"زرمبادلہ کی بہتری کیلئے جو پیسے بیرون ملک ہیں وہ ملک میں رکھیں"،چیف جسٹس پاکستان کے بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس نفاد کیخلاف درخواستوں پر ریمارکس،100 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ایف بی آر کی استدعا مسترد

"زرمبادلہ کی بہتری کیلئے جو پیسے بیرون ملک ہیں وہ ملک میں رکھیں"،چیف جسٹس ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس نفاذ کیخلاف درخواستوں پر100 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ایف بی آر کی استدعا مستردکر دی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ملک کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے،زرمبادلہ کی بہتری کیلئے جو پیسے بیرون ملک ہیں وہ ملک میں رکھیں،ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں تعاون کریں ۔
نجی ٹی وی چینل "ڈان نیوز" کے مطابق سپریم کورٹ میں بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس نفاذ کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی، عدالت نے غیرمنقولہ پراپرٹی پر عائد100 فیصد ٹیکس دینے پر حکم امتناع جاری کردیااور فریقین کو غیرمنقولہ جائیدادوں پر50 فیصد ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے کہاکہ فیصلے کااطلاق منقولہ جائیداد پر نہیں ہو گا ۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ملک کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے،زرمبادلہ کی بہتری کیلئے جو پیسے بیرون ملک ہیں وہ ملک میں رکھیں،ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں تعاون کریں ۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ حکومت کی مجبوریوں کو ہم سمجھ سکتے ہیں،اس نئے ٹیکس سسٹم کی خامیوں کو دیکھناہوگا،مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کیلئے کریٹوٹیکسیشن کرناہوگی،عدالت نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ آئین وقانون کے مطابق کرے۔سپریم کورٹ نے 100 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی ایف بی آر کی استدعا مسترد کردی ۔