کورونا وائرس، لاہورمیں پیرسے 2 ہفتے کیلئےلاک ڈاؤن کرنے پرغور

کورونا وائرس، لاہورمیں پیرسے 2 ہفتے کیلئےلاک ڈاؤن کرنے پرغور
کورونا وائرس، لاہورمیں پیرسے 2 ہفتے کیلئےلاک ڈاؤن کرنے پرغور

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارلحکومت میں کورونا کے بڑھتے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے  ایک مرتبہ پھر پیرسے 2 ہفتے کیلئےلاک ڈاؤن کرنے پرغور شروع کردیا گیا۔

دنیا نیوز کے مطابق  لاک ڈائون کے دوران ادویات اور گروسری کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی تاہم لاہور میں لاک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔ ذرائع کے مطابق لاہورمیں کوروناکےریکارڈکیسزکےباعث غورشروع کردیا گیا۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس نے پاکستان میں تباہی مچانا شروع کر دی کیونکہ آج ایک روز میں سب سے زیادہ اموات اور کیسز سامنے آ گئے ہیں جس نے ہر کسی کے ہو ش ہی اڑا کر رکھ دیئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 28 ہزار 344 ٹیسٹ کیے گئے جس میں مزید 6 ہزار 397 افراد میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جو کہ ایک روز میں سامنے آنے والے اب تک کے سب سے زیادہ کیسز ہیں جس کے بعد پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار 933 ہو گئی ہے ۔اس کے علاوہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث 107 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جوکہ ایک روز میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 2463 پر جا پہنچی ہے ۔تاہم 40ہزار 247 افراد صحت یاب ہونے کے بعد گھروں کو لوٹ گئے ہیں ۔

دوسری طرف وفاقی حکومت نے کورونا سے جاں بحق طبی عملے کیلئے ایک کروڑ تک مالی پیکج کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا فرنٹ لائن ورکرز کو ٹیکس چھوٹ بھی دی جائے گی، ہیلتھ ورکرز کا تحفظ اور ان کی معاونت ترجیح ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہو، خصوصی پیکج کورونا کے خلاف نبردآزما ڈاکٹروں اور طبی عملے کیلئے ہوگا، صوبائی وزراء صحت اور ماہرین سے بھی اس پیکج پر مشاورت کی گئی ہے، ہمارے دین میں کہا جاتا ہے جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی، وفاقی اور صوبائی حکومتیں خصوصی پیکج پر اطلاق کی ذمہ دار ہونگی۔

ظفر مرزا کا کہنا تھا مشکل حالات میں ذمہ داری ادا کرنیوالے ہیلتھ ورکرز ہمارے ہیرو ہیں، فرنٹ لائن ورکرز کیلئے ٹیکسز کی صورت میں کچھ سہولیات دیں گے، فرنٹ لائن ورکرز کو انکم ٹیکس میں چھوٹ کی سہولت دی جائے گی، ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران جاں بحق ہونیوالے ہیلتھ ورکرز کو شہدا پیکج ملے گا، بعض مریضوں کے لواحقین تسلی بخش علاج نہ ہونے پر قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں، مریضوں کے لواحقین ڈاکٹرز اور طبی عملے کو زدوکوب اور تشدد کرتے ہیں، طبی عملے کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

معاون خصوصی نے مزید کہا طبی عملے کے اہلخانہ کی ترجیحی بنیادوں پر نجی و سرکاری سطح پر علاج معالجے کی ذمہ داری حکومت لے گی، ہیلتھ ورکرز کو ہیلپ لائن کے ذریعے سپورٹ دی جائے گی، دیگرممالک کے ہیلتھ ورکرز میں انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے، ہیلتھ ورکرز کے ترجیحی بنیادوں پر ٹیسٹ کیے جائیں گے، ہیلتھ ورکرز کی فیملی کا علاج بھی حکومت کرے گی، سٹیٹ بینک نجی ہسپتالوں کو آسان شرائط پر قرض دے رہا ہے، قرض پرائیویٹ ہسپتالوں کو سٹاف کی تنخواہوں کیلئے دیئے جا رہے ہیں۔

مزید :

کورونا وائرس -