سلامتی کے اداروں کیخلاف ذہن سازی کرنیوالے کرداروں کو سامنے لایا جائے: علماؤ مشائخ کانفرنس

  سلامتی کے اداروں کیخلاف ذہن سازی کرنیوالے کرداروں کو سامنے لایا جائے: ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


     لاہور(این این آئی)ملک بھر کے علما ء و مشائخ، مذہبی و سیاسی اور اقلیتوں کے قائدین نے سانحہ 9 مئی کے واقعات کے مکمل اسباب، مجرموں، سہولت کاروں اور پاک فوج اور ملک کے سلامتی کے اداروں کے خلاف ذہن سازی کرنے والے تمام کرداروں کو سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف اندرون اور بیرون ملک انسانی حقوق کے نام پر چلائی جانے والی مہم کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد پراپیگنڈہ کرنے والے عناصر کے خلاف قانون اور آئین کے مطابق کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان علما ء کونسل نے ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں حج کے فوری بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات لاہور میں پاکستان علما ء کونسل کے زیر اہتمام ہونے والی علما و مشائخ کانفرنس میں ملک کی موجودہ صورتحال، 9 مئی کے افسوسناک واقعات کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان علما ء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور انٹرنیشنل انٹرفیتھ ہارمنی کونسل کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔ کانفرنس سے علامہ عبد الحق مجاہد، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا نعمان حاشر، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا اسعد زکریا قاسمی، علامہ طاہر الحسن، مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا عبد الحکیم اطہر، مولانا عبید اللہ گورمانی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا ابو بکر حمید صابری، مولانا سعد اللہ شفیق اور دیگر نے خطاب کیا۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا  کہ استحکام پاکستان علما و مشائخ کانفرنس 9 مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور شہدا ء کے لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہدا ء کے لواحقین کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ سپہ سالار قوم جنرل سید حافظ عاصم منیر اور افواج پاکستان کی قیادت اور جوانوں کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے اور 9 مئی کے واقعات میں ملوث تمام مجرمین کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کرتی ہے۔ 9 مئی پاکستانی قوم کیلئے ایک یوم سیاہ ہے جس کے کسی بھی مجرم کو رہا نہیں ہونا چاہیے اور حکومت اور سپہ سالار قوم سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح حملہ کرنے والے شرپسندوں کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے اسی طرح ان شرپسندوں کے سہولت کاروں اور ان کی ذہن سازی کرنے والوں اور ان کو ٹارگٹ دینے والوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے اور کسی بھی صورت کسی بھی مجرم کو جو کسی بھی طرح ان واقعات میں ملوث ہے چھوڑا نہ جائے اور کسی بے گناہ کو گرفتار نہ کیا جائے، قانون اور آئین کی بالا دستی ہو اور قانون کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ 9 مئی کے مجرمین پر چلائے جانے والے مقدمات خواہ وہ آرمی ایکٹ کے تحت ہوں یا دیگر عدالتوں میں ہوں سے قوم کو مکمل آگاہ کیا جانا چاہیے اور تمام قانونی عمل واضح اور آئین و دستور پاکستان کے مطابق ہونا چاہیے۔علما ء و مشائخ کانفرنس بعض عناصر کی طرف سے آرمی ایکٹ کے تحت چلائے جانے والے مقدمات کی بلا جواز مخالفت کو بھی کسی صورت درست نہیں سمجھتی۔آرمی ایکٹ کے تحت عدالتیں آئین و قانون کے مطابق درست ہیں، پاکستان کے آئین، قانون اور دستور کے مطابق تمام مقدمات کو چلایا جانا چاہیے اور کسی بھی سطح پر کسی بھی فرد کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے۔۔ علما و مشائخ کانفرنس بعض عناصر کی طرف سے انسانی حقوق کے نام پر توہین مذہب و توہین ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کے پراپیگنڈہ کو مکمل مسترد کرتی ہے اور یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ کسی بھی صورت توہین مذہب اور توہین ناموس رسالت کے قانون کو ذاتی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی اس طرح کے کسی بھی قدم کی حمایت و تائید کی جائے گی۔ توہین مذہب و توہین ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں کیا جا رہا ہے۔ 

مزید :

صفحہ آخر -