بلاول بھٹو نے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ مسترد کردیا

بلاول بھٹو نے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ مسترد کردیا
بلاول بھٹو نے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ مسترد کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے یکسر طور پر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے آئندہ مالی سال کے پیش کردہ وفاقی بجٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پی پی بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 25 برس کے بعد ملک میں ٹڈی دل کا سب سے بڑ احملہ ہماری زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں ملک کو درپیش خطرات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ایک روایتی بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ یہ پی ٹی آئی ایم ایف کا عوام دشمن بجٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملا ہے البتہ اگر ریلیف ملا ہے تو وہ امیر طبقے کو ملا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بجٹ میں عام آدمی کو صرف اور صرف تکلیف دی گئی ہے۔چیئرمین پی پی نے کہا کہ پیش کردہ بجٹ میں تنخواہوں تک میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے اور پنشنرز کی پنشن بھی نہیں بڑھائی گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہمارے بزرگ اپنے گھروں سے باہر نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں اپنے بزرگوں کو پنشن میں اضافہ کرکے ریلیف پہنچانا چاہیے تھا۔پی پی کے چیئرمین نے کہا کہ اس وقت ہمیں ہر پاکستانی مزدور، غریب اور کسان کو بجٹ میں تحفظ اور ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا۔

مزید :

قومی -