دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوشکست نہیں دے سکتی 

دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوشکست نہیں دے سکتی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


       سرینگر(این این آئی) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے چوٹہ بازارسرینگر کے شہداء کو ان کے یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 11جون 1991کو سرینگر کے علاقے چوٹہ بازار میں بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف)کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے خواتین اور بچوں سمیت 30سے زائدبے گناہ شہریوں کو شہید کر دیاتھا حریت رہنماؤں سید بشیر اندرابی اور خواجہ فردوس نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارت کی تاریخ میں جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا صرف ایک واقعہ ہے جبکہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں اس طرح کے دل دہلا دینے والے20 واقعات رونما ہو چکے ہیں دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو شکست نہیں دے سکتی انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ بھارتی فوج کے ہاتھوں جاری کشمیریوں کی نسل کشی کا فوری نوٹس لیں۔چوٹہ بازار کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہدا ء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا ا دریں اثنا ء کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے رہنما مشتاق احمد بٹ نے بھی اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں شہدائے چوٹہ بازار کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے مشن کو مکمل کامیابی تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ 
کل جماعی حریت کانفرنس

 سرینگر (این این آئی) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں چوٹہ بازار سرینگر کے وحشیانہ قتل عام کی یادیں تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کشمیریوں کے دل ودماغ میں آج بھی تازہ ہیں سرینگر کے علاقے چوٹہ بازار میں بہیمانہ قتل عام کو 32سال مکمل ہونے کے موقع پرکشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف) 1991میں آج ہی کے دن زینہ کدل سرینگر میں نامعلوم حملہ آوروں کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے بعد بے قابو ہوگئی اوراس کے اہلکاروں نے اپنے کیمپ سے شہر کے گنجان آبا علاقے چوٹہ بازار تک اپنے خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد شہید اور 22دیگرزخمی ہوگئے دکانداروں، راہگیروں ایک 75سالہ خاتون اور ایک 10سالہ بچے کو گولیاں لگیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی قتل عام کا یہ واقعہ آج بھی ان سوگوار خاندانوں کے دلوں میں ہلچل مچاتا ہے جن کے عزیزوں کو قتل کیا گیا رپورٹ میں کہاگیا کہ متاثرین کوآج تک انصاف فراہم نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے 1989سے اب تک چوٹہ ٹا بازار سرینگر جیسے درجنوں قتل عام کیے ہیں اور اس طرح کی بربریت کے ارتکاب کا مقصد کشمیریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور انہیں مرعوب کرنا تھا تاہم بہادر اورجراتمندکشمیری اپنی جدوجہد آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قتل عام نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر بدنما دھبہ ہیں اور عالمی برادری کو بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لینا چاہیے کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت اور مختلف تنظیموں نے پوسٹروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے چوٹہ بازار کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت کو شکست نہیں دے سکتی رپورٹ میں اقوام متحدہ پر زور دیاگیاہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے رپورٹ میں کہاگیاکہ بے گناہ نوجوانوں کو قتل کرکے بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبا نہیں سکتا اور کشمیری اپنی جدوجہد آزادی کو مکمل کامیابی تک جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں دریں اثناء لوگوں کی بڑی تعداد سرینگر میں مزار شہداء پر گئی اور شہدائے کشمیر کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔
کشمیر

مزید :

صفحہ آخر -