تین کھیل،ایک کہانی

تین کھیل،ایک کہانی
تین کھیل،ایک کہانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان میں اگر کھیلوں کی بات کی جائے تو کرکٹ ان دنوں سب سے مشہور کھیل ہے گلی محلہ ہو یا گراؤنڈز سب سے زیادہ کھیلی جانے والی اوردیکھے جانے والی گیم کرکٹ ہے۔ اس کے بعد نمبر آنا تو چاہئے ہاکی کا کیونکہ ہاکی ہمار اقومی کھیل ہے اور ہم اس کے ایک نہیں دو نہیں چار مرتبہ کے عالمی چیمپئن،ایشین چیمپئن،چیمپئن ٹرافی کے ونرز،اولمپکس کے ونراور دنیا بھر میں منعقد کی جانے والی وہ گیمز جن میں ہاکی شامل ہے کے لئے ہماری ہاکی ٹیم نے سونے،چاندی اور سلور کے میڈل اپنے سینوں پر سجا رکھے ہیں لیکن حیران کن طور پر قومی کھیل کہلائے جانے والا یہ کھیل زبوں حالی کا شکار ہے اور تنزلی کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔فٹ بال میں پاکستان عالمی رینکنگ میں تو شاید 200ویں نمبر پر ہے لیکن یہاں عالمی فٹ بال کپ کے دوران شائقین فٹ بال سمیت لوگوں کی بڑی تعداد اس کھیل سے لطف اندوز ہونے کے لئے شوق سے دیکھتی اور کھیلتی نظر آتی ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کرکٹ،ہاکی اور فٹ بال یہ تین کھیل اور ایک کہانی کیسے ہو گئی تو میں آپ کے علم میں یہ بات لاتا چلوں کہ کرکٹ کاایک روزہ میچز پر مبنی عالمی کپ اکتوبر کے شروع میں بھارت میں ہونے جا رہا ہے،اسی طرح ہاکی کی ایشئن چیمپئن ٹرافی بھی بھارت میں جولائی اگست میں کھیلی جانی ہے اور فٹ بال کے لئے بھی ساف فٹ بال چیمپئن شپ بھارت میں ہی جولائی اگست میں کھیلی جائے گی۔


اب آتے ہیں اصل بات کی جانب بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے غالباً 2004ء کے بعد سے ابھی تک پاکستان کا دورہ نہیں کیا گیا۔پھر یوں ہوا کہ 2009میں ہونے والے ممبئی حملوں اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد سری لنکن ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملوں نے پاکستان میں کرکٹ سمیت ہر کھیل کے دروازے بند کر دیئے اور پاکستان نے کھیلوں  خاص پور پر کرکٹ کے حوالے سے اپنا مسکن یو اے ای کو بنا لیا بس پھر کیا تھا بھارت نے ممبئی حملوں میں پاکستان کو ملوث کرنے کے بیان کو سبب بنا کر دو طرفہ کرکٹ کھیلنا بند کر دی اور پاکستان میں ایک بھونچال آگیا۔پھر سن2011ء میں ایک روزہ عالمی کرکٹ کپ کا میلہ بھارت میں سجا پہلے پہل تو پاکستان نے سیکیورٹی کو جواز بنا کر کھیلنے سے انکار کیا مگر پھر اچانک اس وقت کے پرائم منسٹر آف پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے جذبہ خیر سگالی کے دورہ کیا جانے والا دورہ بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے بھی راہ ہموار کرنے لگا۔یہ راہ ایسی ہموار ہوئی کہ پاکستان اس کے بعد ٹی ٹونٹی کے عالمی کپ کے لئے پھر بھارت گیا اور اب جبکہ ستمبر میں پاکستان کو ایشیاء کپ کی میزبانی کے فرائض سر انجام دینے ہیں اور پی سی بی اس کے لئے مکمل تیار ی بھی کر چکا ہے کے لئے بھارت کے انکار کے بعد ہائبرڈ ماحول میں ایشیاء کپ کے انعقاد کو ممکن بنانے کے درپے ہیں ایسے میں بھارتی ہٹ دھرمی ابھی تک برقرار ہے اور اس کے پاکستان میں نا آکرکھیلنے کے حوالے سے جاری چہ مگوئیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب انہوں نے ایشیاء کپ کے سری لنکا میں منعقد کروانے کے لئے ایڑھی چوٹی کازور لگا یا اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی نظر آئے۔ ایسی نازک صورتحال میں پاکستان کے وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے بعد اس بات کا قوی امکان پیدا ہو چکا ہے کہ پاکستان اب ایک روزہ عالمی کپ کے لئے بھارت جانے کے لئے تیار ہے۔اب چاہے بھارت پاکستان آکر ایشیاء کپ کھیلے یا نا کھیلے پاکستان بھارت ضرور جائے گا۔یہی حال ہاکی ٹیم اور فٹ بال ٹیم کا بھی ہے یا تو ہماری ان ٹیموں کو سیکیورٹی اور ویزہ مسائل آڑے آرہے تھے یا اچانک اب ویزہ کے لئے اپلائی بھی ر دگیا ہے اور حکومت کا گرین سگنل بھی شاید مل چکا ہے 


مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ پی سی بی ایک ادارہ ہے جس کی اہمیت ہے اس کا چیئرمین اتھارٹی رکھتا ہے ایسے میں اس کا فیصلہ قوم کے دل کی آواز ہوتا ہے ۔نجم سیٹھی اور ان  سے قبل رمیض راجہ سابقہ ٹیسٹ کرکٹر وچیئرمین پی سی بی متعدد بار اس بار کا علان کر چکے کہ اگر بھارت پاکستان آکر ایشیا کپ نہیں کھیلے گا تو پاکستان بھی بھارت نہیں جائے گا۔اس کے بعد اب کیا جواز بنتا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم،ہاکی ٹیم اور فٹ بال ٹیم بھارت جا کر اپنے ملک کی نمائندگی کریں اور اگر کرنی بھی ہے تو ہمارے بورڈز کے چیئرمین کو اس بات کی جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جیسے ماضی میں سیاسی محاظ پر ہمارے سیاسی رہنماؤں کے دورے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم بھارت کے دورے پر گئی ایسے میں اس طرح کے بیان دے کر اپنا اور قوم کا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے سیاسی رہنماؤں سے سبق لے لیا کریں تا کہ پی سی بی کی عزت بھی قائم رہے اور ملک کی بھی۔ہم کوئی بھارتی کرکٹ بورڈ تھوڑی ہیں جس کا سیکرٹری بھی جے شاہ یا اس کا بیٹا بھی آکر پریس کانفرنس میں جو بات کہے گا وہاں کی حکومت من و عن اسے تسلیم کرے گی۔بطور پاکستانی دل اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ پاکستان بھارت جا کر کھیلے کیونکہ بھارت کی روائتی ہٹ دھرمی سے ایشیاء کپ منتقل ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور اگر سپورٹس مین سپرٹ کی بات کی جائے تو ہمیں حکومتوں کے رحم و کرم پر رہنے کی بجائے کھلے دل سے ہر جگہ جا کر کھیلنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -