سارا ملبہ کروناپر ڈالا جارہا ہے،جیسے اس سے پہلے۔۔۔خواجہ محمد آصف بھی حکومت کے خلاف پھٹ پڑے

سارا ملبہ کروناپر ڈالا جارہا ہے،جیسے اس سے پہلے۔۔۔خواجہ محمد آصف بھی حکومت ...
سارا ملبہ کروناپر ڈالا جارہا ہے،جیسے اس سے پہلے۔۔۔خواجہ محمد آصف بھی حکومت کے خلاف پھٹ پڑے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ 21.2020 کو شدید ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سارا ملبہ کروناپر ڈالا جارہا ہے،جیسے اس سے پہلے 19ماہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ سارا ملبہ کروناپر ڈالا جارہا ہے،جیسے اس سے پہلے 19ماہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں،موجودہ مالی سال میں جون سے مارچ کیا کارکردگی تھی؟تباہی کاسفر تو جاری تھا ،کرونا نےآ کے سارے فریب اور نا اہلی کو ننگا کر دیاہے۔اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نے اپنی معاشی ناکامیوں کا سارا ملبہ کورونا پر ڈالنے کی کوشش کی،دو اڑھائی مہینےپہلےمارچ میں کورونا آیا، کورونا کو بہانہ بنا کر ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، بجٹ پرتفصیلی ردعمل پیر کو دیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا نے کہا کہ حکومت کے اعدادوشمار پر یقین نہیں کیاجا سکتا، اِنہوں نے پچھلے بجٹ میں کیا ٹیکس کا ہدف مقرر کیا اور کتنا جمع کیاتھا؟مارچ میں مہنگائی گیارہ فیصد تھی، معیشت مارچ میں کورونا سے پہلے تباہی اور بربادی کا شکار ہو چکی تھی، ذمہ داری کوروناپرڈالنا قطعی طور پرغلط اورجھوٹ ہے،40لاکھ لوگ غربت کی لکیر سےنیچے جا چکے تھے، اب اس میں اور اضافہ ہو رہا ہے، یہ اعداد وشمار کے گورکھ دھندے میں ہمیں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔

خواجہ آصف نےکہاکہ تیس فیصد قرضہ ملک کابڑھاہے،ہم نےپانچ سال میں جتنا قرضہ لیاتھا اُنہوں نے دو سال میں لیاہے، ہماری کارکردگی کو ساری دنیا اور پاکستان کی عوام تسلیم کرتی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ جو وعدہ معاف گواہ بن سکتا تھا اس جہانگیر ترین کو باہر بھگا دیا گیا، ایوان میں جھوٹ بولا گیا ہے، یہ کہتے تھے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، اسحاق ڈار نے ہمیں آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد کرایا جبکہ موجودہ حکومت کا ناکام ترین بجٹ ہے، جھانسہ پچھلے سال بھی دیا گیا تھا ۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 71 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا ہےجس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -