وزیر اعلی کا نارووال ترقیاتی پیکیج اور عوام

وزیر اعلی کا نارووال ترقیاتی پیکیج اور عوام
وزیر اعلی کا نارووال ترقیاتی پیکیج اور عوام

  

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے نارووال کے لئے 5ارب 12کروڑ روپے کے خصوصی ڈویلپمنٹ پیکیج کا اعلان کیا۔ نارووال میں نیا پاکستان منزلیں آسان پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت 3منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا،5 ارب 2کروڑ کے ترقیاتی منصوبوں  کے اعلان کے بعد اس بات کا اندیشہ ظاھر کیا جاتا ہے کہ نارووال میں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان اصل میں آزاد کشمیر کے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ نارووال سے پی ٹی آئی کے واحد ممبر صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر اوقاف پیر سعید الحسن شاہ جو آزاد الیکشن لڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے،چند ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ صرف ان کے حلقے کے تمام منصوبے شامل ہیں  اپوزیشن کا یہ کہنا ہے کہ اس میں تمام اضلاع کے نہ تو سکول اور ہسپتال شامل کئے گئے ہیں  اور نہ تمام سڑکوں کی مرمت شامل ہے۔

قلعہ احمد آبا د تا سنکھترہ سڑک انتہائی بد حالی کا شکار ہے، جہاں آے دن حادثات ہوتے ہیں۔ یہ سڑک اس ترقیاتی پیکیج میں شامل نہیں۔ نارووال مسلم لیگ کا گڑھ رہا ہے  اور ابھی بھی ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کا تعلق مسلم لیگ سے ہے،  بے نظیر کے دورِ حکومت میں کچھ سیٹیں پی پی کو ملتی رہی ہیں،لیکن1991ء میں سیالکوٹ سے علیحدگی کے بعد ضلع نارووال کی سیاست میں بھی بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔نیا پاکستان منزلیں آسان پروگرام کے دوسرے مرحلے کے تحت نارووال میں 17کلومیٹر طویل 3سڑکوں کی تعمیر وتوسیع پر کام کا آغاز کیاہے اوران سڑکوں کی تعمیر و توسیع پر 23کروڑ 13لاکھ روپے لاگت آئے گی،جبکہ 5ارب 12کروڑ روپے سے نارووال میں 39 منصوبوں پر کام شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ظفر وال اور شکر گڑھ میں 84کروڑ روپے کی لاگت سے فراہمی و نکاسی آب، ٹف ٹائلیں، پختہ سڑکوں اور دیگر منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ 33کلو میٹر طویل، نارووال، ظفر وال  روڈ  اورسید چراغ شاہ بائی پاس کی تعمیر ایک ارب 70کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہو گی۔نارووال کے پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں کی اپ گریڈیشن پر 18کروڑ 80لاکھ روپے لاگت آئے گی۔

نارووال مریدکے روڈ کی تعمیر و مرمت عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے اور اشد ضرورت بھی ہے۔ نارووال مریدکے 38کلومیٹر طویل سڑک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنائی جائے گی اور اس منصوبے پر 2ارب 40کروڑ روپے لاگت آئے گی۔نارووال اور نارنگ منڈی کو لاہور سیالکوٹ موٹروے سے منسلک کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے اس منصوبے کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو درخواست کی ہے اوریہ منصوبہ 25ارب 34 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ نارووال میں 10ارب 35کروڑ روپے کے 111 ترقیاتی منصوبے زیر تکمیل ہیں۔روڈ سیکٹر میں شکرگڑھ تا ظفروال، کرتار پور سے دربارصاحب سڑکوں کی تعمیر و توسیع اوربحالی کا کام ایک ارب 16کروڑ کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ نارووال میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور توسیع کے مزید 29 منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ 21کروڑ 35 لاکھ روپے  کی لاگت سے ظفر وال بنیادی مرکز صحت کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی سطح پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور اس منصوبے کا 80فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ظفروال میں 2کروڑ روپے سے پبلک پارک بنایا  جا رہا ہے جس کا 75فیصدکام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 24کروڑ روپے سے نارووال، ظفروال سٹی پیکیج اور مضافات میں نکاسی آب، ٹف ٹائل سمیت 5منصوبے تیزی سے تکمیل کی راہ پر گامزن ہیں۔نارووال میں ساڑھے  11 کروڑ روپے کی لاگت سے پولیس سٹیشن کی تعمیر جاری ہے۔

نارووال کے 57 سکولوں میں عدم دستیاب سہولتوں کی فراہمی اور آئی ٹی لیب کے قیام پر 16کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ نارووال میں 15دیہی مرکز مال کے قیام کئے گئے ہیں۔کرتارپور میں ایمرجنسی کے لئے 1122ریسکیو سروس بھی شرو ع ہو چکی ہے۔ لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبے میں 50 کروڑ روپے کی لاگت سے 17سکیمیں مکمل کی گئی ہیں اور 31زیرتکمیل ہیں۔ لوکل گورنمنٹ اورکمیونٹی ڈویلپمنٹ کی مزید 34سکیموں پر کام شروع ہو گا۔ پنجاب میونسپل سروسز پروگرام کے تحت 15کروڑ روپے کی 116سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔ لوکل گورنمنٹ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 35کروڑ روپے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔

نارووال کے مضامات میں 17کلو میٹر طویل سڑکیں 23کروڑروپے کی لاگت سے تعمیر کی جائیں گی۔ شریف چوک تا میدیاں چوک براستہ شاہ پور سوا 5کلو میٹر طویل رابطہ سڑک بنائی جائے گی۔ علاقے کے عوام کی سہولت کے لئے شریف چوک تا میداں چوک رابطہ سڑک6کروڑ 74لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو گی۔ گھمرولا تا لیسرکلاں ساڑھے 6کلو میٹر سڑک بنے گی۔عوام کی آمد ورفت میں سہولت کے لئے گھمر والا تا لیسر کلاں سڑک 9کروڑ12لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو گی۔رابعہ موڑ تا جام وال سڑک کی تعمیر و توسیع ہو گی۔ رابعہ موڑتاجام وال تک 5.1کلو میٹر طویل سوا 7کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو گی۔

اب نارووال میں پی ٹی آئی کے اویس قاسم معروف بزرگ سیاست دان کے بیٹے، کرنل جاوید کاھلوں اور ابرار الحق ہیں، جنہیں ریڈ کریسنٹ پاکستان کا چیئرمیں بنا دیا گیا ہے، لیکن سات ماہ میں ابھی تک وہ ہلال احمر پاکستان کے فلاحی منصوبوں، ڈسپنسریوں تھیلیسیمیا سنٹرز فرسٹ ایڈ سنٹرز ایمولینس کا آغاز نہیں کروا سکے، حالانکہ ریڈ کریسٹ کو فنڈز آئی ایف آر سی اور آئی سی آر سی ڈالرز میں فنڈز مہیا کرتی ہے۔  ابرار الحق کو کرنا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنے ضلع میں فلاحی منصوبوں کا جھال بچھا دیتے،جو وہ ان انٹرنیشنل ریڈ کراس کے اداروں کی مدد سے آسانی سے کر سکتے تھے، وزیراعلیٰ کے ان بہت بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان نارووال جیسے پسماندہ ضلع کے لئے خوش آئند بات ہے۔  نارووال شہر خود تو اب بہت ترقی کر چکا ہے، جہاں کمر شل اور رہائشی زمینوں کا ریٹ اب لاہور سے بھی زیادہ ہے، لیکن اس کے گردو نواح کے قصبات قلعہ احمد آبا،د نونا ر سنکھترہ، بدو ملھی، کنجروڑ، علی پور سیداں، دھمتھل، نور کوٹ، اخلاص پور اور دیگر پسماندہ قصبات کے لئے ترقیاتی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت پنجاب کو نارووال کے اس ترقیاتی پیکیج پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نارووال کے تمام دیہات کو اس کا مناسب حصہ مل سکے۔ کرتار پور اب عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے، اس کے سبب پا کستان عالمی دنیا سے جڑ گیا ہے،  وزیراعلیٰ کے ترقیاتی منصوبہ میں اگر ایک سڑک اور پل کو شامل کر دیا جاتا تو کرتار پور کا رابطہ نارووال کے 300دیہات سے براہ راست ہو جاتا، وہ کرتار پور سے تین کلو میڑ کے فاصلہ پر وارث سرہندی کا گاؤں کنجروڑ ہے۔ کنجروڑ والی سڑک شکر گڑھ ظفروال قلعہ احمد آباد اور دودھو چک دھمتل اور دھبلی والا کو آپس میں ملاتی ہیں۔ اگرچہ یہ 5ارب سے زائد کا ترقیاتی پیکیج نارووال کے باسیوں کے لئے خوشحالی اور ترقی کا ضامن ہے  اور حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر نارووال کو ترجیح دی ہے۔ صوبائی وزیر اوقاف شاہ صاحب کی کاوشوں سے اب اس کی تکمیل ایک امتحان ہے۔

مزید :

رائے -کالم -