وہ ہندو شہری جو مساجد میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث مفت میں لکھتاہے

وہ ہندو شہری جو مساجد میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث مفت میں لکھتاہے
وہ ہندو شہری جو مساجد میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث مفت میں لکھتاہے

  

حیدرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے رہائشی ایک ہندو مصور اور پینٹر اور مصور کا بہت شہرہ ہے جو اپنے ہندو مذہب کے ساتھ مساجد میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث لکھتا ہے اور نعتیہ محافل میں نعتیں پڑھتا ہے

۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق اس آدمی کا نام انیل کمار چوہان ہے جس کا کہنا ہے کہ ”اردوبہت میٹھی اور شیریں زبان ہے۔ مجھے اس زبان سے محبت ہو گئی اور میں نے اسے سیکھنا شروع کر دیا۔ میں نے دکانوں اور دفاتر کے سائن بورڈز اور بینرز سے نقل کرکے اردو لکھنی شروع کی اور لکھتے لکھتے مجھے الفاظ کی شناخت ہو گئی اور میں اردو روانی کے ساتھ پڑھنے لگا۔ اس کے بعد میں نے اردو اور عربی میں خطاطی شروع کر دی۔“

انہوں نے بتایاکہ ایک بار میں نے اپنے خرچے پر کیلیگرافی کی نمائش کی لیکن زیادہ فروخت نہیں کرسکا، میرا خیال تھا کہ میرے پاس مزید بنانے اور بیچنے کے لیے پیسے نہیں، پھر ذہن میں خیال آیا کہ مفت میں مساجد میں قرآن کی آیات لکھوں، اب تک 100سے زائد مساجد میں مفت کام کرچکا ہوں۔ 

رپورٹ کے مطابق انیل کمار نے درجنوں نعتیں بھی یاد کر رکھی ہیں اور شہر میں جہاں کہیں محفل نعت ہو، اسے ضرور مدعو کیا جاتا ہے۔ انیل کمار اردو، عربی، ہندی، انگریزی، تیلگو اور بنگالی زبانیں لکھنا جانتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”میں ایک ہندو ہوں اور مذہب میرا ذاتی معاملہ ہے۔ میں ہر مذہب کا احترام کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ہر کوئی بھائی چارے کے ساتھ رہے۔ ہمیں ملک میں محبت کے ساتھ مل جل کر رہتے ہوئے ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔“

مزید :

روشن کرنیں -