جب آپ کو دشمن کا علم ہو جاتا ہے تو وہ آپ میں پھوٹ ڈال کر لڑوانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا

 جب آپ کو دشمن کا علم ہو جاتا ہے تو وہ آپ میں پھوٹ ڈال کر لڑوانے میں کامیاب ...
 جب آپ کو دشمن کا علم ہو جاتا ہے تو وہ آپ میں پھوٹ ڈال کر لڑوانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: میلکم ایکس(آپ بیتی)
ترجمہ:عمران الحق چوہان 
قسط:112
 رہا سوال کہ ایلیا محمد ہمیں یہ سب کیوں بتا رہے ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب آپ کو دشمن کا علم ہو جاتا ہے تو وہ آپ میں پھوٹ ڈال کر بھائی کو بھائی سے لڑوانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جب آپ دشمن کو جان لیتے ہیں تو وہ دھوکے، وعدوں، جھوٹ اور منافقت سے آپ کو گونگا، بہرا اور اندھا نہیں رکھ سکتا۔
 جب آپ دشمن کو پہچان لیتے ہیں تو وہ آپ کی ذہنی تطہیر نہیں کر سکتا اور نہ آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر آپ کو یہ دیکھنے سے محروم کر سکتا ہے کہ آپ دنیا میں جیتے جی جہنم میں رہ رہے ہیں اور وہ اسی دنیا میں جنت کے مزے لوٹ رہا ہے۔ یہ دشمن آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آپ کا مقصد سفید فام عیسائی خدا کی عبادت کرنا ہے۔
 یقینا یہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور میں یہ ثابت کروں گا۔ آپ کوئی سا روزنامہ اٹھالیں اور ہمارے پیارے مذہبی رہنما کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات کو پڑھیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ”کاکیثرن“ نسل کسی ایسے سیاہ فام شخص کو اپنے لوگوں کی نمائندگی کرنے کا حق نہیں دیتی جو ان کا طوطا یا پتلا نہ ہو۔ یہ کاکیثرن شیطان آقا نہ ہمیں اپناتا ہے نہ آزاد کرتا ہے ہمیں صرف معاشرے کے انتہائی پست درجے میں رکھتا ہے۔ وہ ہمیں ایک خاص فاصلے پر رکھنا پسند کرتا ہے آنکھ سے اوجھل لیکن دست رس میں۔ وہ ایسے سیاہ فام رہنماؤں کو پسند کرتا ہے جن سے وہ اندر کی خبر رکھ سکے۔ چونکہ ایلیا محمد نے اس کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا ہے اس لیے وہ ان سے نفرت کرتا ہے اور جب آپ اسے ایلیا محمد سے نفرت کرتے دیکھتے ہیں تو بغیر سوچے سمجھے آپ بھی اسے نسل پرست معلم نفرت یا ایسا سفید فام دشمن شخص سمجھنے لگتے ہیں جو سیاہ فاموں کی برتری کا مبلغ ہے……“
 جناب ایلیا محمد جنہیں ہم اپنے الفاظ میں اسلام کی کمزور، شریف اوربھوری بھیڑ“ کہتے تھے تشریف لاتے، مستعد، منتخب اور وفادار”ثمر اسلام“ کے محافظ انہیں حصار میں لیے ہوتے۔ جناب ایلیا محمد کی ٹوپی پر چاند، سورج اور ستارے اور اسلامی جھنڈا کڑھا ہوا تھا۔ تمام مسلمان توصیفی نعرے لگانے لگتے ”ننھی بھیڑ(Litte Lamb)“”السلام علیکم۔“”الحمدللہ۔“
 میری طرح حاضرین کی آنکھوں میں آنسو بھر جاتے۔ انہوں نے مجھے اس وقت بچایا جب میں مجرم تھا۔ اپنے گھر میں سگے بیٹے کی طرح میری تربیت کی۔ جب محافظ اسٹیج سے چند قدم دور رک جاتے اور ایلیا محمد تنہا سٹیج پر آتے تو سب وزراء آگے بڑھ کر ان سے ہاتھ ملاتے، گلے ملتے، میں اس لمحے جذبات کی انتہائی بلندی پر ہوتا۔ میں مائیکرو فون پر مشتاق سیاہ فاموں سے مخاطب ہوتا:
”میرے سیاہ فام بہنوں اور بھائیو! جب تک ہم خود کو نہیں پہچانیں گے ہمیں کوئی نہیں پہچانے گا۔ جب تک ہم اپنے مقام سے آگاہ نہیں ہوں گے منزل کا تعین نہیں کر پائیں گے۔ عزت مآب ایلیا محمد ہمیں ہماری شناخت اور مقام سے آگاہ کر رہے ہیں جو اس سے قبل امریکی سیاہ فام کے علم میں نہیں تھے۔ آپ محض دیکھنے سے ان کی قوت اور اختیار کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
 وہ اپنی طاقت کا اظہار یا نمائش نہیں کرتے مگر پورے امریکہ میں ایسا اور کوئی سیاہ فام رہنما نہیں ہے جس کے پیروکار اس کے کہے سے اپنی جان نثار کر سکتے ہوں۔ میرے سیاہ فام بہنوں اور بھائیو! اب آپ امریکہ کے انتہائی دانش مند سیاہ فام امریکہ کے بہادر ترین سیاہ فام، امریکہ کے انتہائی بے خوف سیاہ فام اور شمالی امریکہ کے اس ویرانے کے سب سے زیادہ طاقت ور سیاہ فام کو سننے جا رہے ہیں۔“
 جناب ایلیا محمد تیزی سے آگے آتے، ایک نگاہ خاموش سامعین پر ڈالتے اور کہتے ”السلام علیکم“ جواباً مسلمان بآواز بلند کہتے ”‘وعلیکم السلام‘ مسلمان سامعین تجربے کی بناء پر جانتے تھے کہ اگلے 2گھنٹوں تک ایلیا محمد سچائی کی دو دھاری تلوار بن کر خطاب کریں گے۔ ہر مسلم کو صرف یہ فکر تھی کہ اتنی لمبی تقریر سے ان کے دمے کے مرض پر برا اثر پڑے گا۔
”میرے پاس ایسی کوئی اعلیٰ ڈگری نہیں ہے جو مجھ سے قبل آپ سے مخاطب ہونے والے رکھتے تھے۔ لیکن تاریخ ڈگریوں کو درخور اعتناء نہیں سمجھتی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -