جدائی کے بعد ہم دوبارہ یکجا ہو چکے ہیں، اس کے روئیے میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوچکی ہے، گھر ہو یا باہر، میری تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہے

 جدائی کے بعد ہم دوبارہ یکجا ہو چکے ہیں، اس کے روئیے میں ڈرامائی تبدیلی رونما ...
 جدائی کے بعد ہم دوبارہ یکجا ہو چکے ہیں، اس کے روئیے میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوچکی ہے، گھر ہو یا باہر، میری تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:117
غالباً،ایک نفسیاتی اثر یا عمل کے ذریعے بدن کو جس قدر نقصان پہنچتا ہے، اس قدر نقصان کسی دیگر اثر باعمل کے سبب نہیں پہنچ سکتا۔ اس حوالے سے 2 مثالیں پیش ہیں: 
ولما ایس (Wilma S) ایک ایسے مسئلے کے ضمن میں مجھ سے ملاقات کے لیے آئی جو اس اور اس کے خاوند چارلی کے درمیان وجہ نزاع بنا ہوا تھا۔ اس نے اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ”میں جو بھی کام کرتی ہوں، چارلی ہر کام میں کیڑے نکالتا رہتا ہے اور مجھے احساس دلاتا رہتا ہے کہ میں بیوقوف ہوں اور کوئی بھی کام نہیں کر سکتی۔ وہ مجھے احمق اور بدھو ثابت کرنے کے لیے جو کچھ بھی اس سے بن پڑتا ہے، کرتا ہے۔“
میں نے ولما سے کہا کہ اس حوالے سے کسی خاص واقعے کا تذکرہ کرے تو پھر اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”گذشتہ ہفتے ہم نے کچھ دوستوں کو لنچ پر مدعو کیا ہوا تھا۔ اشیائے خورو نوش میں سے ایک ”شے“ بھرے ہوئے انڈے تھے۔ پھر چارلی، مہمانوں سے یہ کہے بغیرنہ رہ سکا ”انڈے کا سالن بنانے کے لیے ایک سو طریقے ہیں لیکن وملا کو شاید ایک ہی طریقہ معلوم ہے، اگر آپ اسے ہضم نہ کرسکے تو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ پھر وہ ہنستے ہنستے کہنے لگا۔
”واش روم (بیت الخلاء) اس ہال کے بالکل نیچے واقع ہے۔“
ولما نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا: ”اس قسم کے واقعات ہر وقت پیش آتے رہتے ہیں۔ چارلی مجھے یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ میں گھریلو ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کی ماں کی دیکھ بھال اور نگہداشت کر سکتی ہوں حالانکہ میں تمام وقت گھر کا کام کاج ہی کرتی رہتی ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے احمقانہ حرکتوں کے سوا کچھ نہیں آتا، جو لباس بھی میں پہنوں، وہ مذاق اڑانا شروع کر دیتا ہے، اس کے پاس میرے بارے میں اچھے الفاظ شاید ختم ہو چکے ہیں۔“
میں نے پوچھا ”تمہارے نزدیک اس مسئلے کا حل کیا ہے؟“
اس نے کہا ”میں اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کر سکتی، جیسا کہ تمہیں توقع ہوگی، ہم ایک دوسرے سے بہت زیادہ لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر میں نے گذشتہ رات اسے کہہ دیا ”یا تو تم مجھے بیوقوف بنانا اور سمجھنا چھوڑ دو، اور یا پھر میں یہ گھر چھوڑ کر جارہی ہوں۔“
اس گفتگو کے بعد میری ملاقات 5 ماہ تک نہیں ہوئی، لیکن 5 ماہ بعد میری ولما سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگی ”اپنی اور تمہاری گفتگو کے بعد میں جلد ہی چارلی کو چھوڑ کر چلی گئی۔ چارلی کو یہ سب کچھ پسند نہیں تھا۔ لیکن اس میں اتنی ہمت اور حوصلہ موجود تھا کہ اس نے ہمارے پادری سے کئی دفعہ بات چیت کی، مجھے صحیح طرح نہیں معلوم کہ پادری نے اس سے کیا کہا لیکن جدائی کے بعد ہم دونوں دوبارہ یکجا ہو چکے ہیں۔ میرے متعلق اس کے روئیے میں ڈرامائی تبدیلی رونما ہوچکی ہے، وہ ہر جگہ گھر ہو یا باہر، میری تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہے۔ وہ مجھے یہ احساس دلاتا ہے کہ میں دنیا کی ذہین ترین اور خوبصورت ترین عورت ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔“
خواہ اس پادری (مشیر) سے چارلی سے خواہ کچھ بھی کہا ہو لیکن بلاشبہ اس نے چارل کو یہ ضرور کہا ہوگا کہ اگر دلما کا دل اور محبت جیتا چاہتا ہے، اگر اس کی خواہش ہے کہ ولما اس کی عزت کرے اور اس پر اپنی جان نچھاور کردے تو پھر چارلی کو چاہیے کہ اسے ولما کی اس بناء پر تعریف و توصیف کرنی چاہیے کہ وہ بہت ذہین اور باصلاحیت عورت ہے اور اسے یہ احساس نہ دلائے کہ وہ اسے بیوقوف اور احمق سمجھتا ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -