پنجاب ہتک عزت قانون کے سیکشنز 8,5,3 پر عملدرآمد عدالتی فیصلے سے مشروط 

  پنجاب ہتک عزت قانون کے سیکشنز 8,5,3 پر عملدرآمد عدالتی فیصلے سے مشروط 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 کے خلاف درخواست پر جسٹس امجد رفیق نے ہتک عزت قانون کے سیکشن 3، سیکشن 5 اور سیکشن 8 پر عملدرآمد عدالتی فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے پنجاب حکومت و فریقین سے بھی جواب طلب کر لیا،دوران سماعت ندیم سرور ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ یہ ایکٹ عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے کیخلاف ہے، ایکٹ کے مطابق چیف جسٹس 3 ججز کے نام بطور ٹریبونل تجویز کر سکتے ہیں، اگر حکومت چاہے تو ان ناموں کو رد کر کے نئے نام منگوا سکتی ہے،قواعد کے مطابق چیف جسٹس کی تجویز کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس پر عمل لازمی ہے جبکہ اس ایکٹ کے مطابق حکومت پنجاب ججوں کے نام بطور ٹریبونل تجویز کر سکتی ہے، ان تین ناموں سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ایک نام منتخب کر سکتے ہیں، ایسا کرنا قوائد کیبرخلاف  ہے، عدلیہ کے معاملات میں حکومت مداخلت نہیں کر سکتی ہے،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ٹریبونل حکومت کے حکم پر چلتے ہیں، عدلیہ کے حکم پر نہیں، جیسے سروس ٹریبونل اور بینکنگ ٹریبونل ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس ایکٹ کے مطابق ججز کی تنخواہ وغیرہ کا تعین حکومت کرے گی، یہ بھی عدلیہ کی آزادی کیخلاف ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ ہتک عزت قانون کیسے آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے؟ندیم سرور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس ایکٹ کے مطابق بغیر کسی ثبوت آپ کیسز کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں،عدالت نے کہا اگر آپ چیف منسٹر کو کسی بیان دینے پر عدالت میں لے آئیں تو یہ غلط بات ہے، جس پر ایڈووکیٹ ندیم سرور نے کہا تو چیف منسٹر جھوٹ نہ بولیں، وزیر اطلاعات پنجاب صبح سے شام تک جھوٹ بولتی ہیں، اس ایکٹ کے مطابق کیس کے فیصلے سے پہلے ہی ملزم 30 لاکھ جرمانہ ادا کرے گا، جس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے، تیز ترین انصاف کیلئے یہ ضروری ہے،سرکاری وکیل نے ہتک عزت ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں خصوصی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی پر حکومت اور لاہور ہائیکورٹ کی مشاورت ہوئی،عدالت نے ریمارکس دیئے اگر چیف جسٹس کچھ ناموں کی تجویز بھیجتے ہیں تو حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمارے فلاں وزیر کو یہ نام پسند نہیں ا?یا، یہ کوئی دکانداری یا سودے بازی ہے؟ وکیل درخواست گزار کا سوال ہے یہ ٹریبونل کیسے بن سکتا ہے؟ یہ بھی سوال ہے کہ حکومت اور چیف جسٹس کے درمیان مشاورت سے کیا مراد ہے؟

ہتک عزت قانون

مزید :

صفحہ آخر -