وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے بعد شہباز شریف بھی میدان میں آگئے

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے بعد شہباز شریف بھی میدان میں آگئے
وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے بعد شہباز شریف بھی میدان میں آگئے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے اپنی نالائقی پہلے مسلم لیگ (ن) اور اب کورونا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی۔ مہنگائی، بیروزگاری اور کاروباری بدحالی نے تاریخی ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بجٹ سے ملک کی رہی سہی معاشی سانسیں بھی رک جائیں گی۔ یہ بجٹ نہیں بلکہ تباہی کا نسخہ ہے۔ میرے خدشات سچ ثابت ہوئے۔ افسوس حکومتی نااہلی کی سزا قوم اور ملک کو مل رہی ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں جبکہ ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کاتاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 5.8 فیصد جی ڈی پی شرح والی معیشت دی اور موجودہ حکومت نے پہلے سال میں 1.9 پر پہنچادیا جبکہ رواں سال 10 فیصد مالی خسارہ ملکی معیشت اور بجٹ کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دے گا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ تاریخ میں یہ مالی خسارہ کبھی دوہندسوں میں نہیں رہا، پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے یہ کام کردکھایا اور بجٹ اور اس کے اہداف غیرحقیقی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے زیادہ ترقی اور کم مہنگائی کا فارمولا اپنایا جسے موجودہ حکومت نے الٹ کر دیا۔ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کا تاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ 68 سال میں پہلی بار ملکی جی ڈی پی منفی میں ہو چکی ہے۔

مزید :

قومی -