آئن سٹائن اور نیوٹن سے بھی تیز دماغ، انسانی تاریخ کا ذہین ترین انسان جس نے 8 سال کی عمر میں 8 زبانیں سیکھ لیں، اپنی نئی زبان بھی بنادی

آئن سٹائن اور نیوٹن سے بھی تیز دماغ، انسانی تاریخ کا ذہین ترین انسان جس نے 8 ...
آئن سٹائن اور نیوٹن سے بھی تیز دماغ، انسانی تاریخ کا ذہین ترین انسان جس نے 8 سال کی عمر میں 8 زبانیں سیکھ لیں، اپنی نئی زبان بھی بنادی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) البرٹ آئن سٹائن کا آئی کیو لیول 160تھا۔ نیوٹن کا 190اور فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا 152ہے۔ دنیا کے ذہین ترین لوگوں کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے لیکن دنیا میں ایک ایسا نابغہ روزگار بھی گزرا ہے جس کا آئی کیو لیول ان لوگوں سے کہیں زیادہ تھا مگر آج اس کا نام بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می کے مطابق اس شخص کا نام ولیم جیمز سیڈیز تھا جس کا آئی کیو لیول 250سے 300کے درمیان تھا اور وہ آج تک کا دنیا کا سب سے ذہین آدمی سمجھا جاتا ہے۔ وہ ماہر ریاضی دان تھا جسے کئی زبانوں اوران کے کئی لہجوں پر عبور حاصل تھا اور وہ ایک خداداد صلاحیتوں کا حامل مصنف بھی تھا۔ اس کی ذہانت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ محض 8سال کی عمر میں اسے 8زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

ولیم جیمز 1898ءمیں نیویارک سٹی میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ بورس ماہر نفسیات تھا، جس نے ہارورڈ یونیورسٹی سے 4ڈگریاں لے رکھی تھیں۔ ولیم جیمز کی والدہ ایک ایم ڈی تھی۔ اس کے والدین بھی عالی دماغ تھے مگر ولیم جیمز ذہانت میں انہیں بھی پیچھے چھوڑ گیا۔ وہ صرف 18ماہ کی عمر میں نیویارک ٹائمز پڑھنے کے قابل ہو گیا تھا۔ 8سال کی عمر میں وہ لاطینی، یونانی، فرانسیسی، روسی، جرمن، ہیبریو، ترکی اور آرمینین 8زبانیں سیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنی ایک زبان بھی ایجاد کی تھی جس کا نام اس نے وینڈرگڈ(Vendergood)رکھا تھا۔

ولیم جیمز کی ذہانت کا اس کے والد کو بخوبی اندازہ تھا، چنانچہ اس نے اسے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کی کوشش کی لیکن اسے داخلہ دینے سے اس لیے انکار کر دیا گیا کہ اس وقت اس کی عمر محض 9سال تھی۔ 2سال بعد1909ءمیں 11سال کی عمر میں اسے ہارورڈ میں داخلہ مل گیا اور وہ ہارورڈ میں داخلہ لینے والا کم عمر ترین طالب علم بن گیا۔ 1910ءتک ریاضی میں اس کا علم اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا اور اس نے یونیورسٹی میں اپنے پروفیسرز سے پڑھنے کی بجائے انہیں لیکچر دینے شروع کر دیئے، جس سے اسے ’فطین بچہ‘ کا خطاب مل گیا۔ اس نے 16سال کی عمر میں بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کر لی۔

ولیم جیمز نے شہرت سے دور رہتے ہوئے ایک پرفیکٹ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور یوں اس کا نام اس درجے تک معروف نہ ہو پایا کہ جتنا ہونا چاہیے تھا۔ بچپن میں وہ سیکھنے کا شوقین تھا، اس کا باپ بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتا۔ وہ اپنی ماہر نفسیات کی مہارت بھی اس پر لگاتا رہا تاکہ وہ آگے بڑھتا چلا جائے لیکن جوان ہو کر ولیم جیمز کی سوچ بدل گئی اور اس نے اپنے باپ کو اس کا موردالزام ٹھہرا دیا۔ 1923ءمیں بورس کی موت واقع ہوئی تو ولیم نے اس کی آخری رسومات میں شریک ہونے سے ہی انکار کر دیا۔

ایسا بلا کا ذہین ہونے کے باوجود ولیم جیمز نچلے درجے کی کلرک کی نوکریاں کرتا رہا۔1924ءمیں وہ 23ڈالر فی ہفتہ کی ایک نوکری کر رہا تھا۔ رپورٹرز نے جب اس کی نوکری کے متعلق خبر دی تو اس کا نام ایک مرتبہ پھر شہ سرخیوں میں آنے لگا تاہم اس بار اس کی ذہانت کا مذاق اڑایا گیا اور کہا گیا کہ وہ بچپن میں جو کچھ کر سکتا تھا، اب اس میں وہ صلاحیت نہیں رہی۔ مگر یہ صرف مذاق ہی تھا۔ حقیقت میں ولیم اب بھی اتنا ہی ذہین تھا۔ اس نے زندگی میں مختلف قلمی ناموں سے کئی کتابیں بھی لکھیں۔

ولیم جیمز پہلی عالمی جنگ کا مخالف اور منحرف تھا جس پر اسے 1919ءمیں وہ بوسٹن میں جنگ کے خلاف ایک احتجاج میں شریک ہواجو پرتشدد مظاہرے میں تبدیل ہو گیا۔ اس پر دیگر لوگوں سمیت ولیم جیمز کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور اسے 18ماہ قید کی سزا سنا دی گئی تاہم اس کے ماں باپ نے اسے جیل جانے سے بچا لیا اور اسے 18ماہ قید کی بجائے 2سال تک اپنے گھر میں قید کیے رکھا۔ ولیم جیمز نے زندگی انتہائی شکستہ دلی کے ساتھ مکمل تنہائی میں گزاری۔ وہ اپنے خاندان والوں سے قطع تعلق رہا۔ اس نے زندگی کے دن پورے کرنے کے لیے کئی ادنیٰ قسم کی نوکریاں کیں، ایک بار اس نے مشین رنر کی نوکری بھی کی۔ ایسا باصلاحیت شخص، جو دنیا بدل سکتا تھا، 1944ءمیں محض 46سال کی عمر میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسے بھی اپنے باپ کی طرح سیربریل ہیمریج کا عارضہ لاحق ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -