کتابوں کی دنیا

  کتابوں کی دنیا
  کتابوں کی دنیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 بہت سے دوستوں کی رائے یہ ہے کہ مجھے کم از کم ہفتے میں ایک کالم کتابوں کے تعارف پر لکھنا چاہئے میں خود بھی یہی چاہتا ہوں کہ اس کالم میں صرف سیاست کی سرد و گرم بازاری پر ہی اظہار خیال نہ ہو، بلکہ دیگر موضوعات خصوصاً ادب و شعر کی باتیں بھی کی جائیں۔ تو اب کوشش یہی ہو گی کہ کتابوں پر بھی رائے دی جائے تاکہ ادب کی رفتار اور احوال کا پتہ چلتا رہے۔ آج کے کالم میں ملتان کے سینئر ترین شاعر انور جمال کے نعتیہ کلیات ”گلِ سرسبد“ اسلام آباد میں مقیم منفرد شاعر قیوم طاہر کے شعری مجموعے ”آنچ“ اور راولپنڈی میں مقیم معروف شاعر و نقاد ڈاکٹر فرحت عباس کے تنقیدی مضامین ”سفیر و نقد و نظر“ کا تعارف قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔


پروفیسر انور جمال کی شخصیت پاکستان کے علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں، انہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں اپنی خلاقی کے گہرے نقش ثبت کئے ہیں۔ غزل و نظم تو ان کے خاص میدان ہیں ہی تاہم نعت کی صف میں انہوں نے اپنی عقیدت و محبت کے ایسے نقش اجاگر کئے ہیں کہ پڑھنے والا اس گداز اور جذبے کو اپنے اندر محسوس کرتا ہے جو ان کے نعتیہ کلام میں موجود ہے۔ یہ کلیات جو ”گل سرسبد“ کے نام سے شائع ہوئی ہے ان کے دو نعتیہ مجموعوں ”نولاک لما“ اور ”حسنت جمیع خصالہ“ پر مشتمل ہے وہ لکھتے ہیں میں نعت میں نبی اطہرؐ کے جسم معطر کی سراپا نگاری کا قائل نہیں ہوں میرے نزدیک رسول امینؐ کے اسوہئ حسنہ، اخلاق حمیدہ، اوصاف کریمانہ کا منظوم اظہار یہ ایک صالح ا ور فلاحی معاشرے کے قیام اور روحِ انسانی کی تہذیب کے لئے سرور انبیاءؐ کے آفاقی مشن کا بیان، بحیثیت امتی اور نعت گزار، اطاعت، محبت اور احترام و عقیدت کا تذکرہ نعت کے اصل موضوعات ہیں۔“ انور جمال کی نعت نگاری اسی مشن کا پرتوہے۔ ان کا شعر مجموعہ ”لالاک لما“ ایک طویل نعت پر مشتمل ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ ہے۔ یہ در حقیقت ایک نعتیہ مسدس ہے مسدس حالی اردو ادب میں ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے تاہم انور جمال نے نعتیہ مسدس لکھ کر ادب میں ایک نئی طرح ڈالی ہے۔ مشہور نقاد و شاعر ڈاکٹر عاصی کرنالی نے انور جمال کی نعت گوئی کے بارے میں لکھا ہے۔ ”انور جمال کے ہاں نعت روائیتی گریہ و بکا یا جنون پیشگی اور گریبان دریدگی سے عبارت نہیں وہ ہجر کا مضمون بیان کرے گا اور گریہ بھی کرے گا لیکن ان میں وارفتگی یا دیوانگی کی بجائے ادب و احترام کی سلیقہ مندی شامل ہو گی۔“ اس کلیات میں شامل ان کا دوسرا شعری مجموعہ ”حسنت جمیع خصالہ“ مختلف حصوں میں تقسیم ہے اور یہ تقسیم بذاتِ خود یہ بتاتی ہے کہ انور جمال کی نعت میں امکانات عقیدت و احترام کے کتنے گہرے مطالب موجود ہیں ”گل سرسبد“ ملتان سے شائع ہوئی ہے اور اس کا اشاعتی معیار بھی شاندار ہے۔


اسلام آباد میں مقیم قیوم طاہر غزل کے باکمال شاعر ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جن شاعروں نے غزل کو ایک نئے آہنگ، معنویت اور اندازِ ہنر سے ہمکنار کیا ہے ان میں قیوم طاہر کا نام سر فہرست ہے۔ ”کانچ“ ان کا چھٹا شعری مجموعہ ہے جس میں ان کی 145 غزلیں شامل ہیں قیوم طاہر کے بارے میں ممتاز نقاد اکرم کنجاہی لکھتے ہیں۔ ”مجھے اگر اپنے عہد کے چند بہترین شعراء کا انتخاب کرنا پڑے تو اس میں قیوم طاہر کا نام ضرور شامل ہوگا۔ یہ کوئی دوستانہ تعریف نہیں ایک ادبی حقیقت ہے اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔ فکری سطح پر نہ صرف ان کا فکری کینویس بہت وسیع ہے بلکہ عشق و محبت کے روائیتی موضوعات کا بیان بھی ان کے ہاں قطعی طور پر سطحیت سے مبراء ہے۔“


قیوم طاہر کی غزل کے موضوعات ہی منفرد نہیں بلکہ انہوں نے نئی ڈکشن بھی متعارف کرا ئی ہے غزل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں انفرادیت کے دیپ جلانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ غزل اردو شاعری کی وہ صنف ہے جسے تقریباً ہر شاعر نے اپنا ذریعہ اظہار بنایا ہے۔ ایک تو روائیتی موضوعات اور پھر روائیتی بیان غزل میں شاعروں کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ جو شاعر اس دائرے کو توڑنے میں کامیاب رہتے ہیں وہ غزل کی صنف میں بھی اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ بعض شاعروں نے لفظوں کی بنت اور مصرعوں کی جگالی کے ذریعے غزل میں انفرادیت  پیداکرنے کی  کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے، قیوم طاہر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے تراکیب کے استعمال اور مضامین کے تنوع کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آٓہنگ کیا ہے۔
اک مصاحب کا یہ کردار نہیں میرے لئے
بادشہ تیرا یہ دربار نہیں میرے لئے
اس نے پیروں میں گرائی ہے قبلے کی کلاہ
کلغیوں والا یہ سردار نہیں میرے لئے
قیوم طاہر کا یہ شعری مجموعہ ”کانچ“ اور غزل میں ایک خوبصورت اور بامعانی اضافہ ہے۔


ڈاکٹر فرحت عباس ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے معالج ہیں، تاہم ان کا ملک بھر میں حوالہ ایک ادبی شخصیت کا ہے۔ منفرد لہجے کے شاعر ہیں اور اس سے بڑھ کر ایک بالغ نظر نقاد ہیں۔ راولپنڈی میں ادبی محفلیں سجانے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”سفیر نقد و نظر“ میں ان کے وہ مضامین شامل ہیں جو انہوں نے اپنے ہم عصر شاعروں پر لکھے اور ان کے مجموعہ ہائے  کا جائزہ لیا۔ ان کی اس کتاب سے شاعری کی رفتار کا پتہ چلتا ہے اور یہ علم بھی ہوتا ہے کہ اردو شاعری مسلسل اپنے نئے امکانات کے ساتھ آگے کی طرف محوِ سفر ہے ڈاکٹر فرحت عباس لکھتے ہیں۔ ”ہماری معاصر شاعری اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے ابلاغ حاصل ہو اور ابلاغ کے لئے مطالعے کا ہونا ضروری ہے۔ زیر نظر کتاب اس غرض و غائت کے پیش نظر مختلف شعراء کرام کی شاعری کی تاثراتی تنقید کے ضمن میں مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔“ اسی کتاب میں 14 معاصر شعراء کے کلام اور کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں تقریباً تمام اہم شاعر شامل ہیں ڈاکٹر فرحت عباس کی اب تک 10 کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن میں شاعری کی پانچ کتابیں بھی شامل ہیں، ”سفیر نقد و نظر“ کی اہمیت اس لئے بہت زیادہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم عصر شاعری کے مزاج اور رفتار کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر فرحت عباس نے کتاب کا انتساب جنوبی پنجاب کے دو بزرگ اور مرحوم شعراء حزیں صدیقی اور نقوی احمد پوری کے نام کیا ہے یاد رہے کہ خود ڈاکٹر فرحت عباس کا تعلق بھی ملتان سے ہے۔

مزید :

رائے -کالم -