اضافی کوششوں اور زیادہ کام کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنا ہدف حاصل کر لیا، کنسلٹنگ فرم کو پہلی ادائیگی ہوگئی، بلیک لسٹ ہونے کا خطرہ بھی ٹل گیا 

اضافی کوششوں اور زیادہ کام کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنا ہدف حاصل کر لیا، ...
اضافی کوششوں اور زیادہ کام کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنا ہدف حاصل کر لیا، کنسلٹنگ فرم کو پہلی ادائیگی ہوگئی، بلیک لسٹ ہونے کا خطرہ بھی ٹل گیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:130
انعام اور ان کے خاندان کے علاوہ وسیمہ کے بھی بہت سارے عزیز یہاں رہتے تھے۔ جن میں اس کی بہن عابدہ راس الخیمہ میں رہتی تھی جب کہ ان کا ایک بھتیجا مبشر دوبئی میں رہائش پذیر، اپنا کاروبار کرتا تھا۔ وہ ہمارے ہوٹل کے بہت نزدیک رہتا تھا۔ انعام منیزہ اور اپنے  بچوں  کے علاوہ عاشی اور اپنے پوتے پوتیوں عبداللہ اور ماریہ کے ساتھ رہتا تھا۔ مجھے اپنی گاڑی کی ضرورت تو نہیں تھی۔ کیونکہ میں سب جگہ آسانی سے پہنچ سکتا تھا۔ دوبئی کا ٹیکسی سسٹم بہت ہی جدید اور مؤثر انداز میں کام کرتا تھا۔ پھر بھی میرے دل میں آیا کہ میں بھی برانڈڈ کار خریدوں اور کچھ دن اس میں عیاشی کروں۔ بالآخر میں نے ایک پرانی  BMW گاڑی خرید لی۔ 
کام کی طرف بھی تھوڑی ہل جل ہوئی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ اور کام کی یہ رفتار میرے لیے اطمینان کا باعث تھی۔ میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ میں اس پروجیکٹ کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ دسمبر 1998 کے تیسرے ہفتے تک جمع کروا دوں گا۔ یہ ایک مشکل ہدف تھا لیکن میں نے اپنا ہدف خود مقرر کیا تھا۔ جب میں نے پروجیکٹ کو رفتار پکڑتے دیکھا اور جم میں اپنی ورزش کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا تو قدرتی طور پر میرے ذہنی تناؤ میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ اور یوں حاصل ہونے والی توانائی کو میں نے کام کی طرف موڑ دیا۔ میں نے دوبئی کی حکومت کے مختلف اداروں کے ساتھ ملاقاتیں جاری رکھیں تاکہ مجھے ان کی حکمت عملی اور ترجیحات کا اندازہ ہو سکے۔ اپنی اضافی کوششوں اور زیادہ کام کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے اپنا ہدف حاصل کر لیا۔ میں نے حسب وعدہ اپنی پہلی رپورٹ دسمبر 1988کے تیسرے ہفتے میں جمع کروا دی جو میونسپلٹی حکام نے منظور کرلی اور یوں اس کنسلٹنگ فرم کو پہلی ادائیگی بھی ہوگئی۔ کمپنی کے بلیک لسٹ ہونے کا خطرہ بھی ٹل گیا تھا جس کی وجہ سے نوفل اور فرم کی اعلیٰ انتظامیہ بہت خوش تھی۔
 عمر نے دسمبر کے آخر میں اپنی گریجویشن مکمل کرنا تھا۔ اور وسیمہ کا مشورہ تھا کہ مجھے اس تقریب میں شرکت کرنا چاہئے۔ میں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ اس کی زندگی میں ایسے اہم موقع پر میں وہاں موجود ہوں۔ امریکہ میں اپنی گریجویشن پر اس کمی کو میں نے شدت سے محسوس کیا تھا۔کام میں پہلے ہدف کی تکمیل، کچھ فراغت اور سکون ملتے ہی میں شکاگو کے لیے پرواز کر گیا۔ ائیرپورٹ پر عمر اور توفیق مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ میں نے عمر اور اپنے لیے نئے سوٹ خریدے اور توفیق کے گھر رات گزار کر اگلی صبح پورڈیو یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوئے جو وہاں سے 123 کلو میٹر دور تھی جو کوئی 2گھنٹے کا سفر تھا۔ یہ پبلک ریسرچ یونیورسٹی ہے جو ایڈوانس سائنس، انجنیئرنگ، ٹیکنالوجی اور حساب کی بہترین تعلیم کے حوالے سے دنیا بھر میں بڑی جانی پہچانی جاتی ہے۔ یہ 1869 میں ایک کالج کی حیثیت سے قائم ہوئی تھی جس کے لیے زمین اور پیسہ ایک کاروباری شخصیت جان پورڈیو نے عطیہ کیا تھا۔ عمر نے الیکٹریکل انجنیئرنگ میں گریجویشن کی تھی۔ میں اس تقریب میں شامل تھا جو یہاں کے مرکزی ہال میں منعقد ہو رہی تھی۔ اور اپنے بیٹے کو یہ ڈگری وصول کرتے ہوئے دیکھ کر بڑا فخر محسوس کر رہا تھا۔ پرڈیو یونیورسٹی کے کیمپس میں رات گزارنے کے بعد ہم شکاگو لوٹ آئے۔ جو اپنے شدید سرد موسم کی وجہ سے بہت مشہور ہے، شہر میں داخل ہوتے ہی ہمیں یہ مصیبت آن پڑی تھی کہ عمر راستہ بھول گیا کیونکہ اس وقت شدید برف باری ہو رہی تھی۔ یہ رمضان کے دن تھے اور ہمیں توفیق کے بڑے بھائی فاروق کے گھر افطاری پر پہنچنا تھا لیکن اس خراب موسم کی وجہ سے ہم 2 گھنٹے تاخیر سے وہاں پہنچے۔ ان کے گھر کے گرم گرم اور آرام دہ  ماحول میں پہنچے تو جان میں جان آئی۔ میں ان لوگوں سے ایک لمبے عرصے بعد مل رہا تھا اس لیے ہم گپ شپ سے بہت محظوظ ہوئے اور بہترین کھانا بھی کھایا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -