طاقت،سیاست اور جمہوریت

    طاقت،سیاست اور جمہوریت
    طاقت،سیاست اور جمہوریت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کچھ ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں جن سے یہ اْمید بندھی ہے کہ برف پگھلے گی، ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہو گا۔چند روز پہلے چیف جسٹس نے عمران خان کو مشورہ دیا تھا، وہ مذاکرات کریں اور حل کی طرف لے جائیں اب خبر آئی ہے کہ عمران خان نے چیف جسٹس کے اس مشورے کو مان کر سیاسی قوتوں سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، ابھی یہ ابتداء ہے، اس کے لئے بہت کچھ کرنا پڑے گا،کیونکہ اسی خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے عمران خان نے کچھ ایسے نکات اپنے وکلاء کو لکھوا دیئے ہیں، جن پر وہ مذاکرات سے پہلے عملدرآمد چاہتے ہیں۔ان میں سب سے اہم نکتہ تحریک انصاف کے گرفتار کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائی ہے۔ موجودہ فضاء میں یکطرفہ طور پر کچھ بھی نہیں ہو سکتا اس کے لئے دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔بات سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی ہے تو پھر سیاسی جماعتوں خاص طور پر حکومت میں شامل جماعتوں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بااختیار ہیں اور ایسا نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اُن پر حاوی ہے۔سب سے اہم بات تو یہ ہے فوری طور پر یہ تاثر دور ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف کے خلاف انتقامی کارروائیاں جاری ہیں،دو روز پہلے سارا دن سوشل میڈیا پر یہ بریکنگ نیوز چلتی رہی کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے لئے مرکزی دروازے پر موجود ہیں، مگر پولیس کی بھاری نفری انہیں اندر نہیں جانے دے رہی،اس  سارے واقعہ کو ویڈیوز  کے ذریعے لوگ دیکھتے رہے۔شام کو خبر آئی کہ عدالت نے عمر ایوب خان اور اُن کے ساتھیوں کی عدم پیشی پر ضمانتیں خارج کر دی ہیں، اب ایسی فضاء میں مفاہمت اور مذاکرات کی بات انہونی سی لگتی ہے۔عمر ایوب خان نے قومی اسمبلی میں پہنچ کر اپنی ساری روداد سنائی اور تحریک استحقاق بھی پیش کرنے کا اعلان کیا، اس قسم کی فضاء میں ویسے تو کسی بہتری کی اُمید رکھنا حماقت ہی لگتی ہے،مگر یہ بھی پیش ِ نظر رہے کہ خود مسلم لیگ(ن) کی قیادت یہ کہتی رہی ہے کہ عمران خان بات چیت کرنے کو تیار نہیں، وہ ملک کو چلتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ چند روز پہلے نواز شریف نے بھی یہ کہا وہ عمران خان سے بات کرنے کو تیار ہیں، لیکن وہ آمادہ نہیں ہیں،اب اس برف کے پگھلنے کی خبریں آئی ہیں تو اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئے، مگر کیا سیاسی قوتیں اپنے طور پر ایسے فیصلے کر سکتی ہیں؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کی رضا مندی کے بغیر یہ ڈیڈ لاک ختم ہو سکتا ہے؟ اگر عمران خان نے مذاکرات کا ایک ایجنڈا تیار کیا ہے تو سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کا بھی تو کوئی ایجنڈا ہو گا؟ اس خلیج کو پاٹنے کے لئے آغاز کہاں سے کیا جائے گا اصل سوال یہ ہے۔

ایک بات تو طے ہے اس وقت دونوں فریق ایک اَنا کی جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔عمران خان یہ سمجھتے ہیں اگر وہ اپنے موقف سے غیر مشروط طور پر پیچھے ہٹے تو اُن کی سیاست پر حرف آئے گا۔وہ یہ کہتے آئے ہیں کہ بے اختیار سیاسی قوتوں سے بات نہیں کریں گے،وہ بااختیار قوتیں جنہیں وہ ہینڈلرز بھی کہتے ہیں،سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔اب انہوں نے چیف جسٹس کے کہنے پر سیاسی قوتوں سے مذاکرات کی حامی بھری ہے تو اس کے لئے بھی وہ کچھ ایسے اقدامات چاہیں گے،جو اُن کے بارے میں اُس منفی پروپیگنڈے کو روکیں جو اپنے موقف سے ہٹنے،اور کسی ڈیل کا تاثر ابھارنے، مثلاً ذرائع کے مطابق انہوں نے مذاکرات کے لئے چند شرائط رکھی ہیں جن میں سیاسی انتقام کا خاتمہ، اُن کی پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائی، آٹھ فروری کے انتخابی نتائج پر جوڈیشل کمیشن کا قیام شامل ہیں۔اب ظاہر ہے ان باتوں پر مذاکرات تو ہو سکتے ہیں انہیں بطور شرائط اسٹیبلشمنٹ یا حکومت تسلیم نہیں کرے گی،خیر یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ فی الوقت تو عمران خان کے رویے میں آنے والی لچک سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔یہ تجویز تو سنجیدہ حلقے کئی بار پیش کر چکے ہیں، صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف آگے آئیں اور عمران خان سے ملاقات کر کے ملک میں جاری کشیدگی ختم کرنے کے لئے انہیں آمادہ کریں۔یہ بات بھی یکطرفہ طور پر کہی جاتی ہے کہ عمران خان مذاکرات پر آمادہ نہیں،جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کسی سطح پر بھی اُن سے مذاکرات کی عملی کوشش کی ہی نہیں گئی۔ایک رہنما جو پابندِ سلاسل ہے اور جس کی تصویر تک دکھانا ممکن نہیں ہوتا،اُس کے بارے میں کیسے کہا جا سکتا ہے وہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتا،اب تو چونکہ خود عمران خان نے ذرائع کے مطابق آمادگی ظاہر کر دی ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے۔نواز شریف یہ سرپرائز دیں کہ اڈیالہ جیل پہنچ جائیں۔ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تیسری بار وزیراعظم بننے پر مفاہمت اور خیر سگالی کا پیغام دے سکتے ہیں تو عمران خان سے کیوں نہیں مل سکتے؟

 اس حقیقت کو کھلے دِل سے تسلیم کیا جانا چاہئے کہ ملک اِس وقت ایک بحران کا شکار ہے۔طاقت کے ذریعے معاملات کو دبانے یا سنبھالنے کا طریقہ کبھی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا، کل سرگودھا کی ایک خاتون اسمبلی ایوان میں کہہ رہی تھیں کہ انہوں نے تحریک انصاف کا ورکرز کنونشن گھر کی چار دیواری میں کرایا،مگر پولیس نے دھارا بول دیا،توڑ پھوڑ کی اور کارکنوں کو گرفتار کر کے لے گئی۔ایک جمہوری دور میں اس قسم کی باتیں منفی تاثر کو جنم دیتی ہیں۔اسمبلیوں کے اندر کا ماحول بھی بے چین اور بے یقینی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی  ہر اجلاس میں ایک اکھاڑہ بنی رہتی ہیں۔ ایسے میں سیاسی استحکام کیسے آئے گا،آخر اس صورتحال کو کب تک برقرار رکھنے کا ارادہ ہے؟ کیا فیصلہ سازوں کو یہ اُمید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات نارمل ہو جائیں گے؟ اسی خیال میں مگن  رہ کر اگر ملک میں انتشار بڑھتا ہے۔عدم استحکام مزید گہرا ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ جب آپ اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جائیں کہ کچھ دن اور جیلوں میں بند رکھیں گے، جبر کی فضاء جاری رکھیں گے تو پھڑ پھڑانے والے پرندے ہتھیار ڈال دیں گے، پرواز بھول جائیں گے تو آپ ایک سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔اس دوران جو نقصان ہو رہا ہوتا ہے اُس پر آپ کی نظر ہی نہیں ہوتی،جو ہو گیا اُس سے آگے بڑھنے، باہر نکلنے کی ضرورت ہے یہ پہلا موقع نہیں کہ ملک ایک سیاسی بحران کی زد میں ہے۔ ہاں البتہ یہ پہلا موقع ضرور ہے اس بحران کو ختم کرنے کی بجائے اس امید پر طول دیا جا رہا ہے کہ طاقت جیتے گی، سیاست ہار جائے گی، حالانکہ ملک طاقت سے نہیں سیاست اور جمہوریت سے چلتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -