پاکستانی ایٹمی پروگرام کے وہ ہیروز جن کے بارے بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں

پاکستانی ایٹمی پروگرام کے وہ ہیروز جن کے بارے بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں
پاکستانی ایٹمی پروگرام کے وہ ہیروز جن کے بارے بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے ایٹمی پروگرام نے ایک دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا تھا، کہ ایک ایسا ملک جو معاشی اعتبار سے کبھی اتنا طاقتور نہیں ہوا، کیسے ایٹمی طاقت بن گیا؟ پاکستان کی یہ بے مثال کامیابی یکسو سیاسی قیادت، اتنہائی پیشہ ور سائنسدانوں، انجینئرز اور فوجی و انٹیلی جنس کے کچھ افسران کی شبانہ روز محنت کی مرہون منت ہے۔ ہمارے ایٹمی پروگرام کے کئی ایسے ہیروز ہیں جن کے بارے میں پاکستانی بہت کم جانتے ہیں۔ گزشتہ ماہ 28مئی کو قوم نے یوم تکبیر منایا، یہ وہ دن تھا جب پاکستان نے تمام تر عالمی دباﺅ کو پش پشت ڈالتے ہوئے ایٹمی دھماکے کیے اور ان ہیروز کی دہائیوں کی لگن اور محنت بارآور ہوتی اس قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اسی یوم تکبیر کے موقع پر پاکستانیوں نے عمر خیام اور ایم حنظلہ طیب نے پوری تحقیق کے بعد ایٹمی پروگرام کے ان گمنام ہیروز کے کارنامے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتائے جو ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں:

ایوب خان

ایوب خان نے امریکی ایٹمز برائے امن پروگرام کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس کی آڑ میں اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے مقامی سائنسدانوں اور انجینئرز کی خاطرخواہ تعداد جمع کر لی۔

ذوالفقار علی بھٹو

ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کا نام ہر پاکستانی جانتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کا خواب دیکھا اور اس کی تعبیر پانے کے لیے متحیر کن عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے پوری پاکستانی قوم میں ایسی جوت جگائی کہ قوم یکسو ہو کر ان کے اس خواب کی تعبیر پانے میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند

سائنسدانوں اور انجینئرز کی جس ٹیم نے پاکستانی ایٹم بم کو ہاٹ اور کولڈ دونوں طرح کی ٹیسٹنگ کے لیے ڈیزائن کیا، ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے اس ٹیم کی قیادت کی۔

پروفیسر مارٹن بریبرز

پروفیسر مارٹن بریبرز یورپ کی سائنٹفک کمیونٹی میں آئی ایس آئی کے ایجنٹ تھے جنہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ’یو آر ای این سی او اسٹیبلشمنٹ‘ میں پہنچایا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یورینیم افزودہ کرنے کے پروگرام کی داغ بیل ڈالی اور پاکستانی ایٹم بموں کو ایندھن فراہم کیا۔

غلام اسحاق خان

غلام اسحاق خان ایک خاموش سپاہی اور پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کے نگہبان تھے۔ وہ مالی امور کے ایسے ماہر تھے کہ انہوں نے ایک انتہائی پیچیدہ گروہ تشکیل دیا جس کے ذریعے ایٹمی پروگرام کی مالی معاونت ممکن ہو پائی۔

آغا حسن عابدی

آغا حسن عابدی اپنے وقت کے ’جے گیٹسبے‘ (Jay Gatsby)تھے۔ انہوں نے بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مالی معاونت کے لیے عالمی سطح پر ایسا نیٹ ورک قائم کیا کہ دنیا آج تک حیران ہے۔

جنرل کے ایم عارف

جنرل کے ایم عارف پی اے ای سی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی متوازی سرگرمیوں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کرتے تھے۔ 1983ءمیں پاکستانی ایٹم بم کی کولڈ ٹیسٹنگ بھی انہی کی نگرانی میں ہوئی تھی۔

ذوالفقار احمد بٹ

ذوالفقار احمد بٹ آئی ایس آئی کے سپائی ماسٹر تھے جنہوں نے یورپی ممالک میں موجود لگ بھگ تمام پاکستانی سفارتخانوں کو جاسوسی کے اڈوں میں تبدیل کر ڈالا۔ ان کے اسی کارنامے کی بدولت مختلف ممالک سے ایٹمی ٹیکنالوجی اور متعلقہ مشینری ایسے خفیہ طریقے سے پاکستان پہنچتی رہی کہ دنیا میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی۔

ایئرمارشل نجیب اختر

ہمارے سائنسدانوں نے جو ایٹم بم ڈیزائن کیے تھے، ایئرمارشل نجیب اختر نے انہیں دوبارہ نئی شکل میں ڈھالا اور انہیں پاکستان کے نئے خریدے گئے ایف 16طیاروں کے ذریعے لیجانے کے قابل بنایا۔ ان کے اس کارنامے کی بدولت پاکستان نے بھارت سے بہت عرصہ پہلے فضاءسے ایٹم بم گرا کر ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی۔

منیر احمد خان

منیر احمد خان ہماری نیوکلیئر انرجی اسٹیبلشمنٹ کے حقیقی باپ کہلائے جاتے ہیں۔ انہوں نے عالمی ایٹمی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ اور پاکستان کے تمام دشمنوں کو ایسا چکمہ دیئے رکھا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ پاکستان ایٹم بم بنا رہا ہے۔ انہوں نے آئی اے ای اے اور دشمن ممالک کو الجھائے رکھا اور اس دوران سائنسدان، انجینئرز اور باقی تمام لوگ اپنا کام کرتے رہے اور دنیا کو اس وقت پتا چلا جب پاکستان ایٹم بم بنا چکا تھا۔

اشفاق احمدخان

جنہوں نے راس کوہ کے پہاڑوں میں ایٹمی تجربات کے لیے فیلڈز بنائیں، وہ عالی دماغ انسان اشفاق احمد خان تھے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ثمرمبارک مند کے بعد اشفاق احمد خان پاکستانی ایٹم بم کی ڈیزائننگ کرنے کے دوسرے ماسٹرمائنڈ تھے۔

مزید :

دفاع وطن -علاقائی -اسلام آباد -ڈیلی بائیٹس -