اوگرا نےیہ کام کر کے آئل مافیا کو ریلیف دیا۔۔۔اسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے پیٹرول بحران سے بچنے کا راستہ بتا دیا

اوگرا نےیہ کام کر کے آئل مافیا کو ریلیف دیا۔۔۔اسلام آباد چیمبر کے سابق صدر ...
اوگرا نےیہ کام کر کے آئل مافیا کو ریلیف دیا۔۔۔اسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے پیٹرول بحران سے بچنے کا راستہ بتا دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف  تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ بڑتے بزنس گروپ زیادہ عرصہ تک حکومت کو بلیک میل اور عوام کا استحصال نہیں کر سکیں گے، بائیس کروڑ عوام کو خوار کرنے اور حکومت کی ساکھ کو داو پر لگانے والی والی چھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر چار کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنا مذاق ہے جسے مسترد کرتے ہیں، اوگرا نے ایک بار پھرمافیا کو ریلیف دیا ہے،مستقبل میں تیل کے بحران سے بچنے کے لئے ملک میں موجود تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش دگنی کی جائے اور مخصوص علاقوں کے بجائے ملک بھر میں ڈپوز کا جال بچھا یا جائے تاکہ راستہ کٹ جانے ٹینکروں کی ہڑتال یا کسی بھی وجہ سے ملک میں کہیں بھی معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔

شاہد رشید بٹ نے کہا کہ آئل مافیا سرکاری آئل کمپنی کا حشر بھی سٹیل مل، پی آئی اے ریلوے اور دیگر ناکام اداروں جیسا کر دے گی جس سے مافیاکو فائدہ ہو گا مگر بائیس کروڑ عوام اور معیشت کو نقصان ہو گا، پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں، کشمیر کے زلزلے، سیاچین اور کارگل کے محاز اور 2012 میں گیاری کے سانحے کے دوران نجی پٹرولیم کمپنیاں غائب تھیں اور صرف سرکاری کمپنی نے ملکی دفاعی اور عوامی ضروریات پوری کیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت یکساں رکھنے کے لئے دور دراز علاقوں میں تیل پہنچانے کا لاکھوں روپے کرایہ ادا کرتی ہے جسے فریٹ سبسڈی کہا جاتا ہے،اس مد میں فریٹ مافیا اربوں روپے کے گھپلے کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مافیا چترال، گلگت، سکردو اور پاک ایران بارڈر پر پٹرول پمپوں کے لئے تیل خرید کر کراچی میں ہی فروخت کر دیتے ہیں جبکہ حکومت انھیں لاکھوں روپے کرائے کی مد میں ادا کرتی ہے،جن دور دراز چھوٹے علاقوں میں ایک یا دو پٹرول پمپوں سے کام چل سکتا ہو وہاں درجنوں پٹرول پمپوں کی موجودگی اس لوٹ مار کا کھلا ثبوت ہے،پٹرول پمپوں کی اکثریت صرف کرائے میں گھپلوں کے لئے کھولے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر ایران سے تیل اور گیس کی سمگلنگ روک دی جائے تو ملک کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ ہو گا مگر اس دھندے کو انتہائی با اثر سیاستدان چلا رہے ہیں جن کے خلاف کاروائی بہت مشکل ہے۔

مزید :

بزنس -