ریاض

میں کون ہوں؟ یہ اک چھوٹا سا سوال اپنے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزارہا سوالات کو جنم دیتا ہے۔

میں کون ہوں، میں کہاں ہوں، میں کس طرح کا ہوں، میرے پاس کون ہے، میں کن کے پاس ہوں، میرا مذہب کونسا ہے، میرا مسلک کیا ہے، میرا فرقہ کیا ہے، میرا وطن کونسا ہے، کیامیں حق پر ہوں، میری منزل کونسی ہے، میرے وجود پر کس کا حق ہے، میری ابتداءکیا ہے، میری انتہا ءکیا ہے، میرے وجود کا مقصد کیا ہے، دوسری مخلوقات کے مقابلے میں میرا مقام کیا ہے،

مجھے بتایا گیا کہ میں انسان ہوں اور اشرف المخلوقات کا مقام حاصل ہے تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ کیا انسان ایسا ہوتا ہے جو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو ختم کرنے کےلئے ہر وقت نت نئے منصوبے بناتا ہے۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن انسان ہے، انسانی تاریخ انسان کے ظلم و بربریت کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ انسان کے اندر کا حسد، بغض، کینہ اسکی تمام اچھائیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے انسان کو اپنے سے کم تر مخلوقات سے بھی نچلے درجے کی مخلوق بنا دیتا ہے۔ کہیں مذہب کے نام پر قتل و غارت تو کہیں علاقائی تسلط کے لئے جنگ و قتال۔انسانی تاریخ میں انسانیت پر ظلم و ستم کی تاریخ ناقابل بیان ہے۔ کس طرح اشرف المخلوقات نے اپنے ہی جیسے اشرف المخلوقات پر زمین تنگ کردی۔

مجھے بتایا گیاکہ میں مسلمان ہوں تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ میں مسلمان کم مگرسنی، حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی، وھابی،اہلحدیث، تبلیغی،چشتی، سہروردی، سلفی، سیفی زیادہ ہوں۔ میں اپنے آپکو حق پر اور دوسرے مسلمانوں کو مشرک، بدعتی، خارجی، رافضی، گستاخ، بدمذہب زیادہ سمجھتا ہوں۔ میں دوسرے مسلک کے اماموں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا کیونکہ مجھے یہی سیکھایا اور بتایا گیا کہ دوسرے مسلک والوں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ چھوٹے چھوٹے اختلافی معاملات پر فتوے جاری کر دیتا ہوں اور لڑنے لڑانے پر آجاتا ہوں۔ شائد اسی لئے مفکر پاکستان شاعر مشرق جناب علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا:

شور ہے، ہوگئے دنیا سے مسلمان نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!

وضع میں تم ہو نصاریٰ توتمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغانی بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتاو¾ مسلمان بھی ہو

مجھے بتایا گیا کہ میرا وطن پاکستان ہے اور میں پاکستانی ہوں تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ میں پاکستانی کم مگر پنجابی، بلوچی، سندھی، پختون، مہاجر زیادہ ہوں۔مجھے میرے پاک وطن پاکستان میں پاکستانی قوم کم مگر دوسری اقوام کے لوگ زیادہ نظر آئے۔ مجھے پاکستان سے زیادہ اپنے مذہبی وابستگی سے لگاؤ والے ممالک سے زیادہ محبت محسوس ہوتی ہے۔ میری نظر اپنے علاقے و صوبے کے وسائل سے زیادہ دوسرے علاقے، صوبے کے وسائل پر زیادہ ہے۔ میں اپنے علاوہ پاکستان کے دوسرے علاقے کے پاکستانیوں کو ملکی وسائل پر قابض و غاصب سمجھتا ہوں۔ میں اپنی سیاسی وبستگی والی جماعت کے علاوہ دوسری جماعتوں کو سیکورٹی رسک، غدار وطن، چور ڈاکو، کرپٹ سمجھتا ہوں۔

درج بالا اپنی پہچان دیکھنے کے بعد تمام مسائل و برائیوں کا حل اللہ کی کتاب قرآن مجید میں درج ہے۔

”اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اسکی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ نے تمہیںاس سے بچا لیا۔ اللہ تعالی اسی انداز سے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست کو پا سکو“۔ (سورہ العمران آیت نمبر ۳۰۱)

مفکر پاکستان شاعر مشرق جناب علامہ محمد اقبال کے یہ زریں الفاظ قابل تقلید ہیں

عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری

مرے درویش!خلافت ہے جہاں گیر تری

ماسوی اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تری

تو مسلمان ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری

کی محمد ﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -