جنوبی کوریا میں ویتنامی ماں کے بچے کے ساتھ امتیازی سلوک ،پولیس نے تحقیقات کا آغازکردیا

جنوبی کوریا میں ویتنامی ماں کے بچے کے ساتھ امتیازی سلوک ،پولیس نے تحقیقات ...
جنوبی کوریا میں ویتنامی ماں کے بچے کے ساتھ امتیازی سلوک ،پولیس نے تحقیقات کا آغازکردیا

  

سیول(رضا شاہ) ایک پندرہ سالہ مڈل سکول کے بچے کے ساتھ امتیازی سلوک کے برتاوپر پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ کوریا کے جنوبی جولا صوبے کی پولیس کے مطابق بچے کے ساتھ یہ برتاو اس لیے برتا جارہا تھا کیونکہ اس کی والدہ ویتنام سے تعلق رکھتی تھی۔ متاثرہ بچے نے الزام لگایا کہ نا صرف اس کو کئی دفعہ مارا گیا، بدتمیزی کی گئی بلکہ 50ہزار وان (45 امریکی ڈالر) یہ دھمکی دے کر لئے کہ رقم نہ دینے کی صورت میں لوگوں کو یہ بتایا جائے گا کہ اس کی ماں ویتنام سے تعلق رکھتی ہے۔ متاثرہ بچے نے بتایا کہ اس کے والد پھیپھڑوں کے کینسر کے آخری مرحلے میں ہونے کی وجہ سے اس نے کسی کو بھی ان معاملات کی اطلاع نہیں دی تھی۔ سکول کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ متاثرہ بچے کو امتیازی سلوک برتنے والے بچوں سے دور کردیا گیا ہے اور علاقائی تعلیمی دفتر معاملہ کی تحقیقات شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ 2020 تک جنوبی کوریا میں ایک لاکھ 43 ہزار 368 ایسے طلبا موجود تھے جن کے ماں یا باپ میں سے کوئی ایک غیرملکی تھا اور ایسے بچوں کے تیس فیصد والدین نے کہا کہ ان کے بچوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -