بارش سے قیمتی جانوں کا ضیاع

 بارش سے قیمتی جانوں کا ضیاع

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


خیبر پختونخوا (کے پی کے) اور پنجاب میں آندھی اور موسلا دھار بارشوں کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں 34 افراد جاں بحق  جبکہ 150 کے قریب زخمی ہوئے۔ کے پی کے پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق سب سے زیادہ نقصان بنوں میں ہوا جہاں شدید بارشوں کی وجہ سے چھتیں اور دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں 15  افراد جاں بحق اور 100 افراد زخمی ہو ئے، لکی مروت میں چھت گرنے کے واقعات میں تین بچوں، ایک خاتون   سمیت پانچ افراد جاں بحق اور 42 سے زائد زخمی ہوئے، کرک میں گھروں کی دیواریں گرنے سے چار افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ ڈی آئی خان میں بھی بارش سے بینظیر کالونی میں گھر کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ اِسی طرح پنجاب کے ضلع خوشاب کے شہر نور پور تھل میں آندھی اور بارش کے باعث گھر کی دیوار گرنے سے تین بچیاں جاں بحق ہوگئیں  میانوالی میں تیز آندھی اور بارش سے تین افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔ فیصل آباد کے علاقے رضا آباد میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا جبکہ کھرڑیانوالہ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا۔ اِس کے علاوہ سرگودھا روڈ پر وانڈھی ابراہیم آباد کے قریب گھرکی دیوار گرنے سے ایک بچی جاں بحق ہوگئی۔ کوٹ حسن خان میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور تین زخمی ہوئے۔ گوجرانوالا میں آندھی طوفان کے باعث مختلف حادثات ہوئے جن میں 10 افراد زخمی ہوگئے۔ وزیراعظم نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے قیمتی جانوں کے نقصان پراظہارِ افسوس کیا اور  اْنہوں نے این ڈی ایم اے کو متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیر اعظم نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور کارکنان کو بھی امدادی سرگرمیوں میں اداروں کا ہاتھ بٹانے کی ہدائیت کی۔
مذکورہ بالا واقعات میں زیادہ تر قیمتی جانوں کا ضیاع گھروں کی چھت اور دیواریں گرنے سے ہوا ہے۔ ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ہر سال ہی بشتر واقعات ہوتے ہیں، ذرا تیزبارش ہو اور زوردار آندھی چلے تو لوگوں کی جان پر بن آتی ہے۔ مئی میں بارشیں معمول کی بات نہیں ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہیں۔ اِن بارشوں سے جہاں لوگوں کے لئے مشکلات کھڑی ہو رہی ہیں وہیں ملک کے مالی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، معاشی معاملات گھمبیر ہورہے ہیں۔ گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے کئی ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔ وزارت غذائی تحفظ نے گزشتہ سال تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے اعداوشمار سینیٹ میں پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس سے ملک میں فصلوں کو 40 فیصد نقصان ہوا، سندھ میں 79، بلوچستان 53، آزاد کشمیرمیں 25 فیصد، پنجاب میں 15 اور خیبرپختونخوا میں 14 فیصد فصلیں تباہ ہوئیں۔ وزارت غذائی تحفظ کے مطابق 50 لاکھ 98 ہزار 963 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی تھیں، جس سے 529 ارب روپے کا نقصان پہنچا، سندھ میں فصلوں کو 394 ارب، پنجاب میں 82 ارب، بلوچستان میں 63 ارب، خیبر پختونخوا میں 17 ارب اور آزاد کشمیر میں ایک ارب روپے کی فصلیں تباہ ہوئیں۔
پاکستان میں ہمیشہ سے سب سے بڑا مسئلہ منصوبہ بندی رہا ہے، آنے والی مشکلات کا ڈھول تو بجتا رہتا ہے لیکن اْن پر کوئی سنجیدگی سے غور نہیں کرتا، اْن کے حل کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ ہر سال کم و بیش ایسے ہی معاملات کا سامنا ہوتا ہے لیکن جب افتاد پڑتی ہے تب سب حرکت میں آ جاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے بات دب جاتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ملک کی بڑھتی آبادی اور محدود وسائل ہیں۔ پاکستان میں غربت کی شرح 40 فیصد کے قریب ہے اور اِن لوگوں کی کل آمدن قریباً ایک ہزار روپے یومیہ ہے  جو روزمرہ اخراجات کے لئے ناکافی ہے۔ ایسے میں باقی ضروریات زندگی پوری کرنا مشکل ہے اور پکا مکان بنانا تو خواب جیسا ہے۔ قیام پاکستان کے چار سال بعد پہلی مردم شماری 1951 میں ہوئی تھی، تب ملک کی آبادی تین کروڑ 37 لاکھ تھی جو بڑھتے بڑھتے اب 24 کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی یعنی گزشتہ 72 برس میں ملک کی آبادی میں آٹھ گنا اضافہ  ہوا ہے۔ اِس کے برعکس بنگلہ دیش (جو اْسوقت مشرقی پاکستان تھا) کی آبادی 1951 ء میں چار کروڑ 20 لاکھ تھی، 2021 ء تک بھی یہ 17 کروڑ سے کچھ کم ہی تھی جس کی وجہ سے اْن کی موجودہ فی کس آمدن 2469 ڈالر ہے جو پاکستان کی فی کس آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان کی فی کس آمدن مالی سال (2021-22 ء) میں 1568 ڈالر رہی جو اْس سے قبل 1766 ڈالر تھی یوں ایک سال میں فی کس آمدن میں 198 ڈالر یعنی 11.38 فیصد کمی آئی  اور اب اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ رواں سال کے اختتام تک یہ 1446 ڈالر تک گر سکتی ہے۔ 
دنیا بھر میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں ایک دفعہ قدرتی آفت آنے کے بعد اگلی مرتبہ اِس سے نبردآزما ہونے کا اہتمام کیا جاتا ہے، نیدرلینڈ کی مثال سب کے سامنے ہے، دور کیا جانا بنگلہ دیش بھی کافی حد تک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے اقدامات کر چکا ہے لیکن ہمارا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ کوئی قانون پر عملدرآمد کراتا ہے نہ ہی خود کسی قائدے اور قانون کے تحت زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ حالیہ سیلاب کے دوران آبی گزرگاہوں میں بنے ہوٹل اور گھر پانی میں بہہ گئے  دل دہلا دینے والی ویڈیوز منظر عام پر آئیں، وقتی افسوس ہوا لیکن حکمرانوں اور لوگوں کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اب بھی جس کا جہاں دل چاہتا ہے زمین پر قبضہ کر کے رہائش اور کاروبار بنا لیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ملک میں متعلقہ قوانین موجود نہیں ہیں مشکل تو یہ ہے کہ اِن پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ وسائل  محدود ہیں،آمدن کم ہے اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ اہلِ سیاست اپنی ہی مستی میں ہیں،  دن رات ہنگامہ سیاست برپا ہے، ہر طرف ہڑبونگ مچی رہتی ہے، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے، مختلف طرح کے القابات سے نوازنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔ کارکردگی وہ معیار ہے جو کسی سیاست دان یا سیاسی جماعت کا مستقبل طے کرتی ہے تاہم ہمارے ہاں کارکردگی کے بجائے زبانی کلامی سوشل میڈیا پر ہی ووٹر کی ذہن سازی کی جاتی  ہے، سارے معاملات وہیں طے ہو رہے ہیں، ساری لڑائیاں وہیں لڑی جا رہی ہیں، ساری منصوبہ بندی بھی بس اْسی کی حد تک محدود ہے۔ حکومت کووسائل بڑھانے پر غور کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کی فی کس آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکے اور وہ بہتر زندگی گزار سکیں، اپنے گھر پکے کرسکیں تاکہ جان تو محفوظ رہے۔ جس ملک میں کئی کئی درجن افراد گھروں کی چھت اور دیواریں گرنے سے ہلاک ہو جاتے ہوں وہاں کے ارباب اختیارکو اپنی کارکردگی پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ عوام کو بھی اپنی حالت خود بدلنے کا اہتمام کرنا چاہئے، آنے والی نسل کے ساتھ اتنی نیکی تو کی جا سکتی ہے کہ کارکردگی کو ووٹ دینے کا معیار بنا لیا جائے تاکہ بہترمستقبل کی کچھ امید کی جا سکے۔

مزید :

رائے -اداریہ -