100 دن پانی کے اندر گزارنے والے پروفیسر کا اپنا  قد آدھا انچ کم ہونے کا دعویٰ

100 دن پانی کے اندر گزارنے والے پروفیسر کا اپنا  قد آدھا انچ کم ہونے کا دعویٰ
100 دن پانی کے اندر گزارنے والے پروفیسر کا اپنا  قد آدھا انچ کم ہونے کا دعویٰ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے 100 دن تک پانی کے اندر تحقیق کرنے کا اپنا کام مکمل کیا اور آخر کار پانی  سے 30 فٹ  نیچے اپنی رہائش گاہ سے باہر  نکل آیا۔ ڈاکٹر جوزف دیتوری نے یکم  مارچ کے بعد اس وقت  پہلی بار سورج کی شعاعوں کو محسوس کیا، جب وہ سکوبا ڈائیورز کے گھیرے میں پانی سے باہر نکلے۔  اس کارنامے کے ساتھ پروفیسر نے 73 دنوں کا سابقہ ​​عالمی ریکارڈ توڑ دیا، جو 2014 میں دو دیگر پروفیسرز نے قائم کیا تھا۔

سی این این کے مطابق 55 سالہ ڈاکٹر جوزف دیتوری بائیومیڈیکل انجینئر ہیں جو یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں پڑھاتے ہیں اور خود کو 'ڈاکٹر ڈیپ سی' کہتے ہیں۔ پروفیسر دیتوری نے تین ماہ سے زیادہ جولس انڈر سی لاج میں ایمرلڈ لگون کے نیچے گزارے جو کہ امریکہ کا واحد پانی کے اندر ہوٹل ہے۔

اس تحقیق کا مقصد پانی کے انتہائی دباؤ کے تجربے کا مشاہدہ کرنا تھا۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر کے جسم کو اس دوران مسلسل مانیٹر کیا گیا۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی البتہ ان کا جسم آدھا انچ سکڑ گیا۔ اگلے کئی مہینوں میں پروفیسر دیتوری اور ان کی طبی ٹیم اپنے مشن سے پہلے، دوران اور بعد میں جمع کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کرے گی۔ وہ نومبر میں سکاٹ لینڈ میں ہونے والی ورلڈ ایکسٹریم میڈیسن کانفرنس میں اپنے نتائج پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -