حالیہ بجٹ بھی سابقہ روایتی خسارے کا بجٹ، ساجد نقوی 

  حالیہ بجٹ بھی سابقہ روایتی خسارے کا بجٹ، ساجد نقوی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (سٹاف رپورٹر)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ حالیہ بجٹ بھی سابقہ روایتی بجٹس کی طرح خسارے کا بجٹ ہے اس بجٹ میں غربت،مہنگائی،قرضوں کے بوجھ تلے پسے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار عوام نظر نہیں آئے، یہ بجٹ اسی طرح عوام کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے جیسے مختلف ٹاک شوز یا تقاریر میں ایسی سنگین اصطلاحات کا تذکرہ کیا جاتاہے جو عوام کے سر سے گزر جاتی ہیں بلیک اینڈ وائٹ کی طرح واضح ہے کہ یہ بجٹ عوامی نہیں خواص اور خصوصاً ان کیلئے جنہوں نے مختلف انداز میں اپنے مفادات داخل کرائے ایک طرف عام آدمی پرمعمولی ٹرانزیکشن پر بھی ٹیکس عائد تو دوسری طرف مراعات یافتہ طبقہ کوتسلسل سے کھلی چھوٹ مراعات جو ملکی معیشت کیلئے زہر قاتل ہیں انکا تسلسل وعدوں کے باوجود آج بھی برقرار تو کس طر ح پھر یہ ٹیکس فری یا عوام دوست بجٹ ہوگا،حکومت اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہے مگر آئی ایم ایف کیساتھ اب تک کیا پیش رفت ہوئی تاحال یہ واضح نہیں ہے صورتحال اور انداز غیر واضح اور مبہم ہے جو صورتحال کو مستقبل قریب میں مزید گھمبیر بنائیگا،بجٹ تو پیش کردیاگیا مگر اس بجٹ پر عملدرآمد کون کرائے گا آج تک اسی مبہم اور غیر واضح روش اور پالیسیوں کے سبب کوئی بجٹ یا اکنامک پالیسی کامیاب نہیں ہوسکی جب تک ہر قسم کی مراعات کا خاتمہ نہیں ہوگاپوری قوم کیلئے ایک ہی بجٹ اور ایک میزانیہ نہیں ہوگاوہ عوام دوست یا پاکستان دوست بجٹ نہیں کہلائے گافرسودہ روایتی پالیسیاں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتیں۔

مزید :

صفحہ اول -