سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی مسلم لیگ(ن) سے باقاعدہ علیحدگی

 سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی مسلم لیگ(ن) سے باقاعدہ علیحدگی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

عید الاضحی کی آمد کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیوں میں نسبتاً کمی واقع ہوگئی ہے، عوام اور سیاستدان جانوروں کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ سے جانوروں کی خریداری میں زیادہ تیزی دکھائی نہیں دے رہی۔ کراچی میں کئی مقامات پر مویشی منڈیاں بن چکی ہیں، کاروباری طبقہ کے مطابق لائیو اسٹاک انڈسٹری کے لیے یہ ایک بہت بڑا موقع ہوتا ہے جس سے اس سے وابستہ افراد کی معیشت کا پہیہ تیزی سے چلتا ہے۔ اگرچہ صفائی ستھرائی کے حوالے سے بلدیہ کو مشکلات ہوتی ہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی کی جائے تو اس سے نمٹنا آسان ہے ناممکن نہیں۔ 

لائیو اسٹاک سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کا محکمہ لائیو اسٹاک انڈسٹری کیلئے مربوط اور منظم منصوبہ بندی کرے تو یہ کاروبار بھی ملک کو بہت یادہ زرمبادلہ دے سکتا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان کو حلال گوشت ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، کچھ اداروں نے چین کو بیف فروخت کیا ہے لیکن اس میں زیادہ زرمبادلہ کمانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں لاکھوں ایکڑ اراضی ویران پڑی ہے، دونوں صوبوں میں پیپلز پارٹی کے وزرائے اعلیٰ ہیں، جو لائیو اسٹاک انڈسٹری کے حوالے سے مشترکہ منصوبے بنا سکتے ہیں۔ اس سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے۔ 

صوبائی حکومت سندھ، بجٹ میں اپنی ترجیحات کا تعین کررہی ہے، خاص طور پر سیلاب سے متاثرین کے لیے آبادکاری ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کے لیے ایک روڈ میپ بھی ترتیب دیا ہے جس میں سماجی شعبہ میں خدمات کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام اور سولر سسٹم کو زیادہ اپنانے کے اقدامات خاص طور پر شامل ہیں۔سولر انرجی اور ونڈ انرجی، صوبہ سندھ میں قدرت کا خاص تحفہ ہے لیکن اس سے ابھی زیادہ استفادہ پرائیویٹ شعبہ نے ہی کیا ہے۔ حکومت سندھ کو خاص طور پر اندرون سندھ تعلیمی ادارے اور ہسپتال سولر انرجی پر منتقل کرنے چاہئیں۔ 

اسٹریٹ کرائمز پر عوامی حلقوں میں گہری تشویش پیدا ہوچکی ہے، شہر کراچی میں ڈاکوؤں کو پکڑ کر عوام نے بھی مارا ہے لیکن ڈکیت اسلحہ کے زور پر سامان چھینتے ہیں اور معمولی مزاحمت پر شہریوں کو قتل کررہے ہیں، حال ہی میں قتل ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر نوجوان تھے، جس سے عوام میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔سندھ اسمبلی میں بھی اس کی گونج سنائی دی گئی، اپوزیشن لیڈر نے بھی، صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حکومت سندھ دعویٰ کررہی ہے کہ وہ اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن حقیقت میں وہ اس میں ناکام ہیں۔ 

سابق گورنر سندھ، محمد زبیر نے مسلم لیگ ن سے اپنی راہیں جدا کرلی ہیں، وہ کچھ عرصہ سے پارٹی پالیسیوں پر تنقید بھی کررہے تھے، میاں نواز شریف کی واپسی کے بعد سے وہ زیادہ قریب نہیں تھے، مسلم لیگ کی حکومت بننے کے بعد بھی وہ پارٹی کی اعلیٰ میٹنگز میں بلائے نہیں جاتے تھے، اب انہوں نے باقاعدہ علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان سے پہلے ایک اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان بھی سیاسی طور پر متحرک ہونے کا اعلان کرچکے ہیں۔ 

معروف سوشل ورکر صارم برنی کو امریکہ واپسی پر گرفتار کرلیا گیا تھا، ان پر الزام تھا کہ وہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ ایف آئی اے اُن سے تفتیش کررہی ہے، صارم برنی اور ان کے وکلاء پُر اعتماد ہیں کہ وہ اس مشکل سے باہر نکل آئیں گے لیکن ایک سوال اٹھتا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور کیوں ہے؟ صارم برنی کو، امریکہ کی شکایت پر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ہمارا اپنا نظام اس قدر کمزور کیوں ہے؟ ہم خود کیوں نہیں ان معاملات کو دیکھ پاتے جس سے کوئی ادارہ، کسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو۔ 

امریکہ میں حالیہ جاری T20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم مسلسل دوسری شکست سے دورچار ہوئی ہے۔ امریکہ سے پہلے میچ ہارنے کے بعد امید کی جارہی تھی کہ بھارت کے خلاف اچھا کھیل پیش کیا جائے گا لیکن نتیجہ پاکستان کے خلاف آیا۔ اس پر پوری قوم افسردہ ہوئی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تمام تر مشکلات اور اختلافات کے باوجود پاکستانی اپنے ملک کی جیت پر مل کر خوشی مناتے ہیں اور ہار پر بھی پوری قوم افسردہ ہوجاتی ہے۔ پاکستانی قوم میں بہت جذبہ ہے اگر اسے درست سمت مل جائے تو ایک عظیم قوم بن سکتی ہے۔ 

٭٭٭

 سندھ کا صوبائی بجٹ، توقعات اور امیدیں، بلاول کی ہدایت، کیا عوام دوست ہوگا؟

 صارم برنی امریکی شکایت پر گرفتار، انسانی سمگلنگ کا

 الزام، صارم برنی کی تردید، وکلاء مطمئن!

 پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل دوسرے میچ میں 

 ناکامی سے عوام مایوس

مزید :

ایڈیشن 1 -