”معصوم ملازم“

       ”معصوم ملازم“
       ”معصوم ملازم“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 گزشتہ دنوں گل شیر نامی کم عمر لڑکا ایک برگر کی دوکان پر کام کرتے ہوئے ہاتھ منہ جلا بیٹھا۔ پہلے تو مالکوں کو پریشانی ہوئی۔ اسے مختلف ہسپتالوں میں علاج کے لئے لے جاتے رہے لڑکے کا درد سے برا حال تھا۔ جھگی والے اس کے والدین دوکاندار کے پاس آتے رہے اور دباؤ ڈالتے رہے علاج ہوتا رہا۔ مگر خدا کا قانون بھی حرکت میں آیا کہ وہ برگر کا کام کرنے والے کاروبار بند کر کے چلے گئے۔

اس سلسلے میں راقم نے چائلڈ لیبر کو جنوری 2021ء کو لیٹر لکھا تھا کہ والدین کے خلاف بھی مقدمہ درج کر دیا جائے چنانچہ انکا جواب آیا کہ یہ کام ہمارا نہیں ہے۔ 

کم سن بچے ہر جگہ کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے سوشل میڈیا پر ایک اندھی لڑکی اینٹیں بناتی ہوئی دیکھائی گئی۔ اینٹ پر کنگ لکھا ہوا تھا اس طرح کوڑے سے کھاتے ہوئے بچے اور سڑکوں، گلیوں، چوکوں میں ماں گود میں بچے اٹھائے ہوئے دیکھائی دیں گے۔ شاید ہال خاص طور پر ان کا ٹارگٹ ہیں۔ بارات آتی ہے ڈھول باجے کی آواز گونجتی ہے۔ معصوم بچے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ روپوں کی بارش ہونے لگتی ہے ہر بچے کے ہاتھ میں نئے نوٹ آ جاتے ہیں۔ اس میں بڑے بھی شامل ہو جاتے ہیں ملنگ سائیں نشتہ کرنے والے۔ ہٹے کٹے پیشہ ور بھکاری شامل ہو جاتے ہیں۔

والدین یا ان کے سرپرست ان کی راہ دیکھتے ہیں۔ پھر نوٹوں کو اپنے قابو میں کر لیا جاتا ہے۔ بچوں کی حالت دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ پاؤں میں چپل نہیں، کپڑے میلے پھٹے ہوئے چہرے دھوپ سے کالے۔ جسم کا کوئی حصہ معذور ہوگا۔ البتہ موٹر سائیکل ضرور چلاتے ہیں۔ ان پر عمر کی کوئی قید نہیں اب تو ایک لوہے کا ڈبہ سا لگا لیا ہے جو گڑای کا کام دیی ہے اس میں لوڈ کر کے اپنے بوڑھے والدین کو شہر کے مختلف چوکوں میں کھڑا کر دیتے ہیں۔مہنگائی نے اچھے اچھے حاتم طائی کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے پہلے ہر گھر والے مہینہ میں چاولوں کی دیگیں پکاتے تھے۔ اللہ کے نام کی تقسیم کر دیتے تھے۔ بڑی مشکل سے دیگ ختم ہوتی تھی۔ اب اس کام کو لنگر خانے سرانجام دے رہے ہیں۔ جس سے آبادی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی سوچ پہلے ہی اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے۔ باقی اسے بچوں کو تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ حضرت علیؓ کہتے ہیں یتیم وہ نہیں جس کے والدین نہیں بلکہ یتیم وہ ہے جس کی تعلیم و تربیت نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے ہم کدھر جا رہے ہیں۔ کیا اولاد کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ یا ملک کی خوفناک آبادی اور جہالت بڑھا رہے ہیں۔ 

عام آدمی کے بچوں کو نوکری مل جاتی ہے اگرچہ کم اجرت میں بچے کا مستقل تباہ کر دیا۔ نہ وہ ڈاکٹر سائنسدان، انجینئر، پائلٹ، سیاست دان بن سکا۔ البتہ مختلف ہوٹلوں، ورکشاپ، دوکانوں، گھروں، کارخانوں، مزدوری کرنے میں اسے لگا دیا گیا۔ اس کی پڑھنے لکھنے کی معصوم عمر کو محنت مشقت کے کاموں میں لگا دیا گیا۔آوارہ پھرنے کے موقع ملنے لگے مختلف جرائم میں ڈال دیا گیا۔ نشہ بھی کرنے لگے۔ مافیہ کا کام بھی چلنے لگا۔ اغوا، قتل، چوری، ڈاکہ کے واقعات بڑھنے لگے۔ اداروں کے کام بڑھنے لگے۔ جس سے کارکردگی متاثر ہونے لگی۔ عوام پریشان ہونے لگے۔ قوم و ملک کی ترقی کے لئے امن اور انصاف بہت ضروری ہے۔

کہانی شروع میں کم سن لڑکے گل شیر کی لکھی تھی۔ چائلڈ لیبر والے اس حادثہ سے پہلے بھی آئے تھے۔ انہوں نے بارہ ہزار جرمانہ بھی کیا تھا۔ جو ادا کر دیا گیا تھا مگر لڑکا اسی طرح برگر کی دوکان پر آگ اور تیل جلا کر کام کرتا رہا۔ آخر ایک دن غلطی ہو گئی آگ اور تیل نے کام دکھا دیا۔ اس کے ہاتھ منہ جل گیا۔ کچھ عرصہ علاج کے بعد ٹھیک ہو گیا مگر اس کے بچپن کے دن واپس نہیں ملے۔ وہ اسکول نہیں جا را اسے ایک تندور پر نوکری مل گئی ہے۔ والدین چکر لگاتے ہیں تندوری روٹی لے جاتے ہیں کیا اداروں کا کام جرمانے کرنا ہے یا مسئلہ بھی حل کرنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -