امت مسلمہ کو یکجا کرنے کی ترکی کی کوششیں اور پاکستان

امت مسلمہ کو یکجا کرنے کی ترکی کی کوششیں اور پاکستان
امت مسلمہ کو یکجا کرنے کی ترکی کی کوششیں اور پاکستان

  

ترکوں نے دنیا پر کئی صدیوں تک حکومت کی ہے ، سلطنت عثمانیہ کی وسعت ایشیا، افریقہ اور یورپ تک تھی۔یہ مسلمانوں کی واحد آخری نمائندہ حکومت اور خلافت تھی،جس کی چھتری تلے مسلمان متحد، یکجا اور اکٹھے تھے۔عثمانی خلیفہ مسلمانوں کی وحدت کا علمبردار تھا اور ترکی روحانی مرکز کا درجہ رکھتا تھا۔ترکوں کی اسلام کے لئے خدمات سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں،وہ جہاں بھی گئے ،جو علاقے بھی فتح کئے، سب سے پہلے وہاں مسجد بنائی ،جو اسلام اور مسلمانوں کے روحانی مرکز اور عبادت گاہ کا درجہ رکھتی تھی۔مسلمان خلافت اور ترکوں کی وجہ سے اپنے آپ کو محفوظ اور متحد سمجھتے تھے.... پہلی جنگ عظیم (1918ئ۔1914ئ) میں اتحادیوں نے جرمنی اور ترکی کی شکست کے بعد ان کو آپس میں تقسیم کرنے اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا پروگرام بنا لیا تھا۔ترکی میں خلافت ختم کردی گئی اور مسلمانوں کی وحدت پارہ پارہ ہوگئی۔ خلافت کے ختم ہوتے ہی مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنا شروع ہوگئے اور ترکی کو ”یورپ کا مرد بیمار“ کہاجانے لگا۔

کہتے ہیں کہ گم شدہ چیز وہیں سے ملتی ہے ،جہاں یہ گم ہوئی ہو اور ہرچیز کاآغاز،عروج اور پھر زوال ہوتا ہے۔اگر اس حوالے سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کی وحدت اور خلافت ترکی میں ختم ہوئی تھی ،وہیں سے ایک دن مسلمان یکجا ہو کر اٹھیں گے۔چودہویں صدی کے آغاز میں ترکوں کی فتوحات کا آغاز ہوا۔1453ءمیں استنبول فتح ہوا اور 15ویں اور 16ویں صدی میں ان کا عروج ہوا۔پھر 17ویں اور اٹھارہویں صدی میں ان کا زوال شروع ہوا ،پھر خلافت بھی ختم کی گئی اور سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ ایک بار پھر 21ویں صدی میں ترکوں نے اٹھنا شروع کردیا ہے اور ترقی و خوشحالی، نیز مسلمانوں کو یکجا کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ترکوں کے دلوں میں اسلام اورمسلمانوں کے لئے بے حدمحبت، عقیدت اور تڑپ موجود ہے۔وہ اپناشاندار ماضی نہیں بھولے، اب بھی اپنے آباﺅ اجداد پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کے کارنامے ان کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔

گزشتہ عشرے سے ایک بار پھر ترکوں اور ترکی نے دنیا کے منظر نامے پر ابھرنا شروع کر دیا ہے۔ ترکی کی معیشت، اقتصادیات، معاشرت، سیاست، تعلیم، صحت، سیاحت غرض بہت سے شعبوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ترقی میں ترکی نے بہت سے یورپی ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔سب سے اہم چیز جو دیکھنے میں آ رہی ہے ، وہ ترکی کی مسلم ممالک کو یکجا کرنے کی کوششیں ہیں۔ فلسطین، کشمیر، عراق، افغانستان، سوڈان اور افریقہ کے قحط زدہ غریب مسلمان ممالک، مصر، لیبیا، تیونس، یمن، شام غرض جہاں جہاں بھی مسلمان مشکل میں ہیں،ترکی نے نہ صرف وہاں امداد بھیجی،ان کے مسائل کو اجاگر کیا، بلکہ اقوام متحدہ، اسلامی ممالک کی تنظیم(او آئی سی) اور یورپین یونین سمیت ہر جگہ اپنی سیاسی،اخلاقی، سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے ،اس کے علاوہ اقوام عالم کی توجہ مسلم دنیا کو درپیش مسائل کی جانب مبذول کروائی ہے اور ان مسائل کے حل پر ہمیشہ زور دیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مسلمان ملکوں کے آپس کے مسائل کو حل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان، افغانستان، فلسطین، مصر، لیبیا، شام ،یمن،بوسنیا،سوڈان، عراق، تیونس سمیت کئی مسلمان ملکوں کے درمیان ثالثی کاکردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ دنوں ترکی کے وزیرمذہبی امور ڈاکٹر محمد گورمز کی زیر صدارت اسلامی ممالک کی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس استنبول میں ہوا۔اس اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام مسلم ممالک میں عید ایک ہی روز ہونی چاہیے کہ خوشی کا تہوار سب مسلمان اکٹھے ہوکر گزار سکیں،اس سے دنیا میں ان کے اتحاد و اتفاق کا بھی مظاہرہ ہوگا۔ اس اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تین تین علیحدہ عیدیں مسلمانوں کے لئے مناسب نہیں ہیں، لہٰذا مشترکہ کیلنڈر کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ تمام دینی و مذہبی تہوار تمام اسلامی دنیا میں اکٹھے منائے جا سکیں۔

میانمار کے رو ہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ہو یا غزہ کے محصور فلسطینیوں تک خوراک پہنچانے کا مسئلہ، شام، کینیا،مصر، بوسنیا، عراق اور تیونس کے مہاجرین کی نگہداشت، افغانستان میں قیام امن کا مسئلہ ہو یا سوڈان میں خانہ جنگی، ایتھوپیا،کینیا اور افریقہ کے غریب قحط زدہ لوگ، پاکستان میں سیلاب ہوں یا زلزلے ، انڈونیشیا میں سونامی ہو یا کہیں اور مشکل، ترکی کی حکومت،عوام اور امدادی تنظیمیں سب سے پہلے امداد اور حمایت کو پہنچتی ہیں۔ ترکوں کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کے مسائل، غربت،جہالت اور نفاق ان کے لئے باعثِ تکلیف ہیں اور یہ ان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی مدد کریں۔جیسا کہ ان کے اباﺅ اجداد نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا تھا، لہٰذا وہ بھی یہ کوششیں کررہے ہیں کہ تمام مسلمان ممالک کو یکجا کریں۔ترکی مسلمان ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ آپس میں تجارت، سیاحت،تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کا تبادلہ کریں۔ایک دوسرے کے وسائل اور ترقی سے فائدہ اٹھائیں۔ اپنے اپنے تجربات کو آپس میں شیئر کریں۔

اس وقت ترکی وہ واحد ملک ہے،جو اسرائیل، یورپ،امریکہ ،روس،فرانس اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتا ہے۔اس کی معیشت، سفارت، تجارت، سیاست ، تعلیم، تجربہ اور ٹیکنالوجی دنیا کا مقابلہ کرسکتی ہے، اگر دیگر مسلمان ممالک بھی ترکی کی طرح مضبوط ہو جائیں تو مسلمانوں کا پلڑا بھی بھاری ہو سکتا ہے اور وہ بہتر طریقے اورخودداری کے ساتھ دنیا میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ترکی کے تجربات اور ترقی سے فائدہ اٹھایا جائے اور اسلامی ممالک کو یکجا کرنے کی ان کوششوں میں اس کا ہاتھ بٹایا جائے....پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی طاقت والا ملک ہے۔اس کے افراد بہت ذہین اور محنتی ہیں۔ہمارے وسائل بے پناہ ہیں۔ اسلامی دنیا میں اپنے منفرد مقام اور کردار کے لئے پاکستان اور پاکستانیوں کو آگے بڑھنا ہوگا اور ترکی کے ساتھ مل کر اسلامی ممالک کو مضبوط اور یکجا کرنے کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی،تبھی ہم دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کر پائیں گے۔      ٭

مزید :

کالم -