”یہ غیر شفاف بجٹ ہے کیونکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمینٹ میں سامنے وہ تین موٹی موٹی کتابیں نہیں رکھی گئیں جو۔۔۔“ شیری رحمان نے انکشاف کر دیا

”یہ غیر شفاف بجٹ ہے کیونکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمینٹ میں سامنے وہ تین ...
”یہ غیر شفاف بجٹ ہے کیونکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمینٹ میں سامنے وہ تین موٹی موٹی کتابیں نہیں رکھی گئیں جو۔۔۔“ شیری رحمان نے انکشاف کر دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) رہنماءاور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ یہ بجٹ عوام دشمن نہیں بلکہ پاکستان دشمن ہے، غیر شفاف بجٹ کیلئے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور پارلیمینٹ میں وہ دستاویزات بھی پیش نہیں کی گئیں جنہیں دیکھ کر ووٹنگ کی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہم توقع کر رہے تھے کہ روزگار فراہم کرنے سے متعلق کچھ نہ کچھ کیا جائے گا لیکن نہ تو اس بجٹ پر کوئی بحث ہوئی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ ڈیمانڈ اور گرانٹس سے متعلق تین موٹی موٹی کتابیں پارلیمینٹ میں ڈیسک پر نہیں رکھی گئیں، یعنی اصل بجٹ دستاویزات ہمارے ساتھ شیئر ہی نہیں کی گئی اور جب میں پارلیمان سے نکل رہی تھی تو مجھے بتایا گیا کہ وہ بجٹ دستاویزات ایک چھوٹی سی ڈسک پر موجود ہیں اور اب اسے بعد میں دیکھیں گے۔ لیکن ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ بجٹ دستاویزات پارلیمینٹ اسی وقت دیکھی جاتی ہیں اور ان پر ووٹنگ بھی ہوتی ہے، لہٰذا یہ بجٹ غیر شفاف طریقے سے بنایا گیا ہے جس کیلئے فنانس کمیٹیوں کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی بزنس کمیونٹی اور تاجرات کو کمیٹیوں میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی خاص بجٹ نہیں ہے اور میں یہ بتا دوں گا کہ ہر تین مہینے رولنگ بجٹ نکالیں گے، یہ صرف اور صرف اکاﺅنٹنگ ایکسرسائز ہے جو آئی ایم ایف کیساتھ بیٹھ کر کی گئی ہے اور حکومت نے اپنی ساری امداد اور قرضے کیلئے کورونا کو استعمال کیا ہے، پی ٹی آئی کی وفاق اور صوبوں میں حکومتوں کو ملا کر گزشتہ 18 مہینوں میں جتنا قرض لیا گیا ہے، ماضی میں کسی نے اتنا قرضہ نہیں لیا، یہ عوام دشمن نہیں بلکہ پاکستان دشمن بجٹ ہے۔

مزید :

قومی -