میری ماتحت مصری خاتون بہت ہی زندہ دل تھی، جہاں سے گزرتی لوگ پیٹ پکڑ کر ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو جایا کرتے، وہ شرارتی ہی اتنی تھی

 میری ماتحت مصری خاتون بہت ہی زندہ دل تھی، جہاں سے گزرتی لوگ پیٹ پکڑ کر ہنستے ...
 میری ماتحت مصری خاتون بہت ہی زندہ دل تھی، جہاں سے گزرتی لوگ پیٹ پکڑ کر ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو جایا کرتے، وہ شرارتی ہی اتنی تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:299
  پھراگلے8 سال اتنی تیزی سے گزرے کہ احساس ہی نہ ہوا کہ ایک زمانہ بیت گیا تھا۔پہلے سے کی گئی پیش گوئیوں کی طرح زندگی ایک ہی ڈگر پر چلی جا رہی تھی، کچھ بھی تو نیا نہیں ہو رہا تھا۔وہی روز مرہ کے معمولات زندگی تھے جس میں کبھی کبھار یاسیت کے دورے بھی پڑتے، گھر اور وطن بہت یاد آتا تھا، کبھی فخر اور سکون بھی محسوس ہوتا تھا کہ اللہ نے اپنی کمال مہربانی سے ہمیں اتنی نعمتوں سے نوازا تھا اور ہمارے لیے ایسی جگہ سکونت کے اسباب پیدا کیے جہاں ایک اچھی زندگی تھی اور سب سے بڑھ کے یہ کہ اس کا اپنا گھر اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیارا شہر بھی اپنی پہنچ میں تھا۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی پر کرم فرماتا ہے تو یا تو اس بندے کے اعمال اچھے ہوتے ہیں یا پھریہ اس کا اپنا فضل و کرم ہوتا ہے۔ جہاں تک اعمال اچھے ہونے کی بات ہے تو اس کا خود مجھ سے زیادہ کسے علم ہو گا، سوچتا ہوں تو سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ یہ یقینا اس کا کرم ہی تھاکہ کروڑوں لوگوں میں سے ہمیں چنا گیا اور کسی ان دیکھی مگر مہربان طاقت نے ہمارے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر کہا کہ ”تم آ جاؤ!! تم آؤاور تم بھی آ جاؤ، اور جاؤ آج کے بعد ہم نے تم کو اپنی عنایتوں کے چن لیا،تم پر اپنی نعمتوں کی بوچھاڑ کر دی ہے اور رحمتوں کے دروازے تمہارے لیے کھول دیئے گئے ہیں۔“ اس نے تو اپنا کہا پورا کر دیایہ ہم ہی تھے جو اس کے احسان کا حق ادا نہ کر سکے اور ہمیشہ شرمندگی کا بوجھ اٹھائے اور منہ چھپائے پھرتے رہے۔
چھوٹے بڑے غم
جب میں ہسپتال میں آیا تھا تو ٹھیک ایک ہفتے بعد ہسپتال کے4 پاکستانی نوجوان، جن میں سے3 سگے بھائی تھے، اپنی والدہ کے ساتھ مکہ سے واپس آتے ہوئے ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہو گئے۔ ان لڑکوں کو میں نے صرف ایک ہی دفعہ کیفے ٹیریا میں دیکھا تھا، سرخ و سفید لمبے تڑنگے ایک جیسے خوبصورت نوجوان تھے۔ چوتھا اور سب سے چھوٹا بھائی بھی ساتھ ہی گیا تھا لیکن وہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے وہیں رہ گیا تھا اور اس کی جگہ موت کا یہ سفر اس کے ایک دوست نے قبول کر لیا۔ یوں گاڑی کے پانچوں سوار ایک ساتھ ہی دنیا چھوڑ گئے۔ بہت بڑا صدمہ تھا، اب اتنے بڑے خاندان کے کل 6 افراد میں سے صرف 2 لوگ ہی باقی رہ گئے تھے۔ بوڑھا باپ شدید صدمے کی حالت میں بار بار یہی کہتا تھا کہ میں اور میرا بیٹا، ہم تو دونوں ہی تنہا رہ گئے ہیں۔
آخری سالوں میں بھی ایک دو ایسے ہی صدمے اور بھی دیکھے، جس کو محسوس کر کے دنیا کی بے ثباتی کا بُری طرح احساس ہوا۔ زندگی کابظاہر کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا تھا اور آتا بھی کیسے کبھی سمجھنے کی کوشش بھی تو نہیں کی تھی۔
میری ایک ماتحت مصری خاتون ہادیہ تھی جو بہت ہی زندہ دل تھی، وہ جہاں سے گزرتی لوگ پیٹ پکڑ کر ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو جایا کرتے تھے، وہ شرارتی ہی اتنی تھی۔ شوہر سے علیٰٰحدگی کے بعد وہ اپنی دو ننھی منی جڑواں بچیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ سب کی طرح اس نے بھی پیسہ پیسہ جمع کر کے قاہرہ کے مضافاتی علاقے میں اپنے خوابوں کا ایک چھوٹا سا محل تعمیر کیا، اسے خوب سجایا اور ابھی وہ جانے کی تیاری کر ہی رہی تھی کہ اس میں سینے کے کینسر کی تشخیص ہوئی، قدرتی طور پر یہ ایک بہت بڑا ذہنی جھٹکا تھا، لیکن اس نے بڑی جرأت سے اسے سنبھال لیا اور ہمت نہ ہاری۔ ایک مسلسل اور تکلیف دہ علاج سے گزر کر وہ صحت یاب ہوئی اور اپنی ملازمت پر لوٹ آئی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -