سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا،جب تک نیب تسلیم نہ کرے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے،چیف جسٹس پاکستان کے انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر ریمارکس

سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا،جب تک نیب تسلیم نہ کرے ...
سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا،جب تک نیب تسلیم نہ کرے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے،چیف جسٹس پاکستان کے انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست پر کہاہے کہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا،جب تک نیب تسلیم نہ کرے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے،دوسری صورت میں پھر کیس کو تفصیلی سن کر فیصلہ کرنا ہو گا۔
نجی ٹی وی چینل" ایکسپریس نیوز" کے مطابق سپریم کورٹ میں انور مجید کانام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، پراسیکیوٹر نے کہاکہ نیب انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے خط لکھ چکی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کیا وہ خط انور مجید کے وکیل کودکھایاگیاہے؟
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ نیب عدالت نے انور مجید کا کیس بینکنگ کورٹ کو بھجوا دیا،بینکنگ کورٹ کو کیس بھجوانے کا ابھی تحریری حکمنامہ نہیں آیا،نیب کو بھی بیرون ملک جانے پرکوئی اعتراض نہیں،عدالت اجازت دے تو میرا موکل علاج کیلئے بیرون ملک جانا چاہتا ہے۔
 چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نیب ریفرنس میں نام ای سی ایل میں ڈالا تھا،جب تک نیب تسلیم نہ کرکے ہم حکم جاری نہیں کر سکتے،دوسری صورت میں پھر کیس کو تفصیلی سن کر فیصلہ کرنا ہو گا۔
وکیل نے کہاکہ 81 سال عمر ہے فوری سرجری کی ضرورت ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بینکنگ کورٹ میں کیس بھجوانے کا فیصلہ بھی نیب کے بیان کے بعد دیا گیا ہوگا،
عدالت نے نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دیا گیابیان طلب کرلیا،سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی۔