بجٹ تجاویز معیشت کو خطرات  چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت  نہیں رکھتیں، ڈاکٹر اسعد تھانوی

بجٹ تجاویز معیشت کو خطرات  چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت  نہیں رکھتیں، ڈاکٹر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سکھر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)جامعہ اشرفیہ سکھر کے مہتمم و صدر نامور مذہبی اسکالر حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اسعد تھانوی نے کہا ہے بجٹ تجاویز معیشت کو خطرات چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، فنانس بل کے گوشے سامنے آئیں گے تو پتہ چلے کا عام آدمی کی جیب سے رقم نکالی گئی ہے جب تک معیشت کو بڑھوتی نہیں دی جاتی بجٹ کے مقاصد حاصل نہیں ہو پائیں گے موجودہ مالی سال میں حکومت کو اپنا مقرر کردہ کوئی اقتصادی ہدف حاصل نہیں ہوا ہے بجٹ تقریر میں ضرور کچھ خوش نما الفاظ کہے گئے ہیں تنخواہوں اور سولر سسٹم میں کچھ ریلیف دیا گیا ہے لیکن مجھے لگتا ہے بجٹ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کیاس وقت دو صوبوں میں منتخب حکومتیں نہیں تو اور جب وہ بجٹ پیش کریگی تو بجٹ میں جو فاضل رقم رکھی گئی ہے وہ اس سے بلکل مختلف ہوگی یا جوں ان صوبوں نے اپنے ترقیاتی اخراجات و دیگر خرچہ رکھتے ہیں وہ اس سے مختلف ہوگاتو بجٹ پر نظر ثانی کرنا پڑیگی جامعہ اشرفیہ سکھر کے شعبہ اطلاعات و نشریات کے جاری کردہ بیان میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اسعد تھانوی نے مزید کہا کے ایسے افراد جن کی آمدن پر انکم ٹیکس عائد نہیں ہوتا انکو نان فائلرز ظاہر کرکے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کرنا زیادتی ہے انہون نے مزید کہا کہ بجٹ میں جاری اخراجات میں زبردست اضافہ ہوا اور بجٹ خسارہ مقررہ ہدف 4.9فیصد کے مقابلے میں 7.5فیصد سے تجاوز کرگیا۔ ہنڈی حوالے کا کاروبار بڑھنے سے روپے کی قدر تیزی سے گرتی رہی جبکہ قانونی طور پر بھی ملک سے سرمائے کا انخلاء جاری رہا جس سے ملک کی معیشت کی شرح نمو مقرر کردہ 5 فیصد کے باعث 0.3 فیصد رہی آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی باتیں کی گئیں مگر فنانس بل میں چھپے گوشے سامنے آنے سے نظر آرہا ہے کہ عوام کو جو ریلیف دیا جائے گا اس کا دوگنا عوام کی جیب سے نکالا جائے گا انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اقتصادی اہداف حاصل نہیں ہونے کی 3وجوہات بیان کی ہیں کہ گزشتہ حکومت کے باعث عالمی بحران اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث معیشت برے حال میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے درآمدات بند کیں جس سے ملک کی انڈسٹری بند ہو گئی، اب اسے بحال کرنا آسان نہیں ہو گا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ سٹیٹ بینک ان کے کنٹرول میں نہیں، اس کا مطلب ہے کہ انٹرسٹ ریٹ نیچے نہیں آئے گا بلکہ شاہد 24 فیصد پر چلا جائے، اس صورتحال میں سرمایہ کاری نہیں ہو گی۔ اس صورتحال میں معیشت چلتی نظر نہیں آتی۔ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی بڑھے گی جس سے غربت میں اضافہ ہو گا۔