وفاقی بجٹ زبانی جمع خرچ، چیمبر آف سمال ٹریڈرز

وفاقی بجٹ زبانی جمع خرچ، چیمبر آف سمال ٹریڈرز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان (نیوز رپورٹر)چیمبر آف سمال ٹریڈرز جنوبی پنجاب نے وفاقی بجٹ 2023-24کی تجاویز مسترد کردیں عوام تاجروں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا عوام کے حصے میں ٹیکسز اور مہنگائی حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کا کوئی عملی اقدام کا اعلان نہیں کیا اور 700ارب کے ٹیکسز عائد کرکے اسے ٹیکس فری بجٹ کا نام دیا گیا اس سلسلہ میں جنوبی پنجاب کے  صدر چوہدری طارق کریم نے چیمبر آف سمال ٹریڈرز جنوبی پنجاب ضلع ملتان اور ملتان شہر کے بجٹ کے حوالہ سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ زبانی جمع خرچ اور الفاظ کا گورکھ (بقیہ نمبر38صفحہ6پر)
دھندہ ہے اور اس سے عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملنا طارق کریم چوہدری،شیخ عامر سلیم،مرزااعجاز علی،حاجی ایوب،جان عالم لغاری،عاطف غفار،عبدالحمید،عبدالعلیم،انعام اللہ قریشی،شیخ طاہر امجد،ظفراقبال صدیقی،احتشام الحق اور دیگر نے کہا کہ حکومت اگلے مالی سال میں 9700ارب کا بجٹ عوام سے پورا کرے گی جو گزشتہ سال کے بجٹ 9200کے مقابلے میں 500ارب زیادہ ہے جس کا تمام تر بوجھ عوام اور چھوٹے تاجروں پر ڈال دیا گیا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس اس کے علاوہ ہے انہوں نے کہا کہ اشیا ضروریہ کے ساتھ ساتھ عوام کو سستی سواری اور پٹرول سے بھی  محروم کیا جارہا ہے مقامی کمپنیاں گاڑیوں کی پروڈکشن نہیں کررہیں 40سالوں سے صرف اسمبلی کررہی ہیں جبکہ قانون کے مطابق کمپنی۔اجرا کے تین سال بعد کمپنیاں پابند ہیں کہ پارٹس مقامی طور پر ملک میں تیار کریں یہی وجہ ہے کہ یہ کمپنیاں ہرسال اربوں ڈالر اپنے ملکوں میں بھیج رہی ہیں آج تک کسی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی ا نہوں نے کہا کہ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے ایکسپورٹ  پر توجہ دینا ہوگی اور اس کے لیے برآمدکنندگان کو سہولیات اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کے لیے پروڈکشن کاسٹ کم سے کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے لیکن بجٹ میں ایسی کوئی تجویز نہیں دی گئی کہ جس سے بجلی گیس پٹرول کی قیمتیں کم یا مستحکم کرنے کا باعث بنیں جس سے عام آدمی کو بھی ریلیف ملتا انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کوئی تجاویز نہیں دی گئیں الٹا کاروباری بندشوں کا اعلان کیا گیا کہ توانائی بچائے جانے کے نام پر دکانیں مارکیٹیں رات 8بجے بند کی جائیں جو کسی طور پر ممکن نہیں گرم مرطوب خطہ کے باعث ایسا ناممکن ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت توانائی اورقومی سرمایہ بچانے کے لیے افیسران سے کروڑوں کی گاڑیاں،پٹرول،بجلی کی مفت سہولیات واپس لے اور ایک ہزار سی سی گاڑیاں دی جائیں تاکہ ہمارا ملک آئی ایم ایف کے چنگل سے بھی نکل سکے تاجر برادری اور عوام تو ہر دور میں قربانیاں دیتی آ رہی ہے اب اعلی سرکاری افیسران،بیوروکریسی اور وزرا مشیران کی باری ہے