گودام پر چھاپہ، جعلی پیسٹی سائیڈ برآمد، ڈیل کا انکشاف

گودام پر چھاپہ، جعلی پیسٹی سائیڈ برآمد، ڈیل کا انکشاف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ملاوٹ شدہ اور 2نمبر زرعی ادویات کی تیاری اور خطرناک زہروں کی حفاظتی انتظامات کے بغیر پیکنگ کی شکایات پر ذھب کیمیکلز پر 3سرکاری محکموں کا مشترکہ چھاپہ،انسانی جانوں سے کھیلنے والے مالکان نے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھاری لین دین کرکے جان چھڑا لی،ملزمان سے انکی مرضی کے سیمپل لے کر لیبارٹری ٹیسٹ کیلئے بھجوا دئیے گئے۔تفصیل کے مطابق محکمہ زراعت کے پیسٹ وارننگ کنٹرول اورفرٹیلائزر ونگ نے اسپیشل برانچ کے ہمراہ گزشتہ روز مؤ مبارک روڈ پر ذھب کیمیکلز کے گودام پر چھاپہ مارا تو وہاں پر موجود (بقیہ نمبر7صفحہ6پر)
لیبر مختلف ناموں سے زرعی ادویات کی مینول پیکنگ کر رہی تھی،اچانک چھاپے پر مالکان گڑ بڑا گئے اور محکمہ زراعت کے دونوں متعلقہ ونگز کی بھاری خدمت کرکے مک مکا کرلیا،سیمپل لاہور اور بہاولپور بھجوائے جاتے ہیں لیکن جن مالکان سے مک مکا ہو جاتا ہے انہیں خود اپنی مرضی کے سیمپل فراہم کرنے کی سہولت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے لیبارٹری ٹیسٹ اوکے آتا ہے اور جہاں مک مکا نہ ہو وہاں سے پیسٹ وارننگ کنٹرول اور فرٹیلائرز ونگ کے افسران اور عملہ خود سیمپل لیتا ہے،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع حسیب اکبر چوہدری نے بتایا کہ رحیم یارخان میں جالندھر کیمیکلز،ذھب کیمیکلز،سونا کیمیکلز اور رئیل لائف کیمیکلز کے نام سے چار کمپنیاں زرعی ادویات کی لوکل پیکنگ کرتی ہیں،ذھب کیمیکلز کے مالکان محمد عتیق و دیگر نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ انکی کمپنی چھوٹی ہے اور اتنی زیادہ سیل نہیں اس لئے وہ پیکنگ مشینری لگانے کا خرچہ افورڈ نہیں کرسکتے جو بہت مہنگی ہے اس لئے وہ مزدور بھرتی کرکے خطرناک زہروں کی انسانی ہاتھوں سے مینول پیکنگ کرتے ہیں اور یہ تاثر درست نہیں کہ ہمارے ہاں ملاوٹ شدہ اور 2 نمبر زرعی ادویات تیار کی جاتی ہیں،چھاپے کے دوران میڈیا کے نمائندگان بھی موقع پر پہنچ گئے جس پر مالکان نے ہنگامی طور پر پیکنگ ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ کو تالے لگا دئیے،جہاں لیبر حفاظتی انتظامات کے بغیر زہریلی ادویات کی پیکنگ میں مصروف تھی جو محکمہ زراعت کے پروٹوکول کے مطابق انتہائی سنگین جرم ہے،فصلوں پر زہر پاشی کیلئے زرعی ادویات جن گوداموں میں سٹور کی جاتی ہیں انکی وینٹی لیشن کا ایک خاص معیار ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ مینول پیکنگ کرنے والے عملے کو خصوصی حفاظتی لباس،دستانے اور چشمے پہنائے جاتے ہیں لیکن منافع کے لالچ میں اندھے مالکان یہ چند لاکھ روپے کا خرچہ بچانے کے چکر میں انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں،نگرانی اور کارروائی پر مامور محکموں کے افسران چھاپے کے دوران پیکنگ ڈیپارٹمنٹ میں قدم تک نہیں رکھتے اور مالکان کے ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھ کر چائے پی کر اور لفافہ لے کر واپس آجاتے ہیں جس کی وجہ سے خطرناک زہروں کی مینول پیکنگ کرنے والی لیبر کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔